Sunday, March 31, 2019

یوم حساب ۔۔ The Day of Judgement



آج31 مارچ ہے یہ دن ہماری سٹوڈنٹ لائف کا اہم ترین دن ہوتا تھا ۔اسدن  بڑے ملے جلے سے احساسات ہوتے تھے۔ کیونکہ رزلٹ اناوُنس ہوتا تھا۔ پاس ہونیوالوں کو عزت اور فیل ہونیوالوں کو شرمندگی کا سامنا ہوتا تھا۔ اسدن کیفیات بڑی مختلف سی ہوتی تھی۔ خوف و خوشی کے ملے جلے احساسات ہوتے تھے۔ رزلٹ کا خوف ،اگلی کلاس میں جانے کی شدید چاہ، نئے علوم و کتب کو جلد از جلد پڑھنے کی  کی جستجو، اپنے پچھلے اساتذہ سے بچھڑنے کی اداسی ، چند اک دوستوں سے بچھڑنے کا غم۔۔۔ والدین اور رشتے داروں کی طرف سے تحفے آور پیسے ملنے کی پیشگی خوشی۔ ۔۔۔۔۔ہمارے خاندان میں بچوں کو بہت encourage کیا جاتا رھا انکے اچھے رزلٹ پر۔ تمام قریبی رشتہ داروں سے قیمتی تحائف اور پیسے ملا کرتے تھے۔ غرض اک خوبصورت دن ہوتا تھا۔۔۔۔ سنہرے دن۔
میں اسدن کے احساسات کو آج بھی اسی شدت سے محسوس کر سکتی ہوں۔ الحمداللہ وہ ہمارے لِے ہمیشہ خوشی کا دن ہوتا تھا کیونکہ ہمیشہ پوزیشن لی اور عزت کمائی ۔
لیکن میں کبھی جب غور کرنے بیٹھوں تو ان لوگوں کا سوچ کر دکھ ہوتا ہے جنکو اسدن ناکامی کا منہ دیکھنا پڑتا تھا۔ وہ اتنے مایوس و نامراد لوٹتے تھے کہ انکا دکھ دیکھکر اپنی خوشی پھیکی لگتی تھی۔ لیکن ظاہر ہے محنت آپکو ضرور کچھ دیتی ہے اور سستی یا لاپرواہی نقصان کا ہی باعث بنتی ہے۔
دکھ ان لوگوں کو دیکھکر زیادہ ہوتا تھا جو  محنت کرنے کے باوجود نمبر نہیں لے سکتے تھےاور غصہ ان لوگوں کو دیکھکر آتا تھا جو سارا سال نالائقی اور سستی کا مرقع ہوتے تھے اور آخر ی دن پڑھ کے نمبر لے لیتے تھے یا نقلیں مار کے ہم جیسے ایماندار سٹوڈنٹس کا حق مارتے تھے۔ ۔
بہرحال یہ ہماری زندگی کا ایک خوبصورت دن ہوتا تھا۔ میں ابھی بھی اگر اسدن کو سوچوں تو بڑی پیاری یادیں وابستہ ہیں۔ جیسے عید کے دن کی تیاری ہوتی ویسی ہی اسدن کی بھی۔ کیونکہ یونیفارم پہن کے نہیں جانا ہوتا تھا تو نئے کپڑے امی جان سے سلوائے جاتے تھے۔ میچنگ جوتے وغیرہ ساتھ ہوتے ۔ اک عجیب سماں ہوتا تھا۔آج کے بچوں کے شاید وہ جذبات نہ ہوں یا ہم ہی بہت سادہ مزاج کے بچے ہوتے تھے۔ تھوڑے میں خوش رہنے والے۔ قناعت پسند۔
اس دن کو اگر میں یوم حساب کے دن سے تعبیر کروں تو بےجا نہیں ہوگا۔ اسدن جنکا نامہ اعمال بھاری ہو گا ، جنہوں نے اللہ کی راہ کے لئے محنت کی ہوگی، اللہ کی بتائی ہوئی حدود و قیود کا خیال رکھا ہو گا ۔۔ اسکے رستے پہ چلے ہونگے۔۔۔اسدن وہ خوشحال ہونگے اور انکا نامہُ اعمال انکے دائیں ہاتھ میں ہوگا اور وہ کلاس میں فرسٹ آنیوالے بچوں کیطرح بے اندازہ خوش ہونگے۔ جبکہ وہ لوگ جنہوں نے اپنی سستی، کوتاہی اور کاہلی کی وجہ سے کم نمبر حاصل کئے ہونگے یا اپنی نااہلی کی وجہ سے فیل ہوئے ہونگے تو اسدن انکو نامہُ اعمال انکے بائیں ہاتھ میں ملے گا اور وہ افسوس کر رہے ہونگے۔ ہاتھ مل رہے ہونگے۔ لیکن اب تو کچھ نہیں ہو سکتا۔شرمندگی کے مارے وہ چہرے چھپا رہے ہونگے۔ لیکن کوئی حل نہیں اب۔ کوئی شرمندگی، کوئی معافی  کام نہیں  آئیگی۔
يَآ اَيُّـهَا الْاِنْسَانُ اِنَّكَ كَادِحٌ اِلٰى رَبِّكَ كَدْحًا فَمُلَاقِيْهِ (6)
اے انسان! تو اپنے رب کے پاس پہنچنے تک کام میں کوشش کر رہا ہے پھر اس سے جا ملے گا۔
فَاَمَّا مَنْ اُوْتِىَ كِتَابَهٝ بِيَمِيْنِهٖ (7)
پھر جس کا اعمال نامہ اس کے دائیں ہاتھ میں دیا گیا۔
فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَّسِيْـرًا (8)
تو اس سے آسانی کے ساتھ حساب لیا جائے گا۔
وَيَنْقَلِبُ اِلٰٓى اَهْلِهٖ مَسْرُوْرًا (9)
اور وہ اپنے اہل و عیال میں خوش واپس آئے گا۔
وَاَمَّا مَنْ اُوْتِـىَ كِتَابَهٝ وَرَآءَ ظَهْـرِهٖ (10)
اور لیکن جس کو نامہٴ اعمال پیٹھ پیچھے سے دیا گیا۔
فَسَوْفَ يَدْعُوْا ثُبُوْرًا (11)
تو وہ موت کو پکارے گا۔
وَيَصْلٰى سَعِيْـرًا (12)
اور دوزخ میں داخل ہوگا۔
اِنَّهٝ كَانَ فِىْ اَهْلِهٖ مَسْرُوْرًا (13)
بے شک وہ اپنے اہل و عیال میں بڑا خوش و خرم تھا۔
اِنَّهٝ ظَنَّ اَنْ لَّنْ يَّحُوْرَ (14)
بے شک اس نے سمجھ لیا تھا کہ ہرگز نہ لوٹ کر جائے گا۔
بَلٰٓى ۚ اِنَّ رَبَّهٝ كَانَ بِهٖ بَصِيْـرًا (15)
کیوں نہیں، بے شک اس کا رب تو اس کو دیکھ رہا تھا۔
((سورہ انشقاق ۔۔پارہ 30))
 دنیا کے رزلٹ میں تو موقع ہوتا ہے پلٹنے کا رجوع کرنے کا لیکن اسدن کوئی موقع کوئی ندامت ، کوئی رجوع نہیں ہوگا۔ لہذا ہم سب کے لئے لمحہُ فکریہ ہے کہ آج اگر اللہ کریم نے ہمیں دنیا میں، دنیاوی معاملات میں سرخرو کیا ہے تو ہمیں آخرت کے دن بھی ایسی ہی کامیابی اور خوشی مرحمت فرمائے آمین۔
آپ لوگ سوچیں گے کہ ایک ہلکی پھلکی تحریر میں سنجیدگی کا عنصر شامل کر دیا تو عرض یہی ہے کہ دنیا کی زندگی تو عارضی ہے جسمیں ہم اسکے پیچھے بھاگتے چلے جاتے ہیں۔ ابدی ٹھکانے کا بھی کچھ سوچیں کہ کل کو ہمیں جہاں رہنا ہے اور وہی ابدیت ہوگی۔ اللہ کے پیاروں میں ہوئے تو اللہ اپنے پیاروں کی طرح خاطر داری کریگا خوبصورت باغ عطا کریگا ، جہاں نہریں بہہ رہی ہوں گی اور چشمے پھوٹ رہے ہونگے کوئی غم نہیں ، کوئی درد نہیں، کوئ فکر نہیں، کوئی حزن نہیں  ، کوئی ملال نہیں، بس اک سکون، اطمینان اور خوشی ہی ہر سو ہو گی۔ایسی زندگی کی تمنا کون نہیں کرتا۔
دنیا کے امتحان میں کامیاب ہونیوالے بعض اوقات بہت کامیابیاں حاصل نہیں کرپاتے لیکن اللہ کے رستے پر چلنے والوں سے انکے رب کا وعدہ ہے جو ضرور پورا ہوگا کیونکہ وہ کبھی اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔ لہذا اس امر پر ضرور  سوچئے اور دنیا کے ساتھ آخرت کا امتحان پاس کرنے کی بھی کوشش کیجئے۔
اللہ ہمیں دنیا و آخرت کی بھلائیاں عطا فرمائے آمین۔

