Thursday, January 31, 2019

Hum zinda Qaum hey ہم زندہ قوم ہیں



آج بہت دنوں بعد قلم اٹھا رہی ہوں ۔ وجہ کچھ ملکی حالات کا ناسازگار ہونا ہے۔ ملک میں کیا چل رہا ہے کچھ سمجھ نہیں آ رہی۔ مہنگائی ہے کہ بڑھتی ہی چلی جارہی ہے۔ سہولیات کا فقدان دن بدن بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ غربت کی لکیر کم ہونے کی بجائے بڑھتی جارہی ہے۔ قرضوں کے بوجھ تلے دم گھٹتا جا رہا ہے۔ ملک میں کوئی بڑا پراجیکٹ ،کوئی بڑا تعمیری کام ہوتا نظر نہیں آرہا ۔ جو پراجیکٹس پچھلی حکومت کے تھے وہ بھی یا روک دئیے گئے یا انکی رفتار سرمایہ نہ ہونے کی وجہ سے انتہائی سست ہو گئی۔ ڈالر کی پرواز راکٹ کی طرح اوپر اور اوپر کی طرف رواں دواں جبکہ روپیہ ہے کہ گرتا ہی چلا جا رہا ہے۔ ملک میں سرمایہ کاری صفر ہوگئی ہے۔ بڑے بڑے صنعتکار اور سرمایہ دار ملک میں سرمایہ کاری کرنے کی بجائے ایسے ممالک کا رخ اختیار کر رہے ہیں جہاں انہیں آسان شرائط کے ساتھ سرمایہ کاری کرنے کی سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ لاء این آرڈر کی سچوئشن سب کے سامنے ہے۔ دن دیہاڑے سڑک پر حکومتی اہلکار معصوموں کو سر عام گولیاں مار دیتے ہیں۔ اور کوئی آواز اٹھانے والا نہیں۔ معصوم بچیاں دن رات ہوس کے پجاریوں کی بھینٹ چڑھ رہی ہیں.  لیکن کوئی سو موٹو نہیں آتا۔ کوئی مذمتی بیان حکومت کی طرف سے نہیں آتا۔ "ملزموں کی تلاش جاری ہے " جیسا جملہ سننے کو ملتا ہے۔ آئے دن غریب ملازمین کو نوکریوں سے فارغ کیا جا رہا ہے۔ بے روزگاری کا عفریت ہماری نوجوان نسل کو نگلنے کے در پے ہے۔ ٹیلنٹڈ ، ذہین ، قابل لڑکے لڑکیاں ملازمتوں کی تلاش میں در بدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ کلاس فور کی پوسٹ کے لئے پی ایچ ڈی/ ایم اے پاس  حضرات اپلائی کرتے ہیں ۔ کیا المیہ ہے۔ پچھلے اکہتر سالوں میں بھی ہم نے کوئی بہت کمال نہیں کئے نہ ہی کوئی بہت آئیڈیل دورگزارے لیکن اس سے پہلے ملک کی یہ حالت دیکھنے کو کبھی نہی ملی۔   انصاف کا نعرہ لگانے والے انصاف کی تقسیم میں عدل سے کام نہیں لے رہے۔ انتقامی کارروائیاں جاری ہیں۔ بجلی ، گیس  کے نرخ تو بڑھا دئے گئے لیکن لوڈشیڈنگ نے زندگی محال کر دی۔ سخت سردی میں صبح اور شام کے وقت گیس اور بجلی کا نہ ہونا، نہ صرف تکلیف دہ ہے بلکہ قابل مذمت بھی ہے ۔ ان تمام باتوں کا ذمہ دار کوئی ایک نہیں  ہے بلکہ ہم سب اجتماعی طور پر اس جرم میں برابر کے شریک ہیں۔تمام سٹیک ہولڈرز  کا حصہ اس جرم میں بدرجہ اتم موجود ہے۔ حکومتی نمائندے ہوں یا حزب اختلاف سےسیاستدان، انتظامیہ ہو، بیوروکریسی ہو، قانون ساز ادارے ہوں ،قانون نافذ کرنے والے ادارے ہوں ،محکمے ہوں ، سرکاری و غیر سرکاری ادارے ہوں یا عوام ہوں سب قصور وار ہیں ملک کو اس حال میں پہنچانے کے لئے۔   
کوئی مسئلہ اٹھتا ہے سب سے پہلے گریبان سیاستدان کا پکڑا جاتا ہے۔ یہ درست ہے کہ وہ بھی کہیں نہ کہیں ذمہ دار ہوتے ہیں۔  لیکن ایک عوامی نمائندہ اپنے علاقے کے لوگوں کو ہر طرح سے سہولیات بہم پہنچانے کی کوشش کرتا ہے۔ ۔اسکا یہ کام نہیں کہ انتخابات کے وقت تو عوام کو سبز باغ دکھائے اور وقت آنے پر حلقے سے ہی غائب ہو جائے اور بیرونی دوروں کے مزے لوٹے۔ بلکہ اپنی عوام کیساتھ انکے مشکل وقت میں سیسہ پلائی دیوار کی مانند ہر نا انصافی اور مشکل کےخلاف ڈٹ جائے۔ انکو یہ اعتماد دے کہ وہ انکا صحیح نمائندہ ہے۔ لیکن بدقسمتی سے چند ایک لوگوں کو چھوڑ کر ایسا نہیں ہوتا۔ ہر کوئی اپنے مفاد کو مدنظر رکھتا ہے۔
اگر مثال انتظامیہ کی لوں تو وہ کام تو کر رہی ہے لیکن اتنے پر اثر انداز میں نہیں جو اسکا فرض ہے ۔ اگر خوش قسمتی سے ضلع کا اعلیٰ افسر کوئی محنتی  اور ایماندار شخص آ جائے تو اسے چند دن بھی ٹکنے نہیں دیا جاتا۔ نہ صرف سیاستدان اسکے پیچھے ہو سکتے ہیں بلکہ محکموں میں پورے پورے مافیا موجود ہیں جو ان افسران کو وہاں ٹکنے نہیں دیتے۔ بعض اوقات کچھ افسران بھی شاہانہ مزاج کے حامل ہوتے ہیں اور اپنے عوامی نہ ہونے کی وجہ سے پر فارم نہیں کرتے۔
محکموں کی مثال پیش کروں تو دل درد سے بھر جاتا ہے ۔ اتنے بڑے محکمے ، انمیں قابل لوگ، خدمت کے پیش نظرآنیوالے لوگ ، ایماندار لوگ جو بڑے شوق سے جذبہُ خدمت لیکر ان محکموں میں آتے ہیں.  لِیکن  کچھ عرصے بعد وہ بھی سسٹم کا حصہ بن جاتے ہیں ۔ جذبہُ خدمت کے بجائے زیادہ روزگار حاصل کرنے کی علت لگ جاتی ہے۔ پیسہ کمانا برا نہیں لیکن ناجائز ذرائع سے پیسہ بنانا، دھوکہ دہی، فریب دیکر پیسہ بٹورنا، کسی کی مجبوری سے ناجائز فائدہ اٹھانااور اس سے رقم بٹورنا ۔ یہ سب تمام محکموں کااہم جزو بن چکا ہے۔  سرکاری کاموں میں تاخیر کرنا ، لمبے لمبے پروسس میں ڈالنا ، فائلوں کو جان بوجھ کر آگے پیچھے کرنا، یہ تاخیری حربے بھی کرپشن کا ایک حصہ بن گئے ہیں۔
اسی طرح سول سوسائٹیز جو معاشرے کا اہم حصہ ہیں وہ بھی اپنا کردار اس طریقے سے ادا نہیں کر رہیں جو کہ انکی ذمہ داری ہے۔برننگ ایشوز کو تو ایسے ادارے خوب ہوا دیتے ہیں جن سے دنیا میں انکے اداروں کو تو شہرت ملے لیکن ملک کی بدنامی ہو۔ خیر خواہی کے کاموں میں یہ ادارے رفاہی و فلاحی اداروں کا کردارادا نہیں کرتے بلکہ ایسے معاملات سے پہلو تہی کرتے ہیں۔
اب بات کرتے ہیں اس اہم ترین طبقے کی جو مظلوم بھی ہے اور ظالم بھی۔ اور وہ ہے عوام ۔ درج بالا تمام طبقات کے درست و غلط ہر قسم کے فعل کا براہ راست اثر اس مظلوم طبقے پر ہی پڑتا ہے۔لیکن انکو ظالم کہنے کی بھی ایک وجہ ہے اور وہ یہ کہ یہ اپنے حق کے لئے آواز نہیں اٹھاتے ۔ مسائل میں گھرے رہینگے، انکے ساتھ ہی زندگی گزارنے کی عادت ڈال لیں گئے  لیکن چوں بھی نہیں کرینگے۔ انکا ایک اور سنگین جرم بھی ہے اور وہ ہے قوانین کی پابندی نہ کرنا ۔ قوانین توڑنا۔اپنے کو قانون سے بالاتر سمجھنا ۔ کچھ لوگ تو شعور کی کمی اور جہالت کی وجہ سے ایسا کرتے ہیں اور کچھ لوگ طاقت اور دولت کے نشے میں چور ایسی حرکات کے مرتکب ہوتے ہیں۔
اسکے ساتھ ساتھ ایک اور وجہ جو اہم ترین ہے وہ ہے انصاف کی عدم فراہمی۔ چونکہ لوگوں کو بروقت، فوری اور سستا انصاف نہیں ملتا جس سےانمیں مایوسی تو پھیلتی ہی ہے بلکہ سزا و جزا کا خوف ہی ختم ہو جاتا ہے۔ اگر مجرم کو وقت پر اور جرم کے مطابق سزا ملے تو کوئی وجہ  نہیں کہ جرائم میں کمی نہ آئے۔ اسی طرح سزا کےبروقت نفاذ اور اچھے کاموں پر لوگوں کو انعامات دیئے جائیں تو کیسے ممکن نہیں کہ وہ اچھائی کا بول بالا کرنے میں اپنا کردار ادا نہ کریں. REWARD & PUNISHMENT کے اصول پر جبتک ہم عمل پیرا نہیں ہونگے ہم کبھی ایک اچھے معاشرے کی تشکیل نہیں کر سکتے۔
ایک اور اہم ترین وجہ ہمارے زوال کی یہ بھی ہے کہ ہم عوام اپنے حقوق سے آگاہی نہیں رکھتے ۔ ہمیں پتہ ہی نہیں کہ ہمارا حق کیا ہے، ہمارا فرض کیا ہے اور ہماری ذمہ داری کیا ہے اور دوسرے پہ کیا ذمہ داری عائد ہوتی ہے کسی بھی قسم کے حالات میں۔ اگر ہمیں آگاہی اور شعور مل جائے تو کیا وجہ ہے کہ ہم اس معاشرے میں فعال کردار ادا نہ کریں اور اسے ایک بہترین معاشرہ بنائیں ۔
جو گزر گیا اسپر لکیر پیٹنے کی بجائے ہمیں اپنی نوجوان نسل پر جو کہ اسوقت ملکی آبادی کا تقریبا 63% حصہ ہیں ، فوکس کرنے کی ضرورت ہے۔ انکو ہر قسم کی تعلیم و تربیت کے ہتھیاروں سے لیس کرنے کی ضرورت ہے۔ انکو نئے علوم، فنون و ہنر کیطرف راغب کرنے کیساتھ ساتھ انکی درست سمت میں راہنمائی کی ضرورت ہے۔ اور یہ سب اسی صورت ممکن ہو گا جب ہم ایک قوم کی شکل اختیار کرینگے۔ گروہ بندیوں،جماعتوں ،  خاندانوں، ذات پاتوں، فرقوں اور مسلکوں پر بحث کرنے کی بجائے ایک مسلمان ، ایک امت، ایک قوم،  ایک پاکستانی کی حیثیت سے اس ملک کے  میں اہم کردار ادا کرینگے۔ اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرینگے۔ امر بالمعروف بھی جس قوم سے ختم ہو جائے تو وہ بھی زوال کی طرف گامزن ہوتی ہے۔لہذا ان تمام باتوں پر عمل کرتے ہوئے ایک اچھے انسان اور اچھے شہری کی خصوصیات سے مزین ہو کر اس ملک کے کاروبارِ زندگی میں اپنا بہترین  حصہ ڈالیں  اوریہی وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ ہمیں ملکر ثابت کرنا ہے کہ ہم زندہ قوم ہیں۔

