دسمبر سولہ 2014کا دن نہ ہماری یادداشتوں سے نکلے گا اور نہ اس ملک کی تاریخ کے سیاہ باب سے ۔۔۔۔ بہت سارے عام سے دنوں کیطرح وہ بھی ایک عام سا دن تھا ۔۔۔تمام کام روٹین کے مطابق ہو رہے تھے ۔۔صاحب حضرات اپنے دفتروں اور بچے اپنے سکولوں ، کالجوں اور یونیورسٹیز کو روانہ ہوچکےتھے۔۔۔۔ خواتین خانہ اپنے معمول کے گھریلو کاموں میں مصروف ہو چکی تھیں۔۔۔کچھ لوگ مارننگ شوز انجوائے کر رہے تھے اور کچھ خبریں سن رہے تھے ۔۔۔اچانک ایک خبر بریکنگ نیوز بن کر ٹی وی پر چلتی ہے کہ پشاور کے آرمی پبلک سکول پہ حملہ۔۔۔۔ تو لوگ چونک جاتے ہیں، حیران ہوتے ہیں کہ سکول پہ حملہ کیسے ہو سکتا ہے ۔۔۔۔۔ لوگ مختلف ذرائع سے معلوم کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن کچھ واضح نہیں۔۔۔پھر چند ہی گھنٹوں بعد ہر طرف دہشت، خوف، امیدو یاس کی کیفیت میں گھرے لوگ دوڑتےبھاگتے نظر آتے ہیں۔۔۔ قیامت کا سماں لگ رہا ہے۔۔۔۔لوگ بے تابانہ کبھی ایکطرف جاتے ہیں ، کبھی دوسری طرف، سیکیورٹی اداروں نے سکول کو چاروں طرف سے گھیر لیا ہے ۔۔۔۔۔اور امدادی کاروائیوں میں سرگرم ہیں۔۔۔۔۔نہ کوئی اندر جا سکتا نہ کوئی باہر آسکتا۔۔۔غرض اک افراتفری اور ہیجان برپا نظر آرہا ہے۔۔۔۔ بڑی مشکلوں سے والدین کو اندر جانے کی اجازت ملتی ہے تو اندر ایک اور حشر برپا ہے۔۔ایک اور قیامت انکی منتظر ہے ۔۔۔تاحد نگاہ خون ہی خون ہے۔۔۔۔والدین، اعزا، احباب روتے دھوتے اپنے بچوں کی تلاش میں گم ہیں۔۔۔۔ مائیں بے چین و مضطرب دعائیں مانگتی دوڑتی پھر رہی ہیں کہ ہمارا بچہ مرنے والوں میں شامل نہ ہو۔۔۔۔ ہر کوئی شہیدہونے والوں سے نظر چرا رہا ہے اور امید سے اپنے بچوں کو کھوج رہا ہے۔۔۔لیکن ہائے افسوس کچھ بچے وہیں شہید ہو جاتے ہیں اور کچھ ہسپتال میں دم توڑ دیتے ہیں۔ گھر والوں کے علاوہ رضاکاروں کی ایک بڑی ٹیم ہے جو وہاں موجود پریشان حال والدین کی دلجوئی بھی کر رہے ہیں اور انکی تلاش میں مدد بھی دے رہے ہیں۔۔۔۔ کوئی دعا کارگر نہ ہوئی ، ماوُں کی فریاد رسی نہ ہوئی اور وہ سینہ کوبی کرتے نامراد لوٹ گئیں کیونکہ انکے لخت جگر تو حوروں کے جلو میں اس جہان فانی سے کوچ کر گئے اور سبز باغوں کی جنتوں میں جا سمائے۔ اونچے منبروں پر بیٹھے اپنے والدین کے منتظر ہیں۔۔لیکن انہیں والدین کی تڑپ ، انکا رونا ، کرلانا ، کچھ یاد نہیں۔۔۔۔ کچھ دکھائی نہیں دے رہا ۔۔۔وہ تو حریر و ریشم کے جوڑے پہنے اتراتے پھر رہے ہیں۔۔۔۔انہیں کیا غم کہ ماں زندہ ہے یا زندہ جسم میں ایک چلتا پھرتا مردہ وجود ۔۔۔