Tuesday, February 19, 2019

Role of Women in Environment / Agriculture ماحولیات /زراعت میں عورت کا کردار




ہمارے ہاں عورتوں کو صرف چار دیواری تک محدود سمجھا جا تا رہا ہے۔ لیکن اللہ کا شکر ہے کہ اب خواتین زندگی کے ہر شعبے میں اپنا ہنر، اپنی تعلیم اور اپنا فن سکھاتی نظر آتی ہیں۔ تدریس کا شعبہ ہو یا طب کا ، نرسنگ ہو یا ہوسٹنگ،ٹی وی  سکرین ہویا براڈ کاسٹنگ،  پولیس ہو یا آرمی ، بنک ہو یا عدالت ، صحافت ہو یا میزبانی،  سرکاری دفاتر ہوں یا غیر سرکاری ادارے، قانون سازی ہو یا بیوروکریسی ہر جگہ خواتین اپنی ذہانت، فطانت اور فکر و تدبر کیساتھ کام کرتی نظر آتی ہیں۔
ان شعبوں کے علاوہ بھی بہت سے ایسے شعبے ہیں جہاں خواتین کام تو کر رہی ہیں لیکن انہیں وہاں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ شہروں میں کام کرنے والی خواتین تو کافی حد تک خودکفیل ہوتی ہیں لیکن دیہاتوں میں کھیتوں میں کام کرنیوالی خواتین مکمل طور پر اپنے مردوں پر انحصار کرتی ہیں۔

 پاکستان ایک زرعی ملک ہےجسکا 70 فیصد انحصار زراعت پر ہوتا ہے۔ ہمارے ملک میں مردوں کیساتھ ساتھ دیہات میں عورتیں بھی زراعت و گلہ بانی اور مویشیوں کی دیکھ بھال کرنے کا کا م کرتی ہیں ۔ یہ عورتیں نا صرف اپنے مردوں کا زراعت میں  ہاتھ بٹاتی ہیں بلکہ جنگل سے لکڑی کاٹنے،ایندھن لانےاور  دور دراز سے پانی لانے کا کام بھی یہی عورتیں کرتی ہیں۔ کام میں ہاتھ  تو وہ پورا بٹاتی ہیں لیکن انکو نہ اجرت مردوں کے مقابلےمیں  ملتی ہے اور نہ ہی باقی سہولتیں و آسانیاں ۔ہمارے ہاں تومزارعے کو چاہے وہ مرد ہی کیوں نہ ہو کوئی خاص اجرت اور سہولت نہیں ملتی تو عورتوں کو تو بہت ہی مشکل ہے۔
 ہمارے ملک میں پدرسری معاشرہ رائج ہے جو عورتوں کو اتنی آسانی سے سہولتیں فراہم نہیں کرتا۔ بہت ہی کم عورتیں ایسی ہونگی جنکی اپنی زمین ہو اور وہ اس پر کھیتی باڑی یا زمینداری کرتی ہوں۔ سو میں سے کوئی ایک آدھ ایسی مثال ملے گی۔ ہمارے ملک میں پنجاب اور سندھ کے علاقوں میں خواتین کھیتوں میں کام کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں خواتین زیادہ تر گھر میں مویشیوں کی دیکھ بھال تو کرتی ہیں لیکن کھیتوں میں یا زمینداری میں انکا زیادہ عمل دخل نہیں ہوتا۔
جو خواتین کھیتوں میں اپنے مردوں کے شانہ بشانہ کام کرتی ہیں  تو انکو سہولیات بھی ویسی ہی ملنی چاہئیں۔

ان خواتین کو معاشی استحکام فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ تاکہ انکو اپنے اخراجات کے لئے دوسروں کے ہاتھوں کیطرف نہ دیکھنا پڑے۔
کچھ  خواتین کی ذاتی زمین ہوتی ہے جو انکو وراثت میں ملتی ہے۔ لیکن وراثتی زمین انکے  شوہروں ، بھائیوں   یا بیٹوں  کے حصے میں چلی جاتی ہے۔ جبکہ اگر وہ کام کر رہی ہیں تو انکو انکاحصہ ملنا چاہئیے نا کہ وہ کسی کی محتاج بن کے رہیں۔ یا اگر وہ زمین خریدنے کا قصد کرتی بھی ہیں تو اس مقصد کے لئےبھی  انکو اپنے ساتھ کسی مرد کو رکھنا ضروری ہوتا ہے ورنہ انکو زمین کی ملکیت ملنی ناممکن تو نہیں لیکن مشکل ضرور بنا دی جاتی ہے۔ ایسی خواتین کےلئے زمین خریدنے کا حصول آسان بنایا جائے۔ 

خواتین زمینداروں کو آسان اقساط پر  قرضے ملنے چاہئیں۔

ایسی خواتین جو فصلوں، بیجوں اور کھتی باڑی کی سمجھ رکھتی ہیں لیکن وسائل اور آمدن کی کمی کی وجہ سے اپنے کام کو جاری نہیں رکھ سکتیں ۔ حکومت کو چاہئیے کہ وہ انہیں چھوٹے قرضے فراہم کرے۔ انہیں اچھے بیج اور کھاد مہیا کرے۔

زمینداریا کسان خواتین  کو حکومت کی طرف سے تربیتی پروگراموں کا انعقاد کرنا چاہئیے۔ انہیں اچھی نسل کے بیج ، اسکی درست  بوائی کے طریقے اور اچھی فصل کی کاشت سے روشناس کرایا جائے۔

اسی طرح وہ خواتین جنکا کوئی سہارایا ذریعہ آمدن نہیں ہوتا  نہیں ہوتا ان کے لئے حکومت کو چاہئیے کہ کچن  گارڈننگ کے پروگرامز کو فروغ دیں۔ یعنی انکو چھوٹی چھوٹی جگہوں پر پھل، سبزیاں اور جڑی بوٹیاں لگانے کے طریقے سکھائیں تاکہ وہ اپنا روز گار کما سکیں ۔

اسی طرح وہ علاقے جہاں پٙھلوں کے باغات زیادہ ہوتے ہیں حکومت محکمہ زراعت کے ذریعے  وہاں کی  خواتین  کو فاضل اور زیادہ پکا ہوا پھل محفوظ کرنے کے طریقے سکھائے۔ ان پھلوں کو سُکھانے، انکو محفوظ کرنے، ان کے مربے ، جیم، جیلی اور چٹنیاں بنانے کے طریقے سکھائے جائیں۔

اسکے علاوہ  خواتین چونکہ ماحولیات سے، فطری طور پر زیادہ لگاوُ رکھتی ہیں تو انکو موسمی پُھول جو کہ آجکل مختلف مواقع پر  بڑی مانگ میں ہیں۔ حکومت انکے لگانے اور انکی حفاظت کرنے کے طریقے سکھائے۔اور کس طرح انہیں چند دنوں تک محفوظ کیا جا سکتا ہے۔ یہ سب  وہ گھر بیٹھے کرنے  سے اپنا روزگار کما سکتی ہیں۔
اسی طرح ان ڈور پلانٹس بھی بہت مانگ میں ہیں ۔انکو صرف اچھی دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہے وہ خواتین اپنی فطری صلاحیت سے کر سکتی ہیں اور ان پودوں سے ایک منافع بخش کاروبار کر سکتی ہیں۔
 
اسکے علاوہ خواتین گلہ بانی اور مویشیوں کی افزائش میں بھی اپنے مردوں کا ہاتھ بٹاتی ہیں۔توحکومت کو چاہئیے کہ انکو مویشی آسان اقساط پر  فراہم کئے جائیں اور ساتھ ہی انکو  پولٹری  اور ڈیری فارمنگ سے متعلق معلومات بھی فراہم کی جائیں ۔

یہ ناصرف حکومت کی زمہ داری ہے بلکہ سول سوسائٹی کے لوگوں کا بھی فرض بنتا ہے کہ وہ خواتین کو مالی طور پر مستحکم کرنے میں ان تمام کاموں میں حصہ لیں۔
اس طرح انکو گھرسے دور بھی نہیں جانا پڑے گا اور گھر کے قریب اپنی زمینوں پر وہ ان پودوں اور فصلوں کو اگا کر اپنا روزگار کما سکتی ہیں۔ویسے بھی آجکل بہت سے لوگ دوبارہ سے organic food (دیسی خوراک ) کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔ وہ ان خواتین سے ڈائریکٹ آکر اپنی ضرورت کی چیزیں دیسی انڈے، دیسی مرغیاں اور خالص دودھ اور اس سے بنی مصنوعات  خرید سکتے ہیں۔یہ دیسی خوراک یا organic food کے فروغ  کیطرف بھی ایک مثبت قدم ہو گا۔
پانی اسوقت وقت کی اہم ترین ضرورت ہے جسکو ضائع ہونے سے بچانے کے لئے بھی ان خواتین کی تربیت کی جانی چاہئیے ۔ خواتین فطری طور پر کفایت شعار ہوتی ہیں۔دور دراز سے پانی لانے کا کام بھی انہی کے ذمے ہوتا ہے۔ لہذا انکو آگاہی پروگراموں کے ذریعے پانی کی قدرو قیمت کے بارے میں بتانے کی ضرورت ہے۔

حکومت اگر ان تمام خطوط پر سنجیدگی سے عملی کام کرے اور ان خواتین کو صرف گھروں تک محدود نہ رہنے دے اور انکو یہ تمام سہولتیں فراہم کرے جنکا ذکر کیا گیا ہے تو وہ یقیناً ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کرینگی۔ اپنے گھروں میں وہ یہ سارے  کام تو کرتی ہیں لیکن انکا صلہ انہیں کچھ نہیں ملتا۔ لہذا آج کی دیہاتی عورت کو بھی معاشی طور پر مستحکم کرنے کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے۔

Women and Environment

Environmental hazards have become a major global issue this century. Pakistan is one of the highly vulnerable countries to climate change.Major environmental issues currently confronting Pakistan include climate change, water, energy, pollution and waste management, salinity and water logging, irrigated agriculture, biodiversity and more that are too numerous to count. These hazards are not only  impacting the national, social and economic landscape but the human being living here especially Women.Man-made interferences in this natural systems are the chief reasons behind this problem.
The developing world's 1.3 billion rural poor make up the world's largest group of natural sources managers. Understanding their roles and responsibilities including the gender discrimination of natural resource management . It is a starting point for reserving environmental degradation. Women have a major role in this regard.  Women manage natural resources  daily in their roles as farmers and household providers . Typically they are responsible for growing subsistence crops and often have unique knowledge of local crop species.To meet family needs, rural women and girls walk long distances to get fuel, wood and water. Women have less access to and control over Natural Resources than men.  Being the resident of mountainous area I'm  eye witness to this. Usually it is men who put land water ,plants and animals to commercial use  which is unfortunately more valued than women for domestic uses .