Monday, November 26, 2018

گھر کے اندر فضائی آلودگی سے بچاوُکے طریقے

گھر کے اندرفضائی آلودگی سےبچاوُ کے طریقے:
آجکل ہر دوسرے بندے کو الرجی، نزلہ ، زکام اور سانس کی مختلف بیماریاں لاحق ہیں۔موسم بھی اس قسم کا ہے کہ کبھی شدید گرمی اور کبھی شدید سردی۔ موسم کے اس تغیر وتبدل سے بھی کافی مسائل کا سامنا  ہے۔ اس میں زیادہ ہاتھ  ماحولیاتی، فضائی آلودگی کا بھی ہے۔
 دنیا میں آلودہ ہوا کے نتیجے میں ہر برس 70 لاکھ اموات ہوتی ہیں اور اس صورتحال سے چھٹکارا حاصل کرنا ممکن دکھائی نہیں دیتا۔

صحت مند فضا میں سانس لینے کے آسان طریقوں کی مدد سے دس میں سے نو افراد مختلف بیماریوں سے بچ سکتے ہیں جن میں فالج،پھیپھڑوں کا کینسر اور سانس کی بیماریاں شامل ہیں۔

آلودگی کے خورد بینی ذرّات ہمارے اطراف ہمیشہ رہتے ہیں اور ہمیں نقصان پہنچاتے رہتے ہیں خاص کر اگر آپ گھر کے اندر ہوں۔

ماحولیات کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی امریکی ایجنسی کی ایک تحقیق کے مطابق اکثر اوقات گھروں کے اندر آلودگی باہر کے برعکس دو سے پانچ گنا زیادہ ہوتی ہے۔

ایئر لیبز میں چیف سائنس آفیسر میتھیو ایس جونسن کے مطابق گھر کے اندر فضا میں اتنی کی آلودگی ہوتی ہے جتنی کے باہر لیکن اس کے ساتھ گھر کے اندر دیگر آلودہ عناصر بھی شامل ہو جاتے ہیں جس میں مکان کی تعمیر میں استعمال ہونے والا مواد، کھانا پکانا اور صفائی کے لیے استمعال ہونے والی اشیا شامل ہیں۔

خوش قسمتی سے چند ایسی چیزیں ہیں جن کی مدد سے آپ گھر کے اندر کی فضا کو صحت مند بنا سکتے ہیں۔۔

گھروں میں ہوا کی نکاسی کا موثر انتظام کیا جانا چاہیے
ہوا کی کی نکاسی کے راستے
گھر میں تازہ ہوا کے داخلے کے لیے نامناسب راستوں کے نتیجے میں آلودہ ہوا گھر کے اندر ہی ٹک جاتی ہے۔

انڈیا کے انرجی اینڈ ریسورسز انسٹی ٹیوٹ سے منسلک آر سوریش کا کہنا ہے کہ گھر میں تازہ ہوا کے لیے دن میں ایک بار تقریباً کھڑکیوں اور دروازوں کو دو سے تین بار کھولیں۔اوراگر ایسا ممکن نہ ہو تو کم از کم ایک مرتبہ تو ضرور کھولیں دن میں۔

اگر آپ کو کسی قسم کی الرجی نہیں اور باہر موسم زیادہ شدید نہیں ہے تو اس صورتحال میں گھر کے اندر ہوا کی نکاسی کے نظام کو استعمال کر سکتے ہیں جس میں فلٹر لگے ایئر کنڈیشنگ سسٹم شامل ہیں۔