وہ کیا جانیں کہ باپ جو دنیا کے سامنے فخر تو کر رہا ہے لیکن اندر سے کس بری طرح ٹوٹ چکا ہے کہ کھڑا ہونا بھی محال ہے۔۔۔۔وہ تو ان معذوب دہشت گردوں کے ہاتھوں ابدی زندگی پا گِئے ۔۔۔ ان شیطانوں کے ہاتھوں انہیں فرشتگی حاصل ہو گئی ۔۔۔وہ معصوم فرشتوں کی صورت میں سبز باغوں میں چہلیں کرتے پھر رہے ہیں اس بات سے بے نیاز کہ دنیا میں انکے پیچھےانکے نام پر کیا کیا سیاستیں اور کیا کیا منافقتیں ہو رہی ہیں۔۔۔وہ تو مر کر امر ہو گئے اور انکے والدین جی کر بھی مر گئے ۔۔۔۔ہائے اے کاش کوئی تو انکو بتائے کہ مرے بچو تم تو امن کے علمبردار بن گئے ۔۔۔۔تمھارے بعد ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ ہو گیا۔۔۔ تمھارے بعد بہت سی طاغوتی قوتوں کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔۔۔ بہت سے فرعونوں کے غرور خاک میں مل گِئے ۔۔۔ اور تمھیں شہادت کے درجے پر فائز کرنے والے کتنی عبرتناک موت مرے۔۔۔کوئی تو انکو بتائے کہ مرے بچوں تمھارا خون رائیگاں نہیں گیا۔۔تمھاری معصوم جانوں کے بدلے کروڑوں لوگوں کی جانیں محفوظ ہوئیں ۔۔میرے بچوں تم تو امن کے پیامبر بن گئے۔۔۔۔ تم تو جن درجات پر پہنچے انپر پہنچنے کی تمنا میں لوگ کیا کیا مشقت کرتے ہیں۔۔۔کتنی دعائیں مانگتے ہیں۔۔۔لیکن میرے بچوں ۔۔یہی تمھارا نصیب تھا جو تمھیں ملا لیکن انسانیت کو شرمندہ کرکے۔۔۔۔۔ تم زندہ ہو ۔۔۔انسانیت مر گئی ہے.
تحریر: آمنہ سردار
خیال آسٙ
Monday, December 16, 2019
Sunday, November 10, 2019
نبی کریم ﷺ کی خانگی زندگی۔۔۔
۔
میں کیا اور میری اوقات کیا کہ نبی ﷺ کی مدح سرائی کر سکوں لیکن ایک ادنیٰ سی کاوش ہے آپؐ کے حضور ہدیہُ عقیدت پیش کرنے کی ۔۔۔
آج ہم بات کرینگے آپ ﷺکی ازواج مطہرات اور انکے ساتھ آپکے تعلق کی۔۔۔۔ نبی کریم ﷺکو امت کے بالمقابل یہ خصوصی امتیاز حاصل ہے کہ آپ مختلف اغراض کے پیش نظرچار سے زائد شادیاں کر سکتے تھے ۔۔ چنانچہ جن عورتوں سے آپ نے عقد فرمایاانکی تعداد گیارہ تھی۔۔۔ جن میں سے نو ازواج مطہرات آپ ﷺ کی وفات کے وقت حیات تھیں جبکہ دو خواتین آپکی زندگی میں ہی وفات پا چکی تھیں یعنی حضرت خدیجہ ؓ اور حضرت زینب بنت خزیمہؓ ۔۔۔ذیل میں ان ازواج مطہرات کے نام اورانکے مختصرحالات پیش کئے جا رہے ہیں ۔۔۔
١)حضرت خدیجةالکبریٰ سے تو کون مسلمان ہے جو واقف نہیں ۔۔آپؐ کی پہلی زوجہ محترمہ۔شریک حیات، شریک غم، ہمدم و دمساز و غمگسار۔۔۔پہلی مسلمان خاتون۔۔۔آپؓ سے نبی کریمﷺ کی تمام اولاد سوائے حضرت ابراہیم کے دو صاحبزادے اور چار صاحبزادیاں ان ہی کے بطن سے تھیں ۔۔۔