Gender inequality is most evident in access to land . Our custom prohibits women for owing land . Landless rural women often depend on common property resources for fuel wood, fodder and food. Without  secure land rights ,farmers especially women farmers have limited access to credit and little incentives to invest in improved management. Women are more likely to make environmentally sound land, management decisions when they have secure ownership and know they can benefit.

Improved water management, especially irrigation is critical to higher agricultural productivity. Women farmers have limited access to irrigation networks  . Women's limited water entitlements force them to use subsistence agricultural practices  that may lead to soil erosion , a major source of instability in watersheds .To protect the natural resources  rural women and men must be empowered to participate in decisions that affect their needs and vulnerabilities .

In a survey, balancing work life with family life is the number of career concern for both men n women with about half of both genders saying it is a major concern. Yet on a variety of indicators women seem more concerned about achieving it. Women can manage  home better as well as job as compared to men .Even these women can play their role in kitchen gardening. It is an efficient and productive way of earning for women who are usually illiterate and have farming skills.

The survey also reports that  women are more stressed out on finances than men, the more ability to pay of credit card, debt or student loans as a big concern. They are also more concerned about getting a raise and given a gender wage gap, this is not surprising . In another  survey 31% of women said they thought they would be paid more if they were a man .The imbalance ends up affecting women more than men who are still thought of as the default caretakers . While more than 20% women are out of workplace and 0.8% men are taking care of children. Working mothers spend double the time than fathers  do on raising children and they end up putting in half the hours that men do in paid employment .

If these women are given equal opportunities to men they can excel in this field. 
Modern Technology should be introduced .They should be given modern  trainings and skills.
They should be provided  with small scale loans and other such incentives so that they can work independently .
If these women are given equal opportunities to those of men they will bring revolutionary changes in the field of Agriculture as well as maintaining favourable  Environment .
Women are the best human being  who can save environment. Women should be encouraged and empowered to utilize their skills in productive works especially undertake the pro-environmental activities that are beneficial not to their surroundings only but bring an overall positive  impact.

Monday, February 18, 2019

بچے ہمارے عہد کے۔۔۔۔۔۔۔۔Children of our Era



آج میرا موضوع سخن ہے بچے۔ میں ایک ماں ہوں اور ماں کی ممتا بلا تمیز و امتیاز سب بچوں کے لئے یکساں ہوتی ہے۔ میرے لئے 25 سال کا جوان بھی بچہ ہے۔ لہذا میرا موضوع سخن چھوٹے بچوں سے لیکر نوجوانوں تک رہے گا۔ آج کے بچے میں اور ہمارے دور کے بچے میں بہت نمایاں فرق ہے۔ ہم ہوتے تھے معصوم، بھولے بلکہ بدھو اور آج کا بچہ ہوشیار، موقع پرست،حاضر جواب ،  انتہائی ذہین۔ ہمارے دور میں ذہانت ناپنے کاپیمانہ کلاس میں پوزیشن لینا ہوتی تھی۔ جبکہ آج کے بچے کی ذہانت تعلیمی قابلیت سے نہیں اسکی حاضر جوابی اور مفاد پرستی سے ظاہر ہوتی ہے۔ وہ کیسے موقع محل کے مطابق بات کرکے اپنے بڑوں کو بھی لاجواب کر دیتا ہے ۔ اور اسے پتہ ہے کہاں اسے موقعے سے فائدہ اٹھا کر اپنی بات منوانی ہے۔ آج کا بچہ بلا کاپُر اعتماد ہے۔ یہ اعتماد یقیناً جدید دور کے والدین کا دیا ہوا ہے۔ اگر یہ اعتماد تہذیب کے دائرے میں ہو تو کوئی قباحت نہیں۔ لیکن اگر حد سے بڑھ جائے تو مسئلہ بن جاتاہے ناصرف والدین کے لئے بلکہ پورے معاشرے کے لئے۔
ہمارے والدین کی سوچ ہوتی تھی کھلاوُ سونے کا نوالہ اور دیکھو شیر کی نظر سے۔ اسی لئے ہم تمام آسائشوں اور سہولیات کے باوجود والدین کی ایک نگاہ سے بھی ڈر جاتے تھے۔ وہ صرف خوف یا ڈر نہیں تھا بلکہ محبت بھرااحترام ہو اکرتا تھا ۔ دراصل ہم جس سے  محبت کرتے ہیں اسکی محبت کی وجہ سے ایسا کوئی  کام نہیں کرتے کہ وہ ناراض ہو جائے، دراصل وہ انکی ناراضگی کا خوف ہوتا تھا۔ یہ اس وقت کے تمام بچوں کی تربیت کا حصہ تھا۔ بڑے بڑے طُرم خان اپنے والدین خاص طور پر والد کے سامنے بات کرتے ہوئے گھگھیاتے تھے۔ یہ بظاہر کمیونیکیشن گیپ ضرور تھا لیکن یہ دور  ایک رکھ رکھاوُ ایک تہذیب کا آئینہ دار تھا۔
آج کا بچہ ذہین ، حاضر جواب اور پراعتماد تو ضرور ہے لیکن اس میں وہ رکھ رکھاوُ ، وہ تہذیب نہیں جسکے تحت ہماری تربیت ہوئی۔آج کے والدین نے کمیونیکیشن گیپ کے نام پر بچوں کو کچھ زیادہ ہی فرینک اور نڈر بنا دیا۔ وہ بلاجھجک اپنی بات کرتا ہے۔ آج کے بچے میں برداشت کامادہ انتہائی کم ہے۔وہ رو کے ، چِلاکر ،سانس روک کے ، اپنی بات منوالیتا ہے۔ اسکی یہی بات ماننی اسے ضدی بناتی ہے۔وہ سمجھتا ہے کہ ہر چیز اسکے تابع ہے۔ اور وہ ہر چیز حاصل کر سکتا ہے۔ اسکو میں کسی حد تک والدین کی کمزوری بھی کہوں گی۔ کیونکہ وہ بچے کی جا بے جا ہر بات مانتے چلے جاتے ہیں۔ بچے کی بات ضرور مانیں لیکن اعتدال میں رہتے ہوئے جیسے اگر وہ کسی چیز کی فرمائش کرتا ہے اسکے لئے مچلتا ہے تو اسکو وہی چیز نہ لیکر دی جائے بلکہ اسی سے ملتی جلتی کوئ اور چیز دلائی جائے اور رسان سے اسے سمجھایا جائے کہ کیا درست ہے اسکے لیئے اور کیا نہیں.  آج کا بچہ دلیل سے قائل ہونیوالا بچہ ہے۔ لہذا والدین کو اپنے بچوں کی نفسیات سے واقفیت ہونی بہت ضروری ہے۔ اور یہ کوئی اتنی مشکل بات نہیں۔ بچے سے دوستانہ ماحول میں اسکی پسند ناپسند ، اسکے مشاغل ، اسکے شوق کے متعلق بات کرنی چاہئں تاکہ آپ اسکی نفسیات سے واقف ہوں۔ بہت سے بچے مشکل بچے ثابت ہوتے ہیں۔دوسروں پر کُھلتے نہیں۔ لیکن پیار اور دوستانہ ماحول انکو  اپنے والدین کے قریب لے جاتا ہے۔