اس کے علاوہ اگر آپ کھانا پکا رہے ہیں یا نہا رہے ہیں تو اس صورت میں ہوا باہر نکالنے والے فین کا استعمال کریں تاکہ مضر صحت ذرّات اور ضرورت سے زیادہ نم ہوا کو باہر نکلا جا سکے۔

گھر کے اندر پودے رکھیں
اگر آپ ہوا صاف کرنے والے مہنگے فلٹرز کا خرچہ برداشت نہیں کر سکتے تو اس صورت میں آپ گھر کے اندر پودوں کو رکھ سکتے ہیں۔

آر سریش کے مطابق بعض پودے ہوا کے مضرصحت اجزا کو صاف کر سکتے ہیں اور یہ گھر کے اندر کی فضا میں آلودگی کے لیے ایک موثر ذریعہ ثابت ہوتے ہیں۔

اگرچہ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نظریے کے کوئی تحقیقاتی شواہد نہیں ہیں تو چلیں کم از کم یہ آپ کے لیے خوشگوار احساس کا باعث تو بنتے ہیں۔
گھر میں پودے رکھنے سے گھر کے اندر کی ہوا کو صحت مند بنایا جا سکتا ہے
تو اگر آپ گھر کے اندر پودے رکھنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں تو درج ذیل میں دیے گئے چند پودوں سے آپ یہ شروع کر سکتے ہیں۔

منی پلانٹ: اس پودے کو اگانا اور دیکھ بھال کرنا آسان ہوتا ہے اور یہ قالین اور روغن سے نکلنے والے مضرِ صحت کیمیکلز کو فضا سے ختم کرنے میں مدد دیتا ہے۔

ڈریگن ٹری: یہ درخت مشرقی افریقہ میں پایا جاتا ہے اور اسے گھروں اور دفاتر میں آرائش کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

یہ درخت بھی مضرِ صحت کیمیکلز کو فضا سے ختم کرنے میں مدد دیتا ہے۔

سنیک پلانٹ: اس پودے کو زیادہ پانی دینے کی ضرورت خاص کر سردیوں کے موسم میں۔ یہ پودہ رات کے وقت کاربن ڈائی آکسائڈ جذب کرتا ہے۔

آر سریش کے مطابق آپ جو کوئی بھی پودا گھر میں رکھیں اس میں سب اہم بات ذہن میں رکھنے والی یہ ہے کہ یہ پودے قدرتی طور پر فضا کو صاف کرتے ہیں اور اس کے لیے ضروری ہے کہ انہیں صحت مند رکھا جائے کیونکہ دوسری صورت میں ہوا میں بائیولوجیکل آلودگی پھیلانا شروع کر دیں گے۔
صفائی ستھرائی کے لیے استعمال ہونے والے کیمیکل فضا کو آلودہ کرتے ہیں
ماحول دوست طریقے سے بو کا خاتمہ
تعمیراتی سامان میں استعمال ہونے والے مواد کے بارے میں جاتنے ہیں اور مصنوعی خوشبو air freshener سے جب بھی اس کو ختم کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو اس کے نتیجے میں مزید کیمیلز کا اخراج ہوتا ہے۔

یعنی کے ہوا کے حساب سے اپنا ردعمل دیتے ہیں اور ممکنہ طور پر خطرناک کاٹ ٹیل بناتے ہیں۔

مثال کے طور پر گھروں میں صفائی کے لیے استعمال ہونے والا ایسا سامان یا آلات جو ماحول دوست نہیں ہوتے اور ان کے استعمال سے فارمل ڈی ہائیڈ کیمیکل کا اخراج کر سکتے ہیں جس کا تعلق کینسر جیسے مرض سے ہوتا ہے۔

آپ کیا کر سکتے ہیں؟
تو آپ کو کرنا یہ ہے کہ کپڑوں کی دھلائی کے لیے ایسی مصنوعات کا استعمال کریں جن میں خوشبو نہیں ہوتی ہے اور اس کے ساتھ پریشر سے نکلنے والے سپرے کا استعمال ترک کر دیں جس میں قالین کو صاف کرنے اور ہوا سے بو ختم کرنے کے قالین کو بھی جھاڑنا چاہئیے تاکہ اسکے اندر چھپے ہوئے جراثیم ختم ہوں۔ دھوپ لگوانی بھی بہت ضروری ہے۔ لیے استعمال ہونے والے سپرے بھی شامل ہیں۔

اگر بات کچن کی جائے تو آر سریش کے خیال میں باس کو ختم کرنے کے لیے لیموں کے ٹکڑے اور بیکنگ سوڈے کا استعمال کیا جائے۔
صفائی کا خاص اہتمام کیا جائے ۔ صفائی والے کپڑے کی روزانہ دھلائی اور چند دن بعد تبدیلی ازحد ضروری ہے۔
گھروں کے اندر سگریٹ نوشی سے اجتناب کی کوشش کرنی چاہیے
گھر کے اندر سگریٹ نوشی سے اجتناب
سگریٹ نوشی بذاتِ خود نقصان دہ ہے اور گھر میں کی جائے تو بے حد نقصان ہوتی ہے۔

گھر میں اجتماعی سگریٹ نوشی کا اندر کی فضا پر سنگین اثرات مرتب ہوتے ہیں اور خاص کر اگر ہوا کی نکاسی کا انتظام غیر مناسب ہو۔

سگریٹ کا دھواں قریب میں دوسروں کے لیے بے حد نقصان دے ہو ہوتا ہے اور یہ انھیں خطرناک بیماریوں سے دوچار کر سکتا ہے۔

اگر گھر میں نوازئیدہ بچے ہوں تو سگریٹ نوشی کے نتیجے میں ان کی اچانک موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔
گھروں کی کھڑکیوں میں گیلے کپڑے خشک کرنے سے آلودگی کے کافی مسائل حل ہو سکتے ہیں

الرجی سے نجات حاصل کریں

پولن اور مٹی کے ذرّے کے نتیجے میں بیمار ہونے کا خدشہ ہوتا ہے اور خاص کر اگر آپ کو سانس کی بیماری، پولن الرجی اور دیگر اقسام کی الرجی ہیں۔

ہوا میں نمی کے تناسب سے یہ ہوا میں یہ تیزی سے پھیلتی ہیں اور ان لوگوں کو متاثر کر سکتی ہیں جن کو پیپھڑوں کی بیماری لاحق ہو سکتی ہے۔

تو اس صوتحال میں آپ کر سکتے ہیں؟ ماہرین کے مطابق آسان طریقوں سے اس مسئلے کو حل کر سکتے ہیں جن میں اپنے بستر کو باقاعدگی سے صاف کریں۔تکیے اور لحاف quilt یا کمبل کو باقاعدگی سے دھوپ لگوائیں ۔ ممکن ہو تو ہفتے میں دو مرتبہ ایسا ضرور کریں۔ کوشش کریں تکیہ ہر چھ مہینے بعد تبدیل کریں۔ اور اگر
washable
 ہے تو اسکو ضرور ہر تھوڑے عرصے بھد دھولیا کریں۔

اپنے قالین کو صاف کریں اور اس میں کوشش کریں کہ ماحول دوست ویکیوم کا استعمال کریں۔اگر چھوٹا پیس ہو کارپٹ کا تو اسے ضرور جھاڑ لینا چاہئیے۔

اپنے کپڑوں کو کھڑکی کے قریب خشک کریں۔

داخلی دروازے پر میٹ ڈالیں تاکہ باہر سے آلودگی اندر نہ آئے اور ہوا سے اضافی نمی صاف کرنے والے آلے کا استعمال کریں۔میٹ کو باقاعدگی سے صاف کریں تاکہ اسکے ساتھ ناقص ذرات آپکے جوتوں کے ساتھ گھر کے اندر داخل نہ ہوں۔
یہ بھی کوشش کرنی چاہئیے کہ باہر پہننے والے جوتے گھر کے برآمدے یا lobby میں ہی اتار دیئے جائیں تاکہ انکے ساتھ مضر ذرات یا جراثیم گھر کے اندرونی حصوں میں نہ جائیں۔
ان تمام حفاظتی تدابیرپر عمل کرنے سے ہم بہت سی سانس کی بیماریوں اور الرجیزallergies  سے نجات حاصل کر سکتے ہیں .