٢) حضرت سودہؓ بنت زمعہ حضورؐ کے چچازاد بھائی سکران بن عمرو کی بیوہ تھیں اور آپؐ نے بی بی خدیجہ ؓ کی وفات سے چند دن بعد ان سے نکاح کیا۔۔۔
٣) حضرت عائشہ صدیقہ بنت ابی بکرؓ سے آپؐ کا نکاح نبوت کے گیارہویں سال ہوا جبکہ رخصتی شوال سن ١ھ میں ہوئی ۔انکی عمر اسوقت ٩ برس تھی(مختلف جگہوں پر مختلف روایات ہیں )۔۔۔ حضرت عائشہ آپؐ کی واحد باکرہ زوجہ تھیں ۔۔۔ اور سب سے محبوب ترین بیوی بھی ۔۔مسلمان عورتوں میں سب سے زیادہ فقیہہ اور صاحب علم تھیں ۔۔۔
۴) حضرت حفصہ بنت عمر ؓ خنیس بن حذافہ کی بیوہ تھیں ان سے آپؐ نے ٣ ھ میں نکاح کیا۔
۵) حضرت زینب بنت خزیمہؓ انکالقب ام المساکین تھا کیونکہ انتہا درجے کی رحمدل اور خداترس تھیں ۔عبداللہ بن جحش کی بیوہ تھیں جو جنگ احد میں شہید ہوئے تو ۴ھ میں آپؐ کے عقد میں آگئیں ۔۔۔لیکن صرف آٹھ ماہ بعد وفات پاگئیں ۔۔۔آپکا تعلق قبیلہ بنو ہلال سے تھا ۔۔
٦) ام سلمہ بنت ابی امیہ ؓ یہ ابوسلمہؓ کی بیوہ تھیں ۴ ھ میں آپؐ کے عقد میں آئیں ۔
٧)زینب بنت جحش ؓ یہ قبیلہ بنواسد بن خزیمہ سے تعلق رکھتی تھیں اور آپؐ کی پھوپھی زاد تھیں ۔انکا نکاح آپؐ کے منہ بولے بیٹے زید بن حارث سے ہوا لیکن انکے ساتھ آپکا نباہ نہ ہو سکا تو انہوں نے طلاق دے دی۔۔خاتمہُ عدت کے بعد اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺکو مخاطب کرتے ہوئے یہ آیت نازل فرمائی ۔۔"جب زید نے ان سے اپنی حاجت پوری کر لی تو ہم نے انہیں آپکی زوجیت میں دے دیا "٣٧:٣٣۔۔۔۔۔۔حضرت زینب سے آپ ؐ کی شادی ۵ ھ میں ہوئی ۔۔۔
٨) جویریہ بنت حارثؓ یہ قبیلہ خزاعہ کے سردار کی بیٹی تھیں ۔۔یہ بنو مصطلق کے قیدیوں میں لائی گئ تھیں اور حضرت ثابت بن قیس کے حصے میں آئی تھیں انہوں نے ان سے مکاتبت کرلی یعنی مقررہ رقم پہ آزاد کرلیاآپؐ نےانکی طرف سے مقررہ رقم عطا فرمائی اور ان سے ۵/٦،ہجری میں شادی کر لی ۔۔۔
٩) ام حبیبہ رملہ بنت ابی سفیان ؓ ۔یہ عبیداللہ بن جحش کی بیوی تھیں انکے ساتھ حبشہ ہجرت کی لیکن انکے شوہر مرتد ہوگئے اور وہیں انتقال ہوا۔۔لیکن یہ اپنی ہجرت اور ایمان پہ قائم رہیں۔۔رسول ﷺ نے نجاشی کو عمرو بن امیہ کے ہاتھ ایک خط دیکر بھیجا اور اسمیں ام حبیبہؓ سے نکاح کا پیغام بھیجا۔۔۔ یہ ٧ ہجری کا واقعہ ہے۔۔۔
١٠) حضرت صفیہ بنت حیی بن اخطب ؓ یہ بنی اسرائیل سے تھیں اور خیبر میں قید کی گئی تھیں لیکن آپ ﷺنے انکو اپنے لئے منتخب کیااور آزاد کر کے شادی کر لی یہ فتح خیبر کے بعد ٧ ہجری کا واقعہ ہے ۔۔
١١) حضرت میمونہ بنت حارثؓ یہ حضرت ام لفضل لبابہ بنت حارث ؓ کی بہن تھیں ۔۔ان سے رسول ﷺ نے عمرہُ قضا سے فارغ ہونے کے بعد٧ہجری میں احرام سے حلال ہونے کے بعد شادی کی ۔۔۔