ہمارا ایک المیہ  یہ بھی ہے کہ ہمارے آج کے والدین میں بھی  توازن نہیں ۔ اگر والد سخت ہیں تو والدہ انتہائی نرم اور اگر والد نرم مزاج ہیں تو والدہ انتہائی اصولی اور سخت گیر۔ یوں بچے بھی شدت پسندی کا شکار ہو جاتے ہیں بعض اوقات وہ اپنے ساتھ  اس مسئلے کی وجہ سے دبی شخصیت کا شکار ہو جاتے ہیں یا ضرورت سے زیادہ خوداعتماد ہو جاتے ہیں ۔ اور یہ دونوں شدتیں ہی بچوں کی شخصیت پر منفی اثرات ڈالتی ہیں۔
اگر میں کچھ پہلے دور کی بات کروں تو وہ یہ کہ  والدین گو کہ سختی کرتے تھے لیکن انہوں نے بچوں کو اخلاقیات کا ethics کا درس دیا تھا۔ والدہ اگر نرم مزاج ہوتی بھی تھی تو وہ والد کی سرزنش کے دوران کبھی بچے کی حمایت نہیں کرتی تھی۔ ان والدین نے بچے کی  تربیت میں اپنا وقت دیا جبکہ آج کے والدین وقت کی کمی کا شکار ہیں ۔وہ اپنے بچوں کو جدید کھلونے اور gadgets تو پکڑا دیتے ہیں لیکن تربیت نہیں کرتے ، اچھے برے کی تمیز نہیں سکھاتے اور سب سے بڑھ کر وقت نہیں دیتے۔ جسکی وجہ سے آج کا بچہ رشتوں سے دور اور مشینوں سے قریب ہے۔ اور یہی مشینیں اسکی تربیت کر رہی ہیں۔ بہت سے والدین کو قطعی علم نہیں کہ انکے بچے کیاچیز استعمال کرتے ہیں اور کیسے۔ بہت سے والدین نئی ٹیکنالوجی سے نابلد ہیں۔ لیکن وہ بھی فخریہ اپنے بچوں کو یہ تمام جدید آلات خرید کر تو دیتے ہیں۔انہیں جیب خرچ کے نام پر بھاری رقوم دیتے ہیں۔ لیکن نظر نہیں رکھتے کہ وہ کیسے  استعمال کر رہا ہے اور اسپر یہ چیزیں   مثبت اثرات ڈال رہی  ہیں  یا منفی۔
آجکل جو چند واقعات میری نظر سے گزرے اسکا ذمہ دار میں کسے ٹھراوُں ۔آج کے  بچوں میں خودکشی کابڑھتا ہوا رجحان ۔۔عدم برداشت پرمار پیٹ یا  قتل کا اقدام۔والدین ، اساتذہ اور پڑھائی کےدباوُ و  تناوُ کی وجہ سے نو عمر بچوں کا ہارٹ فیل ہوجانا ۔لوئر مڈل کلاس میں بچوں کا گھر سے بھاگ جانا۔۔۔ شاگرد کا استاد کو قتل کر دینا ۔۔۔۔ نوعمر بچوں کا منشیات کااستعمال ۔۔۔۔۔ یہ سب کیا ہے؟؟؟_
اگر میں تمام عوامل کو اکٹھا  کروں کہ آج کا بچہ کس نہج پر چل رہا ہے اور کیا وہ مثبت ہے ؟ تو اسکی مختلف وجوہات ہونگی۔ کچھ پر میں بات کر چکی ہوں اور کچھ پر کرنا باقی ہے لہذا نمبر وار اگر اسکو لیں تو
1) والدین کا حد سے زیادہ لاڈ پیار
2) والدین کا بچوں کی جائز ناجائز خواہشات پوری کرنا
3) بچوں کی درست خطوط پر تربیت نہ کرنا( اسمیں دینی اور دنیاوی تربیت شامل ہے یعنی اخلاقیات )
4) انگریزی تعلیم کے نام پر بچوں کو ایسے سکولوں میں بھیجنا جو اصل ثقافت سے دور کر رہے ہیں اور مغربی معاشرے کی ترویج کر رہے ہیں )
5) بچوں کو بزرگوں کی صحبت سے دور رکھنا( پہلے وقتوں میں دادیوں نانیوں کا اہم کردار ہوتا تھا تربیت میں)
6) اساتذہ کا بچوں کو تعلیم تو دینا لیکن تربیت نہ کرنا۔ اخلاقیات نہ سکھانا۔ صرف کتابی علم سے مستفید کرنا۔
7) آج کے بچوں کو اپنے اسلاف کے کارناموں سے کوئی واقفیت نہیں۔ بلکہ مغربی طرز کے اداروں میں انپر تنقید کی جاتی ہے۔
8)پہلے وقتوں میں محلے ، کالونی کے بچے آپس میں اکٹھے کھیلتے تھے اور یوں ایکدوسرے سے بہت کچھ سیکھتے تھے۔ آج کا بچہ اگر کھیلے توآپس کی  لڑائی کی والدین کی لڑائی بن جاتی ہے۔ جو خونخوار نتائج کا پیش خیمہ بنتی ہے۔
9) تحمل و برداشت جسکی پہلے بچوں کو تربیت دی جاتی تھی۔ وہ اب مفقود ہو گئی ہے۔ انہیں اینٹ کا جواب پتھر سے دینا سکھایا جاتا ہے۔
10) پہلے وقتوں میں استاد کی عزت والد کی عزت پر مقدم ہوتی تھی۔ والدین استاد کی شکایت لگانے پر الٹا بچے کی سرزنش کرتے تھے جبکہ آج کے والدین فوراً لٹھ لیکر استاد کے پیچھے پڑ جاتے ہیں۔ اورانکے لئے بغض و عناد دل میں رکھتے ہیں ایسے میں بچہ کیسے استاد کی عزت کر سکتا ہے ۔
11) آج کا استاد بھی مشینی انداز میں کام کرنے کا عادی ہو گیا ہے۔ یعنی اسے بچے کی پوزیشن سے غرض ہے اسکے کردار سے نہیں ۔ پہلے کے استاد سارا زور کردار سازی پہ دیا کرتے تھے۔
12) کتاب کی جگہ اب ٹیبلٹ  نے لے لی ہے۔ پہلے بچہ اچھی کتب پڑھتا تھا ۔ جس سے اسکی ذہنی نشو و نما ہوتی تھی۔ جو کہ اب اسطرح سے ممکن نہیں ۔
13) پہلے بچہ آوُٹ ڈور کھیلوں میں مگن ہوتا تھا۔ اسطرح وہ ذہنی اور جسمانی طور پر فٹ رہتا تھا۔ آجکا بچہ ن ڈور گیمز میں زیادہ وقت گزارتا ہے ۔اسکی آوُٹ ڈور ایکٹیویٹیز انتہائی کم ہوگئی ہیں۔ جس سے اسکی ذہنی وجسمانی نشو و نما متاثر ہوئی ہے۔
یہ تو چند ایک وجوہات ہیں جو میں یہاں بیان  کر سکی ہوں۔ بہت سی ایسی باتیں ہیں جنکا ذکر یہاں نہیں ہو سکا۔
آج اور کل کے بچے کے درمیان موازنہ کرنے کی ایک وجہ یہ  تھی آج کا بچہ پراعتماد اور ذہین تو ہے ہی لیکن اسکے ساتھ منہ پھٹ بھی۔ برداشت کی کمی کی وجہ سے وہ بڑے چھوٹے کا لحاظ کرنے سے قاصر ہے۔ اسمیں ضد اور انا کوٹ کوٹ کے بھری ہے۔ انا کی بجائے اگر اسے خودداری کا درس دیا جاتا تو حالات مختلف ہوتے۔
بہرحال مقصد تنقید کرنا نہیں ہے  بلکہ اپنے بچوں کی تربیت اخلاقیات  اور دینی تعلیمات کے دائرے میں کرنے کی ضرورت ہے۔ انہیں صحتمندانہ سرگرمیوں کی طرف راغب کرنے کے اشد ضرورت ہے۔ ہم نے بچوں پر کتابوں کا بوجھ تو لاد دیا ہے لیکن انکی تربیت سے لاپروا ہو گئے ہیں.ہمیں اپنے بچے کو ایک بہترین انسان بنانے کے لئے اسکے ساتھ وقت بتانا ہوگا۔ اسکی ذہانت کو مثبت انداز میں ڈھالنا ہو گا اور اسکی خوداعتمادی کو اخلاقی اقدارکے ذریعے اجاگر کرنا ہوگا ۔  یہی آج کے والدین کی اور اساتذہ کی سب سے بڑی ذمہ داری ہے ۔ استاد کی توجہ دلانے کی بھی کوشش کی ہے کہ صرف تعلیم نہ دیں، کتابی علم سے مستفید نہ کریں بلکہ تربیت اور کردار سازی پہ توجہ دیں جو کہ اساتذہ کا وصف تھا یہیں سے اچھی قوم بنے گی۔ جو ملک وملت کا نام روشن کریگی۔
اللہ کریم ہمیں اور   ہمارے بچوں کو حکمت عطا کرے آمین