Saturday, October 27, 2018

#واک_کی_واک_اورشہرکےمسائل_سےآگاہی During Walk noted the issues of city



آجکل شہر کے مختلف حصوں کی واک کرنے کا اتفاق ہوا۔ واک کے لئے میں کچھ مخصوص جگہوں پر جاتی تھی۔لیکن شہر کے حالات سےبہتر طور پر واقفیت حاصل کرنے کے لئے میں نے سوچا کہ مجھے شہر کے مختلف حصوں میں جانا چاہئیے تاکہ وہاں کے مسائل و ایشوز سے بخوبی آگاہ رہوں۔ اس مقصد کے لئیے لنک روڈ، کالج روڈ، آرام باغ، چنار روڈ ،مری روڈ، جھانیاں روڈ(نواں شہر) پی ایم اے۔کاکول روڈ ، بائی پاس اور کامرس کالج روڈ پر واک کی۔اور ان تمام جگہوں کے مسائل سے آگاہی ہوئی ۔
لنک روڈ  سے بات شروع کرونگی لنک روڈ بہت زیادہ رش والی سڑک بن گئی ہے۔ پبلک ٹرانسپورٹ سوزوکیاں اور ڈبے تو بہت زیادہ ہیں پرائیویٹ گاڑیاں بھی بے تحاشہ نظر آتی ہیں ۔ اس روڈ کا سب سے بڑا مسئلہ ریڑھیاں ہیں۔ دسیوں بار آپریشن ہوئے ، کئی باران ریڑھیوں کو یہاں سے ہٹا کر دیگر مختص مقامات پر منتقل کیا گیا لیکن پھر وہی ڈھاک کے تین پات۔۔ دوبارہ اس پہ ریڑھیاں براجمان  نظر آتی ہیں۔ میں مانتی ہوں کہ یہ غریب لوگ ہیں انکی روزی پہ بھی لات نہیں مارنی چاہئیے لیکن یہ بھی تو تھوڑا تعاون کریں۔ نالوں پہ قبضہ کر کے  انہوں نے اپنی دکانیں سجالی ہیں۔ اور جب بارش ہوتی ہے تو نالوں کے بند ہونے کی وجہ سے سارا گندا پانی لنک روڈ کی دکانوں اور مکانوں میں چلا جاتا ہے۔اور لوگوں کو بہت نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انتظامیہ کو بھی چاہئیے کہ ان ریڑھی بانوں کو ایسی جگہ الاٹ کی جائے جہاں پر انکو بھی روزگار کے بھر پور مواقع ملیں اور عوام الناس کو بھی تکلیف نہ ہو۔ ایک اور مسئلہ اس روڈ پر پارکنگ کا ہے۔ لوگ روڈ پر گاڑی پارک کر دیتے ہیں جسکی وجہ سے ٹریفک میں بہت زیادہ تعطل پیدا ہوتا ہے۔ اسوقت یہ شہر کی مصروف ترین سڑک ہے لہذا میری تجویز ہے کہ اسکے دونوں چوکوں ( سربن چوک، توت والا چوک)میں ٹریفک پولیس والے تعینات ہونے چاہئیں۔تاکہ ٹریفک کا نظام درست طریقےسے چلتا رہے۔ ایک اور مسئلہ ہے یہاں پر دوکانوں کے آگے تک لوگوں نے بورڈ اور چیزیں رکھی ہوتی ہیں۔ یعنی چھوٹی چھوٹی تجاوزات کی ہوئی ہیں جس سےراہگیروں کو چلن میں بڑی پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ 
کالج روڈ کیطرف آئیں تو یہاں بہتری کی گنجائش نظر آتی ہے۔ کینٹ بورڈ نے سڑک بھی بنائی اور فٹ پاتھس بھی نئے بنے۔اسمیں ایک تکلیف دہ بات یہ ہے کہ موٹر سائیکلوں اور سائیکلوں والے بچے یہاں اکثر ون ویلنگ کرتے نظر آتے ہیں۔ ایک اور مسئلہ اس روڈ کے شروع میں بننے والے ورکشاپس  اور روڈ کے اوپربنے  سروس سٹیشنز موجود ہیں۔جسکی وجہ سے انتہائی گند بنا ہوتا ہے کیچڑ والا۔ اس روڈ پر  گاڑیوں کو سڑک کے کنارے کھولا ہوا ہوتا ہے جو کہ ٹریفک میں تعطل کاباعث بنتا ہے۔ یہاں موجودنالے  کو کور کر کے سڑک کو وسعت دی گئی ہے لیکن افسوس ہماری جاہلیت پر کہ اسکو پارکنگ بنا دیا جاتا ہے۔ ایک اور وجہ یہاں پر پھلوں کی ایک شاپ ہے جس سے زیادہ تر امیر لوگ گاڑی میں بیٹھے بیٹھے چیزیں آرڈر کرتے ہیں اور اتنی دیر تک روڈ بلاک رہتا ہے۔ ایک اور مسئلہ کہ یہاں پوسٹ گریجویٹ کالج کے باہر جگہ پر اکثر یاتو پارکنگ کی گئی ہوتی ہے یا ریت ، بجری ، اینٹیں پھینکیں گئی ہوتی ہیں ۔ایک اور مسئلہ کہ یہاں پر بھی رہاشی کوڑا کوڑے دان میں نہیں پھینکتے بلکہ اردگرد بکھیر دیتے ہیں۔

آرام باغ کی طرف رُخ کیجئے توایکدم تنگ سڑک شروع ہو جاتی ہے۔ پرانے بورڈ آفس اور اسکی جگہ بننے والے نئے وکیشنل سنٹر کی نئی دیوار تیار ہو بھی گئی ہے لیکن پچھلی یعنی پرانی دیوار ابھی تک نہیں توڑی گئی جو کہ راستے کی تنگی میں مزید اضافہ کر رہی ہے متعلقہ اداروں کو فواری طور پر پرانی دیوار کو ہٹانا چاہئیے تاکہ چار سے پانچ فٹ جگہ سڑک کو مذید مل جائے ۔ اور یہ واحد سڑک ہے شہر کی جسپرتانگے چلتے نظر آتے ہیں۔ جو ٹریفک کے تعطل کاباعث بنتے ہیں کیونکہ اس روڈ پر اوور ٹیکنگ کی بلکل گنجائش نہیں ہوتی۔تو ٹریفک بلکل سست چلتی ہے۔ مجھے تانگے سے کوئی مسئلہ نہیں لیکن اس روڈ پر تانگے سے کافی مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ اسکے علاوہ اس علاقے کے فٹ پاتھ پر لوگ ٹولیاں بنا کر کھڑے ہو جاتے ہیں جس سے پیدل چلنے والےراہگیروں کو انتہائی دشواری کا سامنا ہوتا ہے۔ تیسری بات یہ کہ یہاں روڈ پر اینٹیں اور بجری، ریت پھینکی جاتی ہے جو ٹریفک کے تعطل کی ایک اور اہم وجہ ہے۔ جبکہ دفعہ 144 نافذ ہے تو اس پر ضرور ایکشن ہونا چاہئیے۔ایک اور بات کہ فٹ پاتھ پر داہنے ہاتھ پر ایک گہرا نالہ ہے اسکے آگے کوئی رکاوٹ نہیں خدانخواستہ کسی کے اس نالے میں گرنے سے نقصان ہو سکتا ہے۔ لہذا اسکے آگے fence یعنی جنگلہ ہونا چاہئیے۔ یہ کافی رش والا علاقہ ہے اور بہت بچے یہاں چلتے پھرتے نظر آتے ہیں۔انکی حفاظت ضروری ہے۔
چنار روڈ کی بات اگر کروں تو اس پر فٹ پاتھ بننے سے بہت فرق پڑا ہے ۔ کم ازکم اس خوبصورت روڈ پر  چلنے کے لئے ایک باقاعدہ ٹریک تو  بن گیا ہے لیکن افسوس لوگ پھر بھی فٹ پاتھ پر چلنےکی بجائے سڑک پر چل رہے ہوتے ہیں جو کہ بہت ہی خطرناک ہے کیونکہ اس روڈ پر ٹریفک بہت تیز چلتی ہے اور حادثات کے خدشات بڑھ جاتے ہیں ۔
نڑیاں روڈ کو وسعت کی ضرورت ہے اور ساتھ ہی فٹ پاتھ کی کیونکہ اس روڈ پر آپکو بہت زیادہ لوگ چلتے ہوئے نظر آئینگے۔ اور یہ بہت ہی گنجان آباد علاقہ بن گیا ہے۔