یہ گیارہ بیویاں تھیں جو نبی کریم ؐ کے عقد میں رہیں اور آپؐ کی صحبت و رفاقت میں رہیں ۔۔ان میں سے دو بیویاں آپؐ کی حیات میں فوت ہوئیں اور نو بیویاں آپؐ کی وفات کے بعد حیات رہیں۔۔۔۔
جہاں تک لونڈیوں کا تعلق ہے تو آپ ﷺ نے دو لونڈیوں کو اپنے پاس رکھا ایک ماریہ قبطیہ ؓ جنہیں فرمانروائےمصر نے بطور ہدیہ بھیجا تھا اور انکے بطن سے آپکے بیٹے حضرت ابراہیم پیدا ہوئے ۔
دوسری لونڈی ریحانہ بنت زید تھیں انکا تعلق یہود کے قبیلہ بنی نظیر یا بنی قریظہ سے تھا ۔یہ بنو قریظہ کے قیدیوں میں تھیں ۔رسول ﷺ نے انکو اپنے لئےمنتخب فرمایااوروہ آپکی لونڈی تھیں۔۔۔
آپ ﷺ کی پہلی شادی پچیس برس کی عمر میں ہوئی جو آپکے جوانی کے عمدہ ایام تھے۔۔۔ اسی دور میں اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺکو اولاد کی نعمت سے بھی نوازا جو کہ ایک نارمل زندگی کی نشاندہی کرتی ہے ۔۔۔ آپؐ کی اتنی شادیوں کے پیچھے کچھ اغراض و مقاصد تھے ۔۔۔جنکے ذریعے اللہ تعالیٰ نے مثالیں قائم کیں ۔۔۔ جو عام شادیوں سے بہت ہی زیادہ عظیم اور جلیل المرتبہ تھے۔۔۔ حضرت ابوبکر ؓاور حضرت عمرؓ کی بیٹیوں سے عقد ان جلیل القدر اصحاب سے تعلقداری کا ذریعہ تھا اسی طرح آپﷺ نے اپنی بیٹیوں کے رشتے حضرت عثمان ؓ اور حضرت علیؓ کو دیئے وجہ یہ تھی کہ یہ چاروں جلیل القدر اور بلند مرتبہ اصحاب پیچیدہ ترین دور میں اسلام کیلیئے فداکاری کا امتیازی وصف و جذبہ رکھتے تھے ۔۔۔
عرب کا دستور تھا کہ وہ رشتہُ مصاہرت کا بڑا احترام کرتے تھے انکے نزدیک دامادی کا رشتہ مختلف قبائل کے درمیان قربت کا ایک اہم سبب رھا اور داماد سے جنگ لڑنا اور محاذ آرائی کرنا بڑے شرم اور عار کی بات سمجھی جاتی تھی ۔۔اس دستور کو سامنے رکھکر آپﷺ کو چند شادیاں کرنی پڑیں ۔۔اسکے علاوہ ان سب سے عظیم بات یہ ہے کہ رسولﷺ ایک غیر مہذب قوم کو تربیت دینے ، اسکا تزکیہُ نفس کرنے اور تہذیب و تمدن سکھانے پر معمور تھے ۔۔آپ ﷺ نے مختلف عمر اور لیاقت کی اتنی عورتوں کو منتخب فرمایا جو عورتوں کی تعلیم وتربیت میں معاون ثابت ہوں انکی تعلیم، تربیت، تزکیہ نفس کریں اور مسائل شریعت سکھا سکیں ۔۔۔۔
نبی کریم ﷺ کا ایک نکاح ایک ایسی جاہلی رسم توڑنے کے لئے بھی عمل میں آیا جو عرب معاشرہ میں پشت ہا پشت سے چلی آ رہی تھی کہ متبنیٰ کو حقیقی بیٹے کے برابر جانا جاتا تھا۔۔۔ اسکی حرمت اور حقوق بھی حقیقی بیٹے کے برابر تھے۔۔جنہیں اللہ تعالیٰ نے حضرت زینب سے آپکا نکاح کروا کر ان سبکو باطل ثابت کر دیا ۔۔۔