Thursday, January 31, 2019

Hum zinda Qaum hey ہم زندہ قوم ہیں



آج بہت دنوں بعد قلم اٹھا رہی ہوں ۔ وجہ کچھ ملکی حالات کا ناسازگار ہونا ہے۔ ملک میں کیا چل رہا ہے کچھ سمجھ نہیں آ رہی۔ مہنگائی ہے کہ بڑھتی ہی چلی جارہی ہے۔ سہولیات کا فقدان دن بدن بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ غربت کی لکیر کم ہونے کی بجائے بڑھتی جارہی ہے۔ قرضوں کے بوجھ تلے دم گھٹتا جا رہا ہے۔ ملک میں کوئی بڑا پراجیکٹ ،کوئی بڑا تعمیری کام ہوتا نظر نہیں آرہا ۔ جو پراجیکٹس پچھلی حکومت کے تھے وہ بھی یا روک دئیے گئے یا انکی رفتار سرمایہ نہ ہونے کی وجہ سے انتہائی سست ہو گئی۔ ڈالر کی پرواز راکٹ کی طرح اوپر اور اوپر کی طرف رواں دواں جبکہ روپیہ ہے کہ گرتا ہی چلا جا رہا ہے۔ ملک میں سرمایہ کاری صفر ہوگئی ہے۔ بڑے بڑے صنعتکار اور سرمایہ دار ملک میں سرمایہ کاری کرنے کی بجائے ایسے ممالک کا رخ اختیار کر رہے ہیں جہاں انہیں آسان شرائط کے ساتھ سرمایہ کاری کرنے کی سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ لاء این آرڈر کی سچوئشن سب کے سامنے ہے۔ دن دیہاڑے سڑک پر حکومتی اہلکار معصوموں کو سر عام گولیاں مار دیتے ہیں۔ اور کوئی آواز اٹھانے والا نہیں۔ معصوم بچیاں دن رات ہوس کے پجاریوں کی بھینٹ چڑھ رہی ہیں.  لیکن کوئی سو موٹو نہیں آتا۔ کوئی مذمتی بیان حکومت کی طرف سے نہیں آتا۔ "ملزموں کی تلاش جاری ہے " جیسا جملہ سننے کو ملتا ہے۔ آئے دن غریب ملازمین کو نوکریوں سے فارغ کیا جا رہا ہے۔ بے روزگاری کا عفریت ہماری نوجوان نسل کو نگلنے کے در پے ہے۔ ٹیلنٹڈ ، ذہین ، قابل لڑکے لڑکیاں ملازمتوں کی تلاش میں در بدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ کلاس فور کی پوسٹ کے لئے پی ایچ ڈی/ ایم اے پاس  حضرات اپلائی کرتے ہیں ۔ کیا المیہ ہے۔ پچھلے اکہتر سالوں میں بھی ہم نے کوئی بہت کمال نہیں کئے نہ ہی کوئی بہت آئیڈیل دورگزارے لیکن اس سے پہلے ملک کی یہ حالت دیکھنے کو کبھی نہی ملی۔   انصاف کا نعرہ لگانے والے انصاف کی تقسیم میں عدل سے کام نہیں لے رہے۔ انتقامی کارروائیاں جاری ہیں۔ بجلی ، گیس  کے نرخ تو بڑھا دئے گئے لیکن لوڈشیڈنگ نے زندگی محال کر دی۔ سخت سردی میں صبح اور شام کے وقت گیس اور بجلی کا نہ ہونا، نہ صرف تکلیف دہ ہے بلکہ قابل مذمت بھی ہے ۔ ان تمام باتوں کا ذمہ دار کوئی ایک نہیں  ہے بلکہ ہم سب اجتماعی طور پر اس جرم میں برابر کے شریک ہیں۔تمام سٹیک ہولڈرز  کا حصہ اس جرم میں بدرجہ اتم موجود ہے۔ حکومتی نمائندے ہوں یا حزب اختلاف سےسیاستدان، انتظامیہ ہو، بیوروکریسی ہو، قانون ساز ادارے ہوں ،قانون نافذ کرنے والے ادارے ہوں ،محکمے ہوں ، سرکاری و غیر سرکاری ادارے ہوں یا عوام ہوں سب قصور وار ہیں ملک کو اس حال میں پہنچانے کے لئے۔   
کوئی مسئلہ اٹھتا ہے سب سے پہلے گریبان سیاستدان کا پکڑا جاتا ہے۔ یہ درست ہے کہ وہ بھی کہیں نہ کہیں ذمہ دار ہوتے ہیں۔  لیکن ایک عوامی نمائندہ اپنے علاقے کے لوگوں کو ہر طرح سے سہولیات بہم پہنچانے کی کوشش کرتا ہے۔ ۔اسکا یہ کام نہیں کہ انتخابات کے وقت تو عوام کو سبز باغ دکھائے اور وقت آنے پر حلقے سے ہی غائب ہو جائے اور بیرونی دوروں کے مزے لوٹے۔ بلکہ اپنی عوام کیساتھ انکے مشکل وقت میں سیسہ پلائی دیوار کی مانند ہر نا انصافی اور مشکل کےخلاف ڈٹ جائے۔ انکو یہ اعتماد دے کہ وہ انکا صحیح نمائندہ ہے۔ لیکن بدقسمتی سے چند ایک لوگوں کو چھوڑ کر ایسا نہیں ہوتا۔ ہر کوئی اپنے مفاد کو مدنظر رکھتا ہے۔
اگر مثال انتظامیہ کی لوں تو وہ کام تو کر رہی ہے لیکن اتنے پر اثر انداز میں نہیں جو اسکا فرض ہے ۔ اگر خوش قسمتی سے ضلع کا اعلیٰ افسر کوئی محنتی  اور ایماندار شخص آ جائے تو اسے چند دن بھی ٹکنے نہیں دیا جاتا۔ نہ صرف سیاستدان اسکے پیچھے ہو سکتے ہیں بلکہ محکموں میں پورے پورے مافیا موجود ہیں جو ان افسران کو وہاں ٹکنے نہیں دیتے۔ بعض اوقات کچھ افسران بھی شاہانہ مزاج کے حامل ہوتے ہیں اور اپنے عوامی نہ ہونے کی وجہ سے پر فارم نہیں کرتے۔
محکموں کی مثال پیش کروں تو دل درد سے بھر جاتا ہے ۔ اتنے بڑے محکمے ، انمیں قابل لوگ، خدمت کے پیش نظرآنیوالے لوگ ، ایماندار لوگ جو بڑے شوق سے جذبہُ خدمت لیکر ان محکموں میں آتے ہیں.  لِیکن  کچھ عرصے بعد وہ بھی سسٹم کا حصہ بن جاتے ہیں ۔ جذبہُ خدمت کے بجائے زیادہ روزگار حاصل کرنے کی علت لگ جاتی ہے۔ پیسہ کمانا برا نہیں لیکن ناجائز ذرائع سے پیسہ بنانا، دھوکہ دہی، فریب دیکر پیسہ بٹورنا، کسی کی مجبوری سے ناجائز فائدہ اٹھانااور اس سے رقم بٹورنا ۔ یہ سب تمام محکموں کااہم جزو بن چکا ہے۔  سرکاری کاموں میں تاخیر کرنا ، لمبے لمبے پروسس میں ڈالنا ، فائلوں کو جان بوجھ کر آگے پیچھے کرنا، یہ تاخیری حربے بھی کرپشن کا ایک حصہ بن گئے ہیں۔
اسی طرح سول سوسائٹیز جو معاشرے کا اہم حصہ ہیں وہ بھی اپنا کردار اس طریقے سے ادا نہیں کر رہیں جو کہ انکی ذمہ داری ہے۔برننگ ایشوز کو تو ایسے ادارے خوب ہوا دیتے ہیں جن سے دنیا میں انکے اداروں کو تو شہرت ملے لیکن ملک کی بدنامی ہو۔ خیر خواہی کے کاموں میں یہ ادارے رفاہی و فلاحی اداروں کا کردارادا نہیں کرتے بلکہ ایسے معاملات سے پہلو تہی کرتے ہیں۔
اب بات کرتے ہیں اس اہم ترین طبقے کی جو مظلوم بھی ہے اور ظالم بھی۔ اور وہ ہے عوام ۔ درج بالا تمام طبقات کے درست و غلط ہر قسم کے فعل کا براہ راست اثر اس مظلوم طبقے پر ہی پڑتا ہے۔لیکن انکو ظالم کہنے کی بھی ایک وجہ ہے اور وہ یہ کہ یہ اپنے حق کے لئے آواز نہیں اٹھاتے ۔ مسائل میں گھرے رہینگے، انکے ساتھ ہی زندگی گزارنے کی عادت ڈال لیں گئے  لیکن چوں بھی نہیں کرینگے۔ انکا ایک اور سنگین جرم بھی ہے اور وہ ہے قوانین کی پابندی نہ کرنا ۔ قوانین توڑنا۔اپنے کو قانون سے بالاتر سمجھنا ۔ کچھ لوگ تو شعور کی کمی اور جہالت کی وجہ سے ایسا کرتے ہیں اور کچھ لوگ طاقت اور دولت کے نشے میں چور ایسی حرکات کے مرتکب ہوتے ہیں۔
اسکے ساتھ ساتھ ایک اور وجہ جو اہم ترین ہے وہ ہے انصاف کی عدم فراہمی۔ چونکہ لوگوں کو بروقت، فوری اور سستا انصاف نہیں ملتا جس سےانمیں مایوسی تو پھیلتی ہی ہے بلکہ سزا و جزا کا خوف ہی ختم ہو جاتا ہے۔ اگر مجرم کو وقت پر اور جرم کے مطابق سزا ملے تو کوئی وجہ  نہیں کہ جرائم میں کمی نہ آئے۔ اسی طرح سزا کےبروقت نفاذ اور اچھے کاموں پر لوگوں کو انعامات دیئے جائیں تو کیسے ممکن نہیں کہ وہ اچھائی کا بول بالا کرنے میں اپنا کردار ادا نہ کریں. REWARD & PUNISHMENT کے اصول پر جبتک ہم عمل پیرا نہیں ہونگے ہم کبھی ایک اچھے معاشرے کی تشکیل نہیں کر سکتے۔
ایک اور اہم ترین وجہ ہمارے زوال کی یہ بھی ہے کہ ہم عوام اپنے حقوق سے آگاہی نہیں رکھتے ۔ ہمیں پتہ ہی نہیں کہ ہمارا حق کیا ہے، ہمارا فرض کیا ہے اور ہماری ذمہ داری کیا ہے اور دوسرے پہ کیا ذمہ داری عائد ہوتی ہے کسی بھی قسم کے حالات میں۔ اگر ہمیں آگاہی اور شعور مل جائے تو کیا وجہ ہے کہ ہم اس معاشرے میں فعال کردار ادا نہ کریں اور اسے ایک بہترین معاشرہ بنائیں ۔
جو گزر گیا اسپر لکیر پیٹنے کی بجائے ہمیں اپنی نوجوان نسل پر جو کہ اسوقت ملکی آبادی کا تقریبا 63% حصہ ہیں ، فوکس کرنے کی ضرورت ہے۔ انکو ہر قسم کی تعلیم و تربیت کے ہتھیاروں سے لیس کرنے کی ضرورت ہے۔ انکو نئے علوم، فنون و ہنر کیطرف راغب کرنے کیساتھ ساتھ انکی درست سمت میں راہنمائی کی ضرورت ہے۔ اور یہ سب اسی صورت ممکن ہو گا جب ہم ایک قوم کی شکل اختیار کرینگے۔ گروہ بندیوں،جماعتوں ،  خاندانوں، ذات پاتوں، فرقوں اور مسلکوں پر بحث کرنے کی بجائے ایک مسلمان ، ایک امت، ایک قوم،  ایک پاکستانی کی حیثیت سے اس ملک کے  میں اہم کردار ادا کرینگے۔ اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرینگے۔ امر بالمعروف بھی جس قوم سے ختم ہو جائے تو وہ بھی زوال کی طرف گامزن ہوتی ہے۔لہذا ان تمام باتوں پر عمل کرتے ہوئے ایک اچھے انسان اور اچھے شہری کی خصوصیات سے مزین ہو کر اس ملک کے کاروبارِ زندگی میں اپنا بہترین  حصہ ڈالیں  اوریہی وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ ہمیں ملکر ثابت کرنا ہے کہ ہم زندہ قوم ہیں۔