مری روڈ کا اول حصہ چونکہ آرمی کے تسلط میں ہے لہذا راوی وہاں چین ہی چین لکھتا ہے۔ لیکن اسکے مین روڈ کے چوک میں خوفناک رش ہوتا ہے ۔ میری تجویز کے مطابق وہاں ٹریفک وارڈن کے ساتھ ملٹری پولیس کا سپاہی بھی کھڑا ہو تو خاطر خوا فرق پڑسکتا ہے۔مری روڈ کو اگر جھگیاں والے علاقے سےآخر تک دیکھیں تو کافی رش نظر آتا ہے لیکن U ٹرنزمیں زیادہ فاصلہ  کرنے کی وجہ سے خاطر خوافرق پڑا ہے ۔ یہاں ایک بات جو تکلیف دہ نظر آئی وہ یہ تھی کہ نہ تو لوگ فٹ پاتھ پہ راستہ دیتے ہیں اور  نہ یہاں کے فٹ پاتھ زیادہ صاف ہیں۔ ایک اور hurdle بورڈز ہیں جو لوگوں نے دوکانوں سے باہر کرکے رکھے ہوتے ہیں۔ یا لوگ ان روڈز پر کرسیاں رکھکر بیٹھ جاتے ہیں جو پیدل چلنے والوں کے لئے کافی تکلیف دہ ہے۔اسی طرح اس روڈ پر کوڑا کرکٹ بھی نسبتاً زیادہ نظر آیا۔ اسکے لئے الزام میں محکموں کو نہیں بلکہ عوام الناس کو دونگی کہ انہیں خود یہ احساس ہونا چاہئیے کہ کوڑے کو کوڑا دان کے اندر پھینکا جائے نہ کہ باہر پھیلا دیا جائے۔
جھانیاں روڈ نواں شہر کی بات کروں تو اول تو یہ کہ وہاں فٹ پاتھس نہیں ہیں جو کہ ہونے چاہئیں کیونکہ زیادہ تر لوگ اس سڑک پر چلتے نظر آتے ہیں۔ دوسرا ٹریفک وہاں بہت تیزی سے گزرتی ہے ۔ ڈرائیونگ میں احتیاط کرنی چاہئیے جبکہ یہ کافی گنجان آباد علاقہ بن گیا ہے۔ اس روڈ پر ایک اور تکلیف دہ چیز ہے ٹیوب ویلز سے فاضل پانی کا اخراج ہے  جو کہ خومخواہ ضائع ہوتا ہے۔ اسکا کوئی سد باب ہونا چاہئیے ۔ واسا کے چیف ایگزیکٹو سے بھی اس سلسلے میں بات ہوئی تھی لیکن تاحال کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ اور کچھ نہیں تو وہاں واٹر ٹینکس ہی رکھ دیئے جائیں تاکہ پانی بے جا ضائع ہونے سے بچ جائے۔

پی ایم اے کاکول روڈ کی طرف بڑھتے ہیں ۔ یہ نسبتاً مذکورہ تمام علاقوں سے صاف ہے۔ لیکن یہاں پانی کا مسئلہ بہت زیادہ ہو جاتا ہے برسات کے موسم میں۔ خاص طور پر بلال ٹاوُن بہت متاثر ہوتا ہے بارش میں۔ بہتر سیوریج سسٹم نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کے گھروں میں پانی داخل ہو جاتا ہے جس سے بہت نقصان  ہوتاہے۔ اس روڈ پر باوجود رہائشی علاقہ ہونے کے گاڑیاں بہت تیز رفتاری سے گزرتی ہیں۔ جو کہ کئی بار  حادثات  کا باعث بنیں۔
بائی پاس ایک اچھی اور روشن بل کھاتی سڑک ہے لیکن وہاں فٹ پاتھ کا ہونا بہت ضروری ہے کیونکہ وہ واک اور جاگنگ کے لئے اچھا ٹریک ثابت ہو سکتا ہے۔اسکو اگر مذید کشادہ کیا جاسکتاہو تو بہتر ہے۔ جگہ تو آرمی کے پاس ہے اگر وہ تھوڑی سی مہربانی کر کے اسکو کشادہ کر دیں تو انکو کوئی فرق نہیں پڑے گا لیکن عوام الناس کا فائدہ ہو جائیگا۔
کامرس کالج روڈ اور جناح آباد اور حبیب اللہ کالونی کے اندرونی روڈز انتہائی تنگ ہیں۔ اور اکثر جگہوں پر تو پانی کی وجہ سے کیچڑ کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ یہ وہ علاقے ہیں جہاں شہر کی کریم رہتی ہے۔ بڑی بڑی گاڑیوں والےاصحاب جنکا تعلق زیادہ تر سرکاری نوکریوں سے ہے  وہاں سے دن میں کئی بار گزرتے ہیں لیکن انکو کھڈوں والی سڑکیں اور کوڑا کرکٹ کا ڈھیر نظر نہیں آتا۔ یہ نسبتاً پڑھے لکھے لوگوں کا پوش علاقہ تصور کیا جاتا ہے لیکن عملی طور پر ایسا محسوس نہیں ہوتا۔
یہ تو تھا میری واک کے نتیجے میں نظر آنیوالے مسائل کامشاہداتی جائزہ۔ اگر میں ایک یا دو دنوں میں یہ سب observe کر سکتی ہوں تو وہاں پر رہنے والے اصحاب کو کن دشواریوں کا سامناہو گا ؟ یہ لمحہُ فکریہ ہے ہم سب کے لئیے ۔ ہمیں اپنے اپنے علاقوں اور انکے مسائل کے سدباب ک لئے گاہے گاہے اداروں کو اپنی متحدہ آواز سے جگانے کی ضرورت ہے۔ہمیں اپنا حق آگے بڑھ کر خود لینا ہو گا اور نہیں تو کم از کم اپنے مسائل کے حل کے لئے آواز تو اٹھانا ہوگی۔
مزید یہ سلسلہ جاری رہیگا ۔ اور جن علاقوں میں واک کے لئے گئی تو ضرور شئیر کرونگی۔ اور آپ سب سے بھی التماس ہے کہ آج جن علاقوں کا ذکر ہوا ان میں موجود دیگر مسائل بھی آپ کمنٹس میں share کریں تاکہ ان سب مسائل کے سد باب کے لئے کوئی مناسب  لائحہ عمل ترتیب دیا جا سکے۔