امہات المومنین کیساتھ آپ ﷺکی زندگی انتہائی بلندپایہ، شریفانہ ، باعزت اور عمدہ انداز کی تھی ۔ازواج مطہرات بھی شرف ، قناعت ، صبر تواضع خدمت اور ازدواجی حقوق کی نگہداشت کا مرقع تھیں۔۔۔ آپؐ اپنی ازواج سے انتہائی شفیق رویہ رکھتے تھے۔۔۔ انکے اوپر خوامخوا کے کاموں کا بوجھ نہیں ڈالتے تھے بلکہ اپنا کام اپنے ہاتھ سے کرتے تھے۔۔۔ روایات میں ہے کہ حضرت عائشہ ؓ کیساتھ آپؐ نے دوڑ کا مقابلہ بھی کیا ۔ازواج سے لطیف انداز میں گفتگو بھی آپؐ کا وطیرہ تھی۔۔۔ ایکدفعہ حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ آپ ؐ سے گلے شکوے کر رہی تھیں اور آپؐ مسکرا کر انکا جواب دے رہے تھے۔۔۔۔ کبھی اپنی ازواج کیساتھ نہ سخت کلامی فرمائی نہ ترش روئی سے پیش آئے ۔۔آپ ﷺ سراپا رحمت تھے۔۔۔سراپاالفت تھے۔۔۔۔ آپ ؐ نے انصاف کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے تمام بیویوں کی باریاں مقرر کر رکھی تھیں گو کہ آپﷺ پر اپنی بیویوں کے بارے میں باری مقرر کرنا ضروری نہ تھا مگر اس کے باوجود آپ ﷺ نے محبت و الفت کو برقرا ر رکھنے کے لئے اپنی ازواج مطہرات کے درمیان باری مقرر فر مایا تھا جس کی آپ ﷺ پابندی کرتے تھے اور کبھی کسی وجہ سے ایک کے پاس تشریف لے جاتے تو پھر ساری ازواج مطہرات کے پاس خبر گیری کے لئے تشریف لے جاتے ۔آپ ﷺ کے اسی بے مثال محبت کا نتیجہ تھا کہ ازواج مطہرات میں سے ہر ایک اپنے آپ کو آپ ﷺکے سب سے زیادہ قریب سمجھتی تھیں۔
جب آپ ﷺ سفر میں تشریف لے جاتے تو خاص اپنی مرضی سے کسی کو لے جا سکتے تھے مگر آپ ﷺ قرعہ اندازی فر ماتے اور جن کانام نکلتا ان کو لے جاتے ۔زندگی بھر آپ ﷺ انہیں اصولوں پر قائم رہے یہاں تک کہ زندگی کے آخر لمحات میں جب کہ آپ ﷺ کی طبیعت بڑی ناساز تھی اس وقت بھی اس کا مکمل خیا ل رکھا اورجب سب کے پاس جانے کی طاقت نہ رہی تو آپ ﷺ نے اپنی ازواج مطہرات سے حضرت عائشہ کے حجرے میں رہنے کی ’اجازت مانگی‘ جسے سارے ازواج نے بخوشی قبول فر مالیا۔
اور ان سب کے باوجود آپ ﷺ اپنے رب کریم سے دعا مانگتے کہ:اے میرے مولیٰ!جو برابری میرے بس میں تھی وہ میں نے کی لیکن جس بات پر میں قادر نہیں اس پر مجھے ملامت نہ فرما۔
حوالہ جات
(نسائی،کتاب عشرۃ النسائ
رحیق المختوم
تحریر آمنہ سردار
یہ میر ی ایک کاوش ہے۔۔۔۔
اللہ کریم اسے قبول فرمائے آمین ۔۔۔اگر کوئی غلطی ہوئی ہو تو رب تعالیٰ سے معافی کی خواستگار ہوں ۔۔۔
میں کیا اور میری اوقات کیا کہ نبی ﷺ کی مدح سرائی کر سکوں لیکن ایک ادنیٰ سی کاوش ہے آپؐ کے حضور ہدیہُ عقیدت پیش کرنے کی ۔۔۔