Monday, November 26, 2018

گھر کے اندر فضائی آلودگی سے بچاوُکے طریقے

گھر کے اندرفضائی آلودگی سےبچاوُ کے طریقے:
آجکل ہر دوسرے بندے کو الرجی، نزلہ ، زکام اور سانس کی مختلف بیماریاں لاحق ہیں۔موسم بھی اس قسم کا ہے کہ کبھی شدید گرمی اور کبھی شدید سردی۔ موسم کے اس تغیر وتبدل سے بھی کافی مسائل کا سامنا  ہے۔ اس میں زیادہ ہاتھ  ماحولیاتی، فضائی آلودگی کا بھی ہے۔
 دنیا میں آلودہ ہوا کے نتیجے میں ہر برس 70 لاکھ اموات ہوتی ہیں اور اس صورتحال سے چھٹکارا حاصل کرنا ممکن دکھائی نہیں دیتا۔

صحت مند فضا میں سانس لینے کے آسان طریقوں کی مدد سے دس میں سے نو افراد مختلف بیماریوں سے بچ سکتے ہیں جن میں فالج،پھیپھڑوں کا کینسر اور سانس کی بیماریاں شامل ہیں۔

آلودگی کے خورد بینی ذرّات ہمارے اطراف ہمیشہ رہتے ہیں اور ہمیں نقصان پہنچاتے رہتے ہیں خاص کر اگر آپ گھر کے اندر ہوں۔

ماحولیات کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی امریکی ایجنسی کی ایک تحقیق کے مطابق اکثر اوقات گھروں کے اندر آلودگی باہر کے برعکس دو سے پانچ گنا زیادہ ہوتی ہے۔

ایئر لیبز میں چیف سائنس آفیسر میتھیو ایس جونسن کے مطابق گھر کے اندر فضا میں اتنی کی آلودگی ہوتی ہے جتنی کے باہر لیکن اس کے ساتھ گھر کے اندر دیگر آلودہ عناصر بھی شامل ہو جاتے ہیں جس میں مکان کی تعمیر میں استعمال ہونے والا مواد، کھانا پکانا اور صفائی کے لیے استمعال ہونے والی اشیا شامل ہیں۔

خوش قسمتی سے چند ایسی چیزیں ہیں جن کی مدد سے آپ گھر کے اندر کی فضا کو صحت مند بنا سکتے ہیں۔۔

گھروں میں ہوا کی نکاسی کا موثر انتظام کیا جانا چاہیے
ہوا کی کی نکاسی کے راستے
گھر میں تازہ ہوا کے داخلے کے لیے نامناسب راستوں کے نتیجے میں آلودہ ہوا گھر کے اندر ہی ٹک جاتی ہے۔

انڈیا کے انرجی اینڈ ریسورسز انسٹی ٹیوٹ سے منسلک آر سوریش کا کہنا ہے کہ گھر میں تازہ ہوا کے لیے دن میں ایک بار تقریباً کھڑکیوں اور دروازوں کو دو سے تین بار کھولیں۔اوراگر ایسا ممکن نہ ہو تو کم از کم ایک مرتبہ تو ضرور کھولیں دن میں۔

اگر آپ کو کسی قسم کی الرجی نہیں اور باہر موسم زیادہ شدید نہیں ہے تو اس صورتحال میں گھر کے اندر ہوا کی نکاسی کے نظام کو استعمال کر سکتے ہیں جس میں فلٹر لگے ایئر کنڈیشنگ سسٹم شامل ہیں۔

اس کے علاوہ اگر آپ کھانا پکا رہے ہیں یا نہا رہے ہیں تو اس صورت میں ہوا باہر نکالنے والے فین کا استعمال کریں تاکہ مضر صحت ذرّات اور ضرورت سے زیادہ نم ہوا کو باہر نکلا جا سکے۔

گھر کے اندر پودے رکھیں
اگر آپ ہوا صاف کرنے والے مہنگے فلٹرز کا خرچہ برداشت نہیں کر سکتے تو اس صورت میں آپ گھر کے اندر پودوں کو رکھ سکتے ہیں۔

آر سریش کے مطابق بعض پودے ہوا کے مضرصحت اجزا کو صاف کر سکتے ہیں اور یہ گھر کے اندر کی فضا میں آلودگی کے لیے ایک موثر ذریعہ ثابت ہوتے ہیں۔

اگرچہ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نظریے کے کوئی تحقیقاتی شواہد نہیں ہیں تو چلیں کم از کم یہ آپ کے لیے خوشگوار احساس کا باعث تو بنتے ہیں۔
گھر میں پودے رکھنے سے گھر کے اندر کی ہوا کو صحت مند بنایا جا سکتا ہے
تو اگر آپ گھر کے اندر پودے رکھنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں تو درج ذیل میں دیے گئے چند پودوں سے آپ یہ شروع کر سکتے ہیں۔

منی پلانٹ: اس پودے کو اگانا اور دیکھ بھال کرنا آسان ہوتا ہے اور یہ قالین اور روغن سے نکلنے والے مضرِ صحت کیمیکلز کو فضا سے ختم کرنے میں مدد دیتا ہے۔

ڈریگن ٹری: یہ درخت مشرقی افریقہ میں پایا جاتا ہے اور اسے گھروں اور دفاتر میں آرائش کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

یہ درخت بھی مضرِ صحت کیمیکلز کو فضا سے ختم کرنے میں مدد دیتا ہے۔

سنیک پلانٹ: اس پودے کو زیادہ پانی دینے کی ضرورت خاص کر سردیوں کے موسم میں۔ یہ پودہ رات کے وقت کاربن ڈائی آکسائڈ جذب کرتا ہے۔

آر سریش کے مطابق آپ جو کوئی بھی پودا گھر میں رکھیں اس میں سب اہم بات ذہن میں رکھنے والی یہ ہے کہ یہ پودے قدرتی طور پر فضا کو صاف کرتے ہیں اور اس کے لیے ضروری ہے کہ انہیں صحت مند رکھا جائے کیونکہ دوسری صورت میں ہوا میں بائیولوجیکل آلودگی پھیلانا شروع کر دیں گے۔
صفائی ستھرائی کے لیے استعمال ہونے والے کیمیکل فضا کو آلودہ کرتے ہیں
ماحول دوست طریقے سے بو کا خاتمہ
تعمیراتی سامان میں استعمال ہونے والے مواد کے بارے میں جاتنے ہیں اور مصنوعی خوشبو air freshener سے جب بھی اس کو ختم کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو اس کے نتیجے میں مزید کیمیلز کا اخراج ہوتا ہے۔

یعنی کے ہوا کے حساب سے اپنا ردعمل دیتے ہیں اور ممکنہ طور پر خطرناک کاٹ ٹیل بناتے ہیں۔

مثال کے طور پر گھروں میں صفائی کے لیے استعمال ہونے والا ایسا سامان یا آلات جو ماحول دوست نہیں ہوتے اور ان کے استعمال سے فارمل ڈی ہائیڈ کیمیکل کا اخراج کر سکتے ہیں جس کا تعلق کینسر جیسے مرض سے ہوتا ہے۔

آپ کیا کر سکتے ہیں؟
تو آپ کو کرنا یہ ہے کہ کپڑوں کی دھلائی کے لیے ایسی مصنوعات کا استعمال کریں جن میں خوشبو نہیں ہوتی ہے اور اس کے ساتھ پریشر سے نکلنے والے سپرے کا استعمال ترک کر دیں جس میں قالین کو صاف کرنے اور ہوا سے بو ختم کرنے کے قالین کو بھی جھاڑنا چاہئیے تاکہ اسکے اندر چھپے ہوئے جراثیم ختم ہوں۔ دھوپ لگوانی بھی بہت ضروری ہے۔ لیے استعمال ہونے والے سپرے بھی شامل ہیں۔

اگر بات کچن کی جائے تو آر سریش کے خیال میں باس کو ختم کرنے کے لیے لیموں کے ٹکڑے اور بیکنگ سوڈے کا استعمال کیا جائے۔
صفائی کا خاص اہتمام کیا جائے ۔ صفائی والے کپڑے کی روزانہ دھلائی اور چند دن بعد تبدیلی ازحد ضروری ہے۔
گھروں کے اندر سگریٹ نوشی سے اجتناب کی کوشش کرنی چاہیے
گھر کے اندر سگریٹ نوشی سے اجتناب
سگریٹ نوشی بذاتِ خود نقصان دہ ہے اور گھر میں کی جائے تو بے حد نقصان ہوتی ہے۔

گھر میں اجتماعی سگریٹ نوشی کا اندر کی فضا پر سنگین اثرات مرتب ہوتے ہیں اور خاص کر اگر ہوا کی نکاسی کا انتظام غیر مناسب ہو۔

سگریٹ کا دھواں قریب میں دوسروں کے لیے بے حد نقصان دے ہو ہوتا ہے اور یہ انھیں خطرناک بیماریوں سے دوچار کر سکتا ہے۔

اگر گھر میں نوازئیدہ بچے ہوں تو سگریٹ نوشی کے نتیجے میں ان کی اچانک موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔
گھروں کی کھڑکیوں میں گیلے کپڑے خشک کرنے سے آلودگی کے کافی مسائل حل ہو سکتے ہیں

الرجی سے نجات حاصل کریں

پولن اور مٹی کے ذرّے کے نتیجے میں بیمار ہونے کا خدشہ ہوتا ہے اور خاص کر اگر آپ کو سانس کی بیماری، پولن الرجی اور دیگر اقسام کی الرجی ہیں۔

ہوا میں نمی کے تناسب سے یہ ہوا میں یہ تیزی سے پھیلتی ہیں اور ان لوگوں کو متاثر کر سکتی ہیں جن کو پیپھڑوں کی بیماری لاحق ہو سکتی ہے۔

تو اس صوتحال میں آپ کر سکتے ہیں؟ ماہرین کے مطابق آسان طریقوں سے اس مسئلے کو حل کر سکتے ہیں جن میں اپنے بستر کو باقاعدگی سے صاف کریں۔تکیے اور لحاف quilt یا کمبل کو باقاعدگی سے دھوپ لگوائیں ۔ ممکن ہو تو ہفتے میں دو مرتبہ ایسا ضرور کریں۔ کوشش کریں تکیہ ہر چھ مہینے بعد تبدیل کریں۔ اور اگر
washable
 ہے تو اسکو ضرور ہر تھوڑے عرصے بھد دھولیا کریں۔

اپنے قالین کو صاف کریں اور اس میں کوشش کریں کہ ماحول دوست ویکیوم کا استعمال کریں۔اگر چھوٹا پیس ہو کارپٹ کا تو اسے ضرور جھاڑ لینا چاہئیے۔

اپنے کپڑوں کو کھڑکی کے قریب خشک کریں۔

داخلی دروازے پر میٹ ڈالیں تاکہ باہر سے آلودگی اندر نہ آئے اور ہوا سے اضافی نمی صاف کرنے والے آلے کا استعمال کریں۔میٹ کو باقاعدگی سے صاف کریں تاکہ اسکے ساتھ ناقص ذرات آپکے جوتوں کے ساتھ گھر کے اندر داخل نہ ہوں۔
یہ بھی کوشش کرنی چاہئیے کہ باہر پہننے والے جوتے گھر کے برآمدے یا lobby میں ہی اتار دیئے جائیں تاکہ انکے ساتھ مضر ذرات یا جراثیم گھر کے اندرونی حصوں میں نہ جائیں۔
ان تمام حفاظتی تدابیرپر عمل کرنے سے ہم بہت سی سانس کی بیماریوں اور الرجیزallergies  سے نجات حاصل کر سکتے ہیں .

Saturday, October 27, 2018

#واک_کی_واک_اورشہرکےمسائل_سےآگاہی During Walk noted the issues of city



آجکل شہر کے مختلف حصوں کی واک کرنے کا اتفاق ہوا۔ واک کے لئے میں کچھ مخصوص جگہوں پر جاتی تھی۔لیکن شہر کے حالات سےبہتر طور پر واقفیت حاصل کرنے کے لئے میں نے سوچا کہ مجھے شہر کے مختلف حصوں میں جانا چاہئیے تاکہ وہاں کے مسائل و ایشوز سے بخوبی آگاہ رہوں۔ اس مقصد کے لئیے لنک روڈ، کالج روڈ، آرام باغ، چنار روڈ ،مری روڈ، جھانیاں روڈ(نواں شہر) پی ایم اے۔کاکول روڈ ، بائی پاس اور کامرس کالج روڈ پر واک کی۔اور ان تمام جگہوں کے مسائل سے آگاہی ہوئی ۔
لنک روڈ  سے بات شروع کرونگی لنک روڈ بہت زیادہ رش والی سڑک بن گئی ہے۔ پبلک ٹرانسپورٹ سوزوکیاں اور ڈبے تو بہت زیادہ ہیں پرائیویٹ گاڑیاں بھی بے تحاشہ نظر آتی ہیں ۔ اس روڈ کا سب سے بڑا مسئلہ ریڑھیاں ہیں۔ دسیوں بار آپریشن ہوئے ، کئی باران ریڑھیوں کو یہاں سے ہٹا کر دیگر مختص مقامات پر منتقل کیا گیا لیکن پھر وہی ڈھاک کے تین پات۔۔ دوبارہ اس پہ ریڑھیاں براجمان  نظر آتی ہیں۔ میں مانتی ہوں کہ یہ غریب لوگ ہیں انکی روزی پہ بھی لات نہیں مارنی چاہئیے لیکن یہ بھی تو تھوڑا تعاون کریں۔ نالوں پہ قبضہ کر کے  انہوں نے اپنی دکانیں سجالی ہیں۔ اور جب بارش ہوتی ہے تو نالوں کے بند ہونے کی وجہ سے سارا گندا پانی لنک روڈ کی دکانوں اور مکانوں میں چلا جاتا ہے۔اور لوگوں کو بہت نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انتظامیہ کو بھی چاہئیے کہ ان ریڑھی بانوں کو ایسی جگہ الاٹ کی جائے جہاں پر انکو بھی روزگار کے بھر پور مواقع ملیں اور عوام الناس کو بھی تکلیف نہ ہو۔ ایک اور مسئلہ اس روڈ پر پارکنگ کا ہے۔ لوگ روڈ پر گاڑی پارک کر دیتے ہیں جسکی وجہ سے ٹریفک میں بہت زیادہ تعطل پیدا ہوتا ہے۔ اسوقت یہ شہر کی مصروف ترین سڑک ہے لہذا میری تجویز ہے کہ اسکے دونوں چوکوں ( سربن چوک، توت والا چوک)میں ٹریفک پولیس والے تعینات ہونے چاہئیں۔تاکہ ٹریفک کا نظام درست طریقےسے چلتا رہے۔ ایک اور مسئلہ ہے یہاں پر دوکانوں کے آگے تک لوگوں نے بورڈ اور چیزیں رکھی ہوتی ہیں۔ یعنی چھوٹی چھوٹی تجاوزات کی ہوئی ہیں جس سےراہگیروں کو چلن میں بڑی پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ 
کالج روڈ کیطرف آئیں تو یہاں بہتری کی گنجائش نظر آتی ہے۔ کینٹ بورڈ نے سڑک بھی بنائی اور فٹ پاتھس بھی نئے بنے۔اسمیں ایک تکلیف دہ بات یہ ہے کہ موٹر سائیکلوں اور سائیکلوں والے بچے یہاں اکثر ون ویلنگ کرتے نظر آتے ہیں۔ ایک اور مسئلہ اس روڈ کے شروع میں بننے والے ورکشاپس  اور روڈ کے اوپربنے  سروس سٹیشنز موجود ہیں۔جسکی وجہ سے انتہائی گند بنا ہوتا ہے کیچڑ والا۔ اس روڈ پر  گاڑیوں کو سڑک کے کنارے کھولا ہوا ہوتا ہے جو کہ ٹریفک میں تعطل کاباعث بنتا ہے۔ یہاں موجودنالے  کو کور کر کے سڑک کو وسعت دی گئی ہے لیکن افسوس ہماری جاہلیت پر کہ اسکو پارکنگ بنا دیا جاتا ہے۔ ایک اور وجہ یہاں پر پھلوں کی ایک شاپ ہے جس سے زیادہ تر امیر لوگ گاڑی میں بیٹھے بیٹھے چیزیں آرڈر کرتے ہیں اور اتنی دیر تک روڈ بلاک رہتا ہے۔ ایک اور مسئلہ کہ یہاں پوسٹ گریجویٹ کالج کے باہر جگہ پر اکثر یاتو پارکنگ کی گئی ہوتی ہے یا ریت ، بجری ، اینٹیں پھینکیں گئی ہوتی ہیں ۔ایک اور مسئلہ کہ یہاں پر بھی رہاشی کوڑا کوڑے دان میں نہیں پھینکتے بلکہ اردگرد بکھیر دیتے ہیں۔

آرام باغ کی طرف رُخ کیجئے توایکدم تنگ سڑک شروع ہو جاتی ہے۔ پرانے بورڈ آفس اور اسکی جگہ بننے والے نئے وکیشنل سنٹر کی نئی دیوار تیار ہو بھی گئی ہے لیکن پچھلی یعنی پرانی دیوار ابھی تک نہیں توڑی گئی جو کہ راستے کی تنگی میں مزید اضافہ کر رہی ہے متعلقہ اداروں کو فواری طور پر پرانی دیوار کو ہٹانا چاہئیے تاکہ چار سے پانچ فٹ جگہ سڑک کو مذید مل جائے ۔ اور یہ واحد سڑک ہے شہر کی جسپرتانگے چلتے نظر آتے ہیں۔ جو ٹریفک کے تعطل کاباعث بنتے ہیں کیونکہ اس روڈ پر اوور ٹیکنگ کی بلکل گنجائش نہیں ہوتی۔تو ٹریفک بلکل سست چلتی ہے۔ مجھے تانگے سے کوئی مسئلہ نہیں لیکن اس روڈ پر تانگے سے کافی مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ اسکے علاوہ اس علاقے کے فٹ پاتھ پر لوگ ٹولیاں بنا کر کھڑے ہو جاتے ہیں جس سے پیدل چلنے والےراہگیروں کو انتہائی دشواری کا سامنا ہوتا ہے۔ تیسری بات یہ کہ یہاں روڈ پر اینٹیں اور بجری، ریت پھینکی جاتی ہے جو ٹریفک کے تعطل کی ایک اور اہم وجہ ہے۔ جبکہ دفعہ 144 نافذ ہے تو اس پر ضرور ایکشن ہونا چاہئیے۔ایک اور بات کہ فٹ پاتھ پر داہنے ہاتھ پر ایک گہرا نالہ ہے اسکے آگے کوئی رکاوٹ نہیں خدانخواستہ کسی کے اس نالے میں گرنے سے نقصان ہو سکتا ہے۔ لہذا اسکے آگے fence یعنی جنگلہ ہونا چاہئیے۔ یہ کافی رش والا علاقہ ہے اور بہت بچے یہاں چلتے پھرتے نظر آتے ہیں۔انکی حفاظت ضروری ہے۔
چنار روڈ کی بات اگر کروں تو اس پر فٹ پاتھ بننے سے بہت فرق پڑا ہے ۔ کم ازکم اس خوبصورت روڈ پر  چلنے کے لئے ایک باقاعدہ ٹریک تو  بن گیا ہے لیکن افسوس لوگ پھر بھی فٹ پاتھ پر چلنےکی بجائے سڑک پر چل رہے ہوتے ہیں جو کہ بہت ہی خطرناک ہے کیونکہ اس روڈ پر ٹریفک بہت تیز چلتی ہے اور حادثات کے خدشات بڑھ جاتے ہیں ۔
نڑیاں روڈ کو وسعت کی ضرورت ہے اور ساتھ ہی فٹ پاتھ کی کیونکہ اس روڈ پر آپکو بہت زیادہ لوگ چلتے ہوئے نظر آئینگے۔ اور یہ بہت ہی گنجان آباد علاقہ بن گیا ہے۔

مری روڈ کا اول حصہ چونکہ آرمی کے تسلط میں ہے لہذا راوی وہاں چین ہی چین لکھتا ہے۔ لیکن اسکے مین روڈ کے چوک میں خوفناک رش ہوتا ہے ۔ میری تجویز کے مطابق وہاں ٹریفک وارڈن کے ساتھ ملٹری پولیس کا سپاہی بھی کھڑا ہو تو خاطر خوا فرق پڑسکتا ہے۔مری روڈ کو اگر جھگیاں والے علاقے سےآخر تک دیکھیں تو کافی رش نظر آتا ہے لیکن U ٹرنزمیں زیادہ فاصلہ  کرنے کی وجہ سے خاطر خوافرق پڑا ہے ۔ یہاں ایک بات جو تکلیف دہ نظر آئی وہ یہ تھی کہ نہ تو لوگ فٹ پاتھ پہ راستہ دیتے ہیں اور  نہ یہاں کے فٹ پاتھ زیادہ صاف ہیں۔ ایک اور hurdle بورڈز ہیں جو لوگوں نے دوکانوں سے باہر کرکے رکھے ہوتے ہیں۔ یا لوگ ان روڈز پر کرسیاں رکھکر بیٹھ جاتے ہیں جو پیدل چلنے والوں کے لئے کافی تکلیف دہ ہے۔اسی طرح اس روڈ پر کوڑا کرکٹ بھی نسبتاً زیادہ نظر آیا۔ اسکے لئے الزام میں محکموں کو نہیں بلکہ عوام الناس کو دونگی کہ انہیں خود یہ احساس ہونا چاہئیے کہ کوڑے کو کوڑا دان کے اندر پھینکا جائے نہ کہ باہر پھیلا دیا جائے۔
جھانیاں روڈ نواں شہر کی بات کروں تو اول تو یہ کہ وہاں فٹ پاتھس نہیں ہیں جو کہ ہونے چاہئیں کیونکہ زیادہ تر لوگ اس سڑک پر چلتے نظر آتے ہیں۔ دوسرا ٹریفک وہاں بہت تیزی سے گزرتی ہے ۔ ڈرائیونگ میں احتیاط کرنی چاہئیے جبکہ یہ کافی گنجان آباد علاقہ بن گیا ہے۔ اس روڈ پر ایک اور تکلیف دہ چیز ہے ٹیوب ویلز سے فاضل پانی کا اخراج ہے  جو کہ خومخواہ ضائع ہوتا ہے۔ اسکا کوئی سد باب ہونا چاہئیے ۔ واسا کے چیف ایگزیکٹو سے بھی اس سلسلے میں بات ہوئی تھی لیکن تاحال کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ اور کچھ نہیں تو وہاں واٹر ٹینکس ہی رکھ دیئے جائیں تاکہ پانی بے جا ضائع ہونے سے بچ جائے۔

پی ایم اے کاکول روڈ کی طرف بڑھتے ہیں ۔ یہ نسبتاً مذکورہ تمام علاقوں سے صاف ہے۔ لیکن یہاں پانی کا مسئلہ بہت زیادہ ہو جاتا ہے برسات کے موسم میں۔ خاص طور پر بلال ٹاوُن بہت متاثر ہوتا ہے بارش میں۔ بہتر سیوریج سسٹم نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کے گھروں میں پانی داخل ہو جاتا ہے جس سے بہت نقصان  ہوتاہے۔ اس روڈ پر باوجود رہائشی علاقہ ہونے کے گاڑیاں بہت تیز رفتاری سے گزرتی ہیں۔ جو کہ کئی بار  حادثات  کا باعث بنیں۔
بائی پاس ایک اچھی اور روشن بل کھاتی سڑک ہے لیکن وہاں فٹ پاتھ کا ہونا بہت ضروری ہے کیونکہ وہ واک اور جاگنگ کے لئے اچھا ٹریک ثابت ہو سکتا ہے۔اسکو اگر مذید کشادہ کیا جاسکتاہو تو بہتر ہے۔ جگہ تو آرمی کے پاس ہے اگر وہ تھوڑی سی مہربانی کر کے اسکو کشادہ کر دیں تو انکو کوئی فرق نہیں پڑے گا لیکن عوام الناس کا فائدہ ہو جائیگا۔
کامرس کالج روڈ اور جناح آباد اور حبیب اللہ کالونی کے اندرونی روڈز انتہائی تنگ ہیں۔ اور اکثر جگہوں پر تو پانی کی وجہ سے کیچڑ کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ یہ وہ علاقے ہیں جہاں شہر کی کریم رہتی ہے۔ بڑی بڑی گاڑیوں والےاصحاب جنکا تعلق زیادہ تر سرکاری نوکریوں سے ہے  وہاں سے دن میں کئی بار گزرتے ہیں لیکن انکو کھڈوں والی سڑکیں اور کوڑا کرکٹ کا ڈھیر نظر نہیں آتا۔ یہ نسبتاً پڑھے لکھے لوگوں کا پوش علاقہ تصور کیا جاتا ہے لیکن عملی طور پر ایسا محسوس نہیں ہوتا۔
یہ تو تھا میری واک کے نتیجے میں نظر آنیوالے مسائل کامشاہداتی جائزہ۔ اگر میں ایک یا دو دنوں میں یہ سب observe کر سکتی ہوں تو وہاں پر رہنے والے اصحاب کو کن دشواریوں کا سامناہو گا ؟ یہ لمحہُ فکریہ ہے ہم سب کے لئیے ۔ ہمیں اپنے اپنے علاقوں اور انکے مسائل کے سدباب ک لئے گاہے گاہے اداروں کو اپنی متحدہ آواز سے جگانے کی ضرورت ہے۔ہمیں اپنا حق آگے بڑھ کر خود لینا ہو گا اور نہیں تو کم از کم اپنے مسائل کے حل کے لئے آواز تو اٹھانا ہوگی۔
مزید یہ سلسلہ جاری رہیگا ۔ اور جن علاقوں میں واک کے لئے گئی تو ضرور شئیر کرونگی۔ اور آپ سب سے بھی التماس ہے کہ آج جن علاقوں کا ذکر ہوا ان میں موجود دیگر مسائل بھی آپ کمنٹس میں share کریں تاکہ ان سب مسائل کے سد باب کے لئے کوئی مناسب  لائحہ عمل ترتیب دیا جا سکے۔