Tuesday, October 23, 2018

چند اشعار

   خیر مانگی تھی تجھ سے
  تو نے شر سے بچا لیا مجھکو

_________________________


 تم بن مانگے رہے کسی کی دعاوُں میں
  ہم چاہ کر بھی کسی کی دعا نہ بن سکے

_____________________________

دردکاغذ پہ بکھرا ہے
درد کا عنوان ہو تم

موت کا کھیل اور ہمارے بچے Game of death n our children



آجکل یہ موت کا کھیل بہت عام ہو گیا ہے۔ آپ حیران ہونگے کہ میرا اشارہ کسطرف ہے۔ تو چلئے بتائے دیتی ہوں کہ میں موٹر سائیکل عرف عام موٹر بائیک کی بات کر رہی ہوں۔ گو کہ یہ ایک سواری ہے لیکن خطرناک ترین۔ اور جب سے موٹر سائیکلز سستی ہوئی ہیں یا قسطوں میں ملنے لگی ہیں تو اسکے بعد تو سڑکوں پر انکا اژدھام نظر آتا ہے۔ اس سے انکار ممکن نہیں کہ متوسط طبقے کے لوگوں کے لئے یہ ایک باکفایت سواری ہے۔ اسپر ہمارے ہاں دو سے پانچ تک لوگ بآسانی بیٹھے نظر آ رہے ہوتے ہیں۔یہ صرف پاکستان میں یا تیسری دنیا کے ممالک میں  ہی ممکن ہے ورنہ مہذب دنیا میں اسپر صرف دو ہی لوگ سوار ہو سکتے ہیں۔اس سواری  نے جہاں لوگوں کو آمدورفت میں آسانی اور سہولت دی ہے وہیں ٹریفک میں بہت مشکلات پیدا کر دہی ہیں۔آئے دن موٹر سائیکل سوار مختلف حادثوں کا شکار ہوتے دکھائی دیتے ہیں ۔ کبھی تیز رفتاری کے باعث ، کبھی غلط اوور ٹیکنگ کے باعث ، کبھی ہیلمٹ نہ پہننے کی وجہ سے ، کبھی دوسرے موٹر سائیکل سواروں کے ساتھ ریس لگانے کی وجہ سے ، اوور لوڈنگ کی وجہ سے اور اکثر و بیشتر ٹریفک کے قوانین توڑنے کی وجہ سے۔بہر حال چند سالوں میں سب سے زیادہ حوادث کا شکار یہ موٹر سائیکل سوار ہی ہوتے ہیں۔اور ان میں بھی زیادہ تر نوجوان لڑکے ہوتے ہیں۔ موٹر سائیکلوں  کے حادثات گاڑیوں کے حادثات سے زیادہ خوفناک نتائج کے حامل ہوتے ہیں ۔ گاڑیوں کے حادثات میں تو پھر کہیں زندگی بچ جاتی ہے لیکن موٹر سائیکلوں کے حادثات میں فوری اموات یاسیریس  انجریز زیادہ ملتی ہیں۔
ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن 2014/15WHO کےشماریات کے تحت پاکستان دنیا بھر میں حادثات  میں  67ویں  نمبر پر ہے جسمیں سے 50% سے زائد اموات موٹر سائیکل سواروں کی ہوتی ہیں۔ایک اندازے  کے مطابق یہ تعداد 2030 تک بہت زیادہ  بڑھ جائیگی اور  ملک میں سب سے زیاہ اموات انہی حادثات کی وجہ سے ہونگی۔صرف کراچی میں تقریباً 150 سے زائد حادثات روزانہ کی بنیاد پر رپورٹ ہوتے ہیں۔جنمیں سب سے زیادہ اموات  15 سے 30 سال تک کے عمر کے لوگوں کی ہوتی  ہیں۔۔جنمیں 40 سے 50% اموات ہیڈ انجری کی وجہ سے ہوتی ہیں۔اور اسکی سب سے بڑی وجہ ہیلمٹ کا استعمال نہ کرنا ہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق صرف کراچی میں 12056 روڈ ایکسیڈنٹس ہوئے جنمیں 528 اموات ہوئیں  11551لوگ کم زخمی ہوئے اور 2960 سیریس زخمی ہوئے ۔ انمیں 13% پندرہ سال سے کم عمر بچوں کی تھی اور 36% 16 سے 25 سال کے نوجوانوں کی ۔ یہ تقریباً پچھلے سالوں کے  ہیں ۔ حالیہ شماریات ان سے کہیں زیادہ ہیں۔چونکہ وہ آسانی سے دستیاب نہیں ہوسکے اسلئیے انہی
 پر بات کرتے ہوئے  آگے بڑھتے ہیں۔ اگر یہ صرف ایک شہر کا ڈیٹا ہے تو آپ سوچئے کہ پورے ملک میں تو لاکھوں حادثات روزانہ کی بنیاد پر وقوع  پزیر ہوتے ہیں۔


ہمیں دیکھنا یہ ہے کہ ان حادثات کی وجوہات کیا ہیں۔ اور انکا کیا سد باب کیا جا سکتا ہے
زیادہ تر تیزرفتاری حادثے کا باعث بنتی ہے
 موٹر سائیکل سوار اچانک کسی  موڑ سے نکل آتے ہیں اور گاڑیوں کے سامنے آجاتے ہیں جس سے حادثہ رونما ہوتا ہے۔اسکا حل یہی ہے کہ موڑ پر سوار احتیاط برتیں ۔ اپنا بھی خیال رکھیں اور دوسرے لوگوں کا بھی۔ 
بلائنڈ کارنرز پر اچانک بریک لگانے کے باعث بھی حادثات رونما ہوتے ہیں۔۔ یہاں پر انکو ٹرائیل بریکنگ تکنیک جو کہ زندگی بچانے کے لئے ہوتی ہے اس کا سہارا لینا  چاہئیے۔   ٹرائیل بریکنگ تکنیک آجکل کے جدید موٹر سائیکلز میں متعارف کرائی گئی ہے ۔یہ فرنٹ ڈسک بریکس کا درست استعمال ہے جو  حادثوں سے محفوظ رکھتا ہے ۔
لین چینج کرتے ہوئے بھی بہت سے حادثات ہوتے ہیں ۔اسمیں ایک خاص اینگل پر جب موٹر سائیکل سوار گرتا ہے تو اسکے گھٹنے کہنیاں وغیرہ چھلنی ہو جاتی ہیں۔بعض اوقات ہیڈ انجری بھی ہوتی ہے۔
موٹر سائیکل سوار اچانک کھڑی ہوئی گاڑیوں کے پاس سے گزرتے ہیں۔ گاڑی سے نکلنے والے مسافر کو پتہ بھی نہیں ہوتا وہ جیسے ہی  دروازہ کھولتا ہے تو فوری حادثہ ہو جاتا ہے اسلئے کھڑی ہوئی گاڑیوں کے پاس سے انکو احتیاط سے گزرنا چاہئیے کیونکہ کار سوار کو اچانک آنیوالا موٹر سائیکل سوار نظر نہیں آتا جو حادثے کا باعث بنتا ہے
۔نشہ آور دوائیوں کے زیر اثر موٹر سائیکل سواروں کو احتیاط کرنی چاہئیےکہ اس حالت میں سفر نہ کریں ۔
 کچھ لوگوں نے خوبصورتی یا شو کے لِے عام موٹر سائیکلوں کے ساتھ  بڑے بڑے ٹائر لگا رکھے ہوتے ہیں جو توازن کو خراب کرنے کا باعث بھی  بنتے  ہیں اور  بعض اوقات انکی مینٹینس درست نہ ہو تو بھی حادثے کا پیش خیمہ بنتے ہیں۔
ون ویل ڈرائیونگ تو موت کا کھیل ہے جسمیں آج کل کے نوجوانوں اور پندرہ سال سے کم عمر بچوں کی شرح اموات سب سے زیادہ ہیں ۔ یہ خود کو موت کے شکنجے میں دینے والی بات ہے۔ ٹین ایجر (13 سے 19 سال تک کے بچے) خاص طور پر یہ حرکت کرتے نظر آتے ہیں۔
اسکے علاوہ بہت کم عمری کے باعث بھی حادثات ہوتے ہیں۔  12 ، 13 سال کا بچہ جب موٹر سائیکل لے کر سڑک پر نکلتا ہے تو اکثر اس سے اتنی بڑی سواری سنبھالی  نہیں جاتی اور وہ حادثے کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس سلسلے میں قصور وار پہلے تو والدین ہیں کہ وہ بچے کو اس عمر میں موٹر سائیکل کیوں دیتے ہیں اور دوسری طرف ٹریفک وارڈنز کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان بچوں کو فوری طور پر روکیں۔ اور ایسے سخت قوانین بنائیں  والدین کے لئے بھی کہ اگلی بار وہ بچوں کو discourage کریں ۔اور اس سواری کے استعمال سے روکیں ۔
ایک اور بڑا مسئلہ یہ ہے کہ لوگ ہیلمٹس کا استعمال نہیں کرتے ۔جسکی وجہ سے ہیڈ انجری کا فوری شکار ہو کر موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ ہیلمٹ کے استعمال کو قانون کے ذریعے لازم کیا جائے۔ بلکہ دونوں سواریوں کے لئے لازمی ہو ۔
اوورلوڈنگ بھی حادثات کے رونما ہونے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ایک عام درجے کی  موٹر سائیکل پر پورا خاندان سوار نظر آتا ہے۔ چار پانچ بندے تو موٹر سائیکل پر بیٹھنا کوئی بات ہی نہیں اور کوئی چالان بھی نہیں ہوتا۔
حادثات کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ موٹر سائیکل کرائے پر بھی با آسانی دستیاب ہوتے ہیں۔ جن نوجوانوں یا بچوں کو ٹھیک سے چلانا نہیں بھی آتا تو وہ بھی انتہائی کم قیمت پر کرائے پر حاصل کرتے ہیں اور ناتجربہ کاری یا کم عمری کی وجہ سے حادثے کا شکار ہوتے ہیں۔
ایک سب سے عام وجہ حادثات کی یہ ہے کہ وہ تمام سڑک پر چلتے ہیں یعنی کہ ایک طرف سے نکلے کبھی درمیان میں چلے اور کبھی دائیں بائیں۔ اگر وہ ایک ہی سائیڈ پر چلیں جو قوانین کے مطابق انکو بتائی گئی ہےتو حادثات میں خاطر  خواہ کمی آسکتی ہے۔
مزید یہ کہ جب خواتین موٹر سائیکل پر بیٹھتی ہیں تو اکثر اپنے دوپٹے یاچادر سمیٹ کر نہیں بیٹھتیں جس سے وہ حادثے کا باعث بنتی ہیں اور  بعض اوقات اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں۔ ایک اور بہت ہی اہم اور عام مسئلہ یہ ہے کہ جب نو عمر بچے یا بغیر لائسنس کے بچے نکلتے ہیں تو انکو اگر راستے میں روکا جائے تو وہ ڈر کے مارے بھاگ نکلتے ہیں یہ بہت ہی خطرناک بات ہے کیونکہ سیکیورٹی ادارے انکو دہشت گرد سمجھ کر ان پرفائر کھول سکتے ہیں ۔ لہذا اس سلسلے میں بھی بہت محتاط ہونے کی ضرورت ہے۔
موت کا دکھ تو ہوتا ہی ہے لیکن جب میں کسی نوجوان بچے کے موٹر سائیکل حادثے کا سنتی ہوں تو دل تڑپ جاتا ہے کہ ایک بچہ یا جوان گھر سے کوئی چیز لینے نکلا اور واپسی پہ اسکی میت آئی۔ اس سے زیادہ دردناک بات ایک ماں یا والدین کے لئے کیا ہو سکتی ہے۔
میں تمام والدین سے گزارش کرونگی کہ آپ تھوڑا سا مشکل وقت گزار لیں لیکن اپنے نو عمر بچے کو یہ موت کی سواری نہ لے کر دیں۔
میری متعلقہ محکموں کے لوگوں سے بھی اس پسخت ترین ایکشن لینے کے حوالے سے بات ہوتی رہی ہے۔اس ضمن میں سخت سے سخت قوانین بنان کی ضرورت ہے تاکہ حادثات میں کمی آ سکے۔

Sunday, October 21, 2018

چادر کی حرمت

سوشل میڈیا پہ چلنے والی پوسٹس دیکھیں ۔جسمیں پنجاب میں شعبہ صحت کی وزیر ڈاکٹر یاسمین راشد کی طرف سے دوپٹے لازم  کرنے کاکوئی ذکر نظر آیا ۔بعد میں اس کی تردید بھی کی گئی ہے۔ زیادہ تفصیلات نہ مل سکیں لیکن  اسمیں کیا قباحت ہے اگر دوپٹے کرنے کا کہا گیا ہے۔ شلوار قمیص اور دوپٹہ تو ہمارا قومی لباس ہے۔ اور اگر دینی نقطہ نگاہ سے دیکھا جائے تو پھر تو باقاعدہ پردہ بنتا ہےخواتین کااس ملک میں۔ چلئیے ابھی اس دینی بحث کو رہنے دیتے ہیں۔
مجھے حیرانی ہوتی ہے جب کہا جاتا ہے کہ دوپٹہ ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے۔   سمجھ نہیں آتی وہ کونسی ترقی ہے جسمیں دوپٹہ حائل ہوتا ہے.بہرحال جو لوگ نہیں کرنا چاہتے وہ یہ عذر گھڑ لیتے ہیں۔لیکن حقیقت میں ایسا کچھ نہیں۔ دوپٹہ اور چادر تو عورت کے وقار میں اضافہ کرتے ہیں۔نہ یہ کسی کی ترقی کی راہ میں حائل ہوا نہ رکاوٹ بنا۔ حتیٰ کہ اس ملک کی کچھ نامور خواتین نے تو برقع پہن کر بھی زندگی کے ہر شعبے میں کارہائے نمایاں انجام دئیے۔ اگر ماضی میں جھانکیں تو آپ کو یاد آئے گا کہ پاکستان کی پہلی خاتون پائلٹ شکریہ خانم ایک پردہ دار خاتون تھیں ۔ انکے لئے تو برقع رکاوٹ نہیں بنا۔ انکا نام تو تاریخ میں پہلی خاتون  پائلٹ کی حیثیت سے ہمیشہ یاد رکھا جائیگا۔ اگر میں کھلاڑیوں کی مثال لوں تو بہت سی خواتین  کھلاڑی حجاب پہن کر کھیلتی ہیں انکے کھیل پر تو انکا حجاب اثر انداز نہیں ہوا۔ محترمہ فاطمہ جناح ، بیگم رعنا لیاقت علی خان ، بے نظیر بھٹو ، بیگم کلثوم نواز جیسی نامور خواتین نے ہمیشہ سروں پہ دوپٹے لئے ۔ محترمہ بے نظیر بھٹو دو مرتبہ ملک کی وزیر اعظم رہیں لیکن انہوں نے قومی لباس کی عزت رکھتے ہوئے ہمیشہ سر پہ دوپٹہ لیا۔ اسی طرح مختلف شعبہ ہائے زندگی میں خواتین برقع، گاوُن ، حجاب، سکارف ،دوپٹہ اور چادر پہنتی ہیں جنمیں افواج پاکستان سے تعلق رکھنے والی خواتین بھی ہیں، پولیس سے تعلق رکھنے والی بھی ، CSP آفیسرز بھی ہیں ججز بھی ہیں اور خواتین وکلاء بھی۔پروفیسرز بھی ہیں اور سانئسدان بھی۔ ڈاکٹرز بھی ہیں اور نرسز بھی۔  سیاستدان خواتین بھی ہیں اور عاصمہ شیرازی جیسی اینکرز بھی۔  لیکن انکی کارکردگی پر، انکے کام پر تو کوئی منفی اثر نہیں پڑتا بلکہ وہ خواتین مکمل خوداعتمادی سے اپنے متعلقہ فرائض بہ احسن طریقے سے انجام دیتی ہیں۔
اگر اپنی مثال پیش کروں تو اسمبلی میں پانچ سال گزارے اور الحمداللہ اپنی طرف سے بہترین وقت گزارا۔ اسمبلی بزنس میں ٹاپ 10 لوگوں میں نام رہا، اپنے علاقے کےاور جنرل مسائل پر آواز اٹھانے کے حوالے سے سرفہرست رہا چار ممالک کے دورے کئے۔ یورپ اور برطانیہ میں برقع کیساتھ گئے ۔ میرے ساتھ پانچ اور خواتین بھی برقع والی تھیں لیکن الحمداللہ ہاوُس آف کامنز اور ہاوُس آف لارڈز میں شرکت کی اور West Minister Abbey میں ہونیوالی تمام میٹنگز میں ویمن پارلیمنٹری کاکس کی وائس پریذیڈنٹ کی حیثیت سے پاکستان کی بھر پور نمائندگی بھی کی اور بہترین تاثر بھی چھوڑا۔جینوا کے UN ہیڈ کوارٹرز میں بھی یہی تمام خواتین  تھیں جنہوں نے تمام  میٹنگز میں شرکت کی اور برما میں ہونیوالے ظلم کیخلاف آواز بلند کی۔ ہم خواتین کو تو کوئ رکاوٹ نظر نہیں آئی۔ سیاست میں اسکے علاوہ اور بھی مثالیں موجود ہیں جیسے سمعیہ راحیل صاحبہ، عائشہ سید صاحبہ، نعیمہ کشور جیسی باکمال سیاستدان خواتین جنہوں نے اسمبلی فلور پر ہر مسئلے کو اجاگر کیا۔
اگر آپ دینی نقطہُ نظر سے اس کو نہیں دیکھتے تو کم از کم معاشرتی و ثقافتی انداز میں ہی لے لیں۔ کہ یہ ہمارے اس خطے کی ثقافت ہے۔ اسی ثقافت کے فروغ کے لئے ہی ہم دوپٹے یا چادر کا استعمال کریں۔ لباس ہر ملک اور کلچر کی پہچان ہوتا ہے۔ ہماری پہچان شلوار قمیص اور دوپٹہ یا چادر ہیں۔ یہ ایک غلط خیال ہے کہ اگر آپ چادر اور دوپٹہ لیں گے تو دقیانوسی کہلائیں گے۔ ایسا نہیں ہے بہت سی پڑھی لکھی خواتین جو بظاہر پردہ کرتی ہیں وہ ذہنی طور پر بہت  سی بے پردہ خواتین سے زیادہ باشعور ہوتی ہیں ۔  وہ بچیوں کی تعلیم کے حق، انکی مرضی سے شادی کے حق، وراثت کے حق اور بزنس یا نوکری کرنے کے حق کی حامی ہوتی ہیں۔
ایک دور تھا جب پی ٹی وی کے خبرنامے اور اناوُنسرز سروں پہ دوپٹے لیتی تھیں تو بہت باوقار دکھائی دیتی تھیں۔ گو کہ دوپٹہ کرناہر ایک کا ذاتی معاملہ ہے لیکن کیا ہی بہتر ہو کہ ایک قومی لباس کی حیثیت سے اسکو لباس کا حصہ ضرور بنایا جائے۔
دوپٹہ /چادر ایک مسلمان اور پاکستانی عورت کی پہچان یے ۔ اور اسکو اپنی اس پہچان کے تقدس کو بحال رکھنا چاہئیے ۔

ایک سوزوکی ڈرائیور کے ساتھ مکالمہ۔ A dialogue with Suzuki Drivet

ایک سوزوکی ڈرائیور کیساتھ مکالمہ

آج چنار روڈ پہ واک کی اور طویل واک کے بعد لوکل سواری سوزوکی میں اس غرض سے سفر کیا کہ موجودہ کرایوں اور سواریوں کی صورتحال سےاور ڈرائیوروں کے مسائل سے بھی مکمل آگاہی حاصل کر سکوں ۔
تمام راستہ ڈرائیور کا انٹرویو لیا۔ نوجوان لڑکا تھا۔ ایک بات اسکی اچھی لگی کہ میرے احترام میں اسنے میوزک آہستہ کر دیا حالانکہ مجھے سننے میں آتا ہے کہ ڈرائیور خاتون سواری کی موجودگی میں میوزک تیز کر دیتے ہیں۔ شاید میری عمر اور برقعے کا رعب ہو۔   اس سے موجودہ مسائل پوچھے۔ وہ غریب بھرا بیٹھا تھا اسنے جو مہنگائی کا رونا رویا تو راستہ ہی ختم ہو گیا۔ گیس کی مہنگائی کا شکوہ، سوزوکی کے پرزوں کی مہنگائی کا رونا، اڈوں کے کرایے دینا، سوزوکی مالکان کو انکا حصہ دینا، کنڈیکٹر کو دینا ، اور روز کیدیہاڑ  گھر لے کر جانا۔ غرض اسنے مہنگائی کو ہی تمام مسائل کی جڑ قرار دیا۔
میں نے اسکو پوچھا کہ کیا تمھیں پتہ ہے بزرگ سواریوں (( Senior Citizens) کے کیا حقوق ہیں اور طالبعلموں کے کیا ہیں ؟ تو اسنے لاعلمی کا اظہار کیا۔صرف یہ کہا کہ جو دے نہیں سکتے ان سے ہم مانگتے نہیں ہیں ۔ اسی طرح students  کا بتایا کہ زیادہ تر بچے نہیں دے سکتے تو ہم لیتے نہیں۔ میں نےاسکو بتایا کہ بزرگ شہری اور طالبعلموں کا کرایہ آدھا ہوتا ہے بلکہ بعض جگہوں پر تو لیا ہی نہیں جاتا ۔ تو وہ حیران ہوا۔ 
میں نے اسکو بتایا کہ میں اس ایشو پرکام کر رہی ہوں کہ سنئیر سٹیزنز بزرگ شہریوں کے لئے خیبر پختونخوا حکومت میں قانون تو موجود ہے لیکن کیا اسپر عملدرآمد بھی ہو رہا ہے۔اور اگر ہو رہا ہے تو کس حد تک؟
اس قانون میں کیا تبدیلیاں لائی جائیں کہ یہ بزرگ شہریوں کے لئے فائدہ مند ہو۔
اسکے علاوہ میں نے اس سے خواتین کے لئے علیحدہ سوزوکیاں  چلانے کی بات بھی کی جس پر اسنے کچھ خاص ردعمل کا اظہار نہیں کیا ۔ بلکہ کہا کہ الگ سوزوکیوں سے مسئلہ کیسے حل ہو گا جبکہ لوگوں کو  جانے کی جلدی ہوتی ہے اور وہ انتظار نہیں کر سکتے ۔ اسی طرح خواتین کو جو سواری میسر ہو گی وہ اسپر سفر کرینگی۔ میں نے اسکو کہا کہ یہ مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں۔ جو خواتین مردوں والی سواری میں سفر کرنا نہیں چاہتیں وہ ضرور انتظار کرینگی اور اسطرح اوقات کار بھی سیٹ ہو جائینگے ۔بہت سی خواتین اور بچیاں راستے میں  ہراس منٹ کا شکار ہوتی ہیں جسکے لئے وہ خواتین کی گاڑی کو ترجیح دینگی۔ 
اسپر اسنے کچھ زیادہدلچسپی  نہیں لی۔
مجھے تمام روٹس کے کرایے بتائے جو کہ ظاہر ہے 2 روپے سے 10 روپے تک زیادہ بڑھ گئے  ہیں۔ اور یہ ایک عام آدمی کے لئے بہت زیادہ ہیں جس نے روزانہ سفر کرنا ہوتا ہےاسکے لئیے تو ڈبل ہوگئے جو ظاہر ہے اسکے اوپر اضافی بوجھ ہے۔ اسی طرح ڈرائیور بھی ایک عام آدمی ہے اور اسکے بھی اخراجات ہیں۔ بہر حال انتظامیہ کو کوئہ بیچ کی راہ نکالنے کی ضرورت ہے تاکہ عوام کو سہولت ملے نا کہ پریشانی کا سامنا کرنا پڑے۔
یہ تھی آج کی روداد سوچا آپ لوگوں سے شئیر کروں۔ اس تحریر میں جن قوانین کا ذکر ہوا ہے یا مسائل کا۔ انکے حوالے سے اگر کوئی تجویز دینا چاہئیں تو ضرور دیجئے۔