آج ہم بات کرینگے آپ ﷺکی ازواج مطہرات اور انکے ساتھ آپکے تعلق کی۔۔۔۔ نبی کریم ﷺکو امت کے بالمقابل یہ خصوصی امتیاز حاصل ہے کہ آپ مختلف اغراض کے پیش نظرچار سے زائد شادیاں کر سکتے تھے ۔۔ چنانچہ جن عورتوں سے آپ نے عقد فرمایاانکی تعداد گیارہ تھی۔۔۔ جن میں سے نو ازواج مطہرات آپ ﷺ کی وفات کے وقت حیات تھیں جبکہ دو خواتین آپکی زندگی میں ہی وفات پا چکی تھیں یعنی حضرت خدیجہ ؓ اور حضرت زینب بنت خزیمہؓ ۔۔۔ذیل میں ان ازواج مطہرات کے نام اورانکے مختصرحالات پیش کئے جا رہے ہیں ۔۔۔
١)حضرت خدیجةالکبریٰ سے تو کون مسلمان ہے جو واقف نہیں ۔۔آپؐ کی پہلی زوجہ محترمہ۔شریک حیات، شریک غم، ہمدم و دمساز و غمگسار۔۔۔پہلی مسلمان خاتون۔۔۔آپؓ سے نبی کریمﷺ کی تمام اولاد سوائے حضرت ابراہیم کے دو صاحبزادے اور چار صاحبزادیاں ان ہی کے بطن سے تھیں ۔۔۔
٢) حضرت سودہؓ بنت زمعہ حضورؐ کے چچازاد بھائی سکران بن عمرو کی بیوہ تھیں اور آپؐ نے بی بی خدیجہ ؓ کی وفات سے چند دن بعد ان سے نکاح کیا۔۔۔
٣) حضرت عائشہ صدیقہ بنت ابی بکرؓ سے آپؐ کا نکاح نبوت کے گیارہویں سال ہوا جبکہ رخصتی شوال سن ١ھ میں ہوئی ۔انکی عمر اسوقت ٩ برس تھی(مختلف جگہوں پر مختلف روایات ہیں )۔۔۔ حضرت عائشہ آپؐ کی واحد باکرہ زوجہ تھیں ۔۔۔ اور سب سے محبوب ترین بیوی بھی ۔۔مسلمان عورتوں میں سب سے زیادہ فقیہہ اور صاحب علم تھیں ۔۔۔
۴) حضرت حفصہ بنت عمر ؓ خنیس بن حذافہ کی بیوہ تھیں ان سے آپؐ نے ٣ ھ میں نکاح کیا۔
۵) حضرت زینب بنت خزیمہؓ انکالقب ام المساکین تھا کیونکہ انتہا درجے کی رحمدل اور خداترس تھیں ۔عبداللہ بن جحش کی بیوہ تھیں جو جنگ احد میں شہید ہوئے تو ۴ھ میں آپؐ کے عقد میں آگئیں ۔۔۔لیکن صرف آٹھ ماہ بعد وفات پاگئیں ۔۔۔آپکا تعلق قبیلہ بنو ہلال سے تھا ۔۔
٦) ام سلمہ بنت ابی امیہ ؓ یہ ابوسلمہؓ کی بیوہ تھیں ۴ ھ میں آپؐ کے عقد میں آئیں ۔
٧)زینب بنت جحش ؓ یہ قبیلہ بنواسد بن خزیمہ سے تعلق رکھتی تھیں اور آپؐ کی پھوپھی زاد تھیں ۔انکا نکاح آپؐ کے منہ بولے بیٹے زید بن حارث سے ہوا لیکن انکے ساتھ آپکا نباہ نہ ہو سکا تو انہوں نے طلاق دے دی۔۔خاتمہُ عدت کے بعد اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺکو مخاطب کرتے ہوئے یہ آیت نازل فرمائی ۔۔"جب زید نے ان سے اپنی حاجت پوری کر لی تو ہم نے انہیں آپکی زوجیت میں دے دیا "٣٧:٣٣۔۔۔۔۔۔حضرت زینب سے آپ ؐ کی شادی ۵ ھ میں ہوئی ۔۔۔
٨) جویریہ بنت حارثؓ یہ قبیلہ خزاعہ کے سردار کی بیٹی تھیں ۔۔یہ بنو مصطلق کے قیدیوں میں لائی گئ تھیں اور حضرت ثابت بن قیس کے حصے میں آئی تھیں انہوں نے ان سے مکاتبت کرلی یعنی مقررہ رقم پہ آزاد کرلیاآپؐ نےانکی طرف سے مقررہ رقم عطا فرمائی اور ان سے ۵/٦،ہجری میں شادی کر لی ۔۔۔
٩) ام حبیبہ رملہ بنت ابی سفیان ؓ ۔یہ عبیداللہ بن جحش کی بیوی تھیں انکے ساتھ حبشہ ہجرت کی لیکن انکے شوہر مرتد ہوگئے اور وہیں انتقال ہوا۔۔لیکن یہ اپنی ہجرت اور ایمان پہ قائم رہیں۔۔رسول ﷺ نے نجاشی کو عمرو بن امیہ کے ہاتھ ایک خط دیکر بھیجا اور اسمیں ام حبیبہؓ سے نکاح کا پیغام بھیجا۔۔۔ یہ ٧ ہجری کا واقعہ ہے۔۔۔
١٠) حضرت صفیہ بنت حیی بن اخطب ؓ یہ بنی اسرائیل سے تھیں اور خیبر میں قید کی گئی تھیں لیکن آپ ﷺنے انکو اپنے لئے منتخب کیااور آزاد کر کے شادی کر لی یہ فتح خیبر کے بعد ٧ ہجری کا واقعہ ہے ۔۔
١١) حضرت میمونہ بنت حارثؓ یہ حضرت ام لفضل لبابہ بنت حارث ؓ کی بہن تھیں ۔۔ان سے رسول ﷺ نے عمرہُ قضا سے فارغ ہونے کے بعد٧ہجری میں احرام سے حلال ہونے کے بعد شادی کی ۔۔۔
یہ گیارہ بیویاں تھیں جو نبی کریم ؐ کے عقد میں رہیں اور آپؐ کی صحبت و رفاقت میں رہیں ۔۔ان میں سے دو بیویاں آپؐ کی حیات میں فوت ہوئیں اور نو بیویاں آپؐ کی وفات کے بعد حیات رہیں۔۔۔۔
جہاں تک لونڈیوں کا تعلق ہے تو آپ ﷺ نے دو لونڈیوں کو اپنے پاس رکھا ایک ماریہ قبطیہ ؓ جنہیں فرمانروائےمصر نے بطور ہدیہ بھیجا تھا اور انکے بطن سے آپکے بیٹے حضرت ابراہیم پیدا ہوئے ۔
دوسری لونڈی ریحانہ بنت زید تھیں انکا تعلق یہود کے قبیلہ بنی نظیر یا بنی قریظہ سے تھا ۔یہ بنو قریظہ کے قیدیوں میں تھیں ۔رسول ﷺ نے انکو اپنے لئےمنتخب فرمایااوروہ آپکی لونڈی تھیں۔۔۔
آپ ﷺ کی پہلی شادی پچیس برس کی عمر میں ہوئی جو آپکے جوانی کے عمدہ ایام تھے۔۔۔ اسی دور میں اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺکو اولاد کی نعمت سے بھی نوازا جو کہ ایک نارمل زندگی کی نشاندہی کرتی ہے ۔۔۔ آپؐ کی اتنی شادیوں کے پیچھے کچھ اغراض و مقاصد تھے ۔۔۔جنکے ذریعے اللہ تعالیٰ نے مثالیں قائم کیں ۔۔۔ جو عام شادیوں سے بہت ہی زیادہ عظیم اور جلیل المرتبہ تھے۔۔۔ حضرت ابوبکر ؓاور حضرت عمرؓ کی بیٹیوں سے عقد ان جلیل القدر اصحاب سے تعلقداری کا ذریعہ تھا اسی طرح آپﷺ نے اپنی بیٹیوں کے رشتے حضرت عثمان ؓ اور حضرت علیؓ کو دیئے وجہ یہ تھی کہ یہ چاروں جلیل القدر اور بلند مرتبہ اصحاب پیچیدہ ترین دور میں اسلام کیلیئے فداکاری کا امتیازی وصف و جذبہ رکھتے تھے ۔۔۔
عرب کا دستور تھا کہ وہ رشتہُ مصاہرت کا بڑا احترام کرتے تھے انکے نزدیک دامادی کا رشتہ مختلف قبائل کے درمیان قربت کا ایک اہم سبب رھا اور داماد سے جنگ لڑنا اور محاذ آرائی کرنا بڑے شرم اور عار کی بات سمجھی جاتی تھی ۔۔اس دستور کو سامنے رکھکر آپﷺ کو چند شادیاں کرنی پڑیں ۔۔اسکے علاوہ ان سب سے عظیم بات یہ ہے کہ رسولﷺ ایک غیر مہذب قوم کو تربیت دینے ، اسکا تزکیہُ نفس کرنے اور تہذیب و تمدن سکھانے پر معمور تھے ۔۔آپ ﷺ نے مختلف عمر اور لیاقت کی اتنی عورتوں کو منتخب فرمایا جو عورتوں کی تعلیم وتربیت میں معاون ثابت ہوں انکی تعلیم، تربیت، تزکیہ نفس کریں اور مسائل شریعت سکھا سکیں ۔۔۔۔
نبی کریم ﷺ کا ایک نکاح ایک ایسی جاہلی رسم توڑنے کے لئے بھی عمل میں آیا جو عرب معاشرہ میں پشت ہا پشت سے چلی آ رہی تھی کہ متبنیٰ کو حقیقی بیٹے کے برابر جانا جاتا تھا۔۔۔ اسکی حرمت اور حقوق بھی حقیقی بیٹے کے برابر تھے۔۔جنہیں اللہ تعالیٰ نے حضرت زینب سے آپکا نکاح کروا کر ان سبکو باطل ثابت کر دیا ۔۔۔
امہات المومنین کیساتھ آپ ﷺکی زندگی انتہائی بلندپایہ، شریفانہ ، باعزت اور عمدہ انداز کی تھی ۔ازواج مطہرات بھی شرف ، قناعت ، صبر تواضع خدمت اور ازدواجی حقوق کی نگہداشت کا مرقع تھیں۔۔۔ آپؐ اپنی ازواج سے انتہائی شفیق رویہ رکھتے تھے۔۔۔ انکے اوپر خوامخوا کے کاموں کا بوجھ نہیں ڈالتے تھے بلکہ اپنا کام اپنے ہاتھ سے کرتے تھے۔۔۔ روایات میں ہے کہ حضرت عائشہ ؓ کیساتھ آپؐ نے دوڑ کا مقابلہ بھی کیا ۔ازواج سے لطیف انداز میں گفتگو بھی آپؐ کا وطیرہ تھی۔۔۔ ایکدفعہ حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ آپ ؐ سے گلے شکوے کر رہی تھیں اور آپؐ مسکرا کر انکا جواب دے رہے تھے۔۔۔۔ کبھی اپنی ازواج کیساتھ نہ سخت کلامی فرمائی نہ ترش روئی سے پیش آئے ۔۔آپ ﷺ سراپا رحمت تھے۔۔۔سراپاالفت تھے۔۔۔۔ آپ ؐ نے انصاف کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے تمام بیویوں کی باریاں مقرر کر رکھی تھیں گو کہ آپﷺ پر اپنی بیویوں کے بارے میں باری مقرر کرنا ضروری نہ تھا مگر اس کے باوجود آپ ﷺ نے محبت و الفت کو برقرا ر رکھنے کے لئے اپنی ازواج مطہرات کے درمیان باری مقرر فر مایا تھا جس کی آپ ﷺ پابندی کرتے تھے اور کبھی کسی وجہ سے ایک کے پاس تشریف لے جاتے تو پھر ساری ازواج مطہرات کے پاس خبر گیری کے لئے تشریف لے جاتے ۔آپ ﷺ کے اسی بے مثال محبت کا نتیجہ تھا کہ ازواج مطہرات میں سے ہر ایک اپنے آپ کو آپ ﷺکے سب سے زیادہ قریب سمجھتی تھیں۔
جب آپ ﷺ سفر میں تشریف لے جاتے تو خاص اپنی مرضی سے کسی کو لے جا سکتے تھے مگر آپ ﷺ قرعہ اندازی فر ماتے اور جن کانام نکلتا ان کو لے جاتے ۔زندگی بھر آپ ﷺ انہیں اصولوں پر قائم رہے یہاں تک کہ زندگی کے آخر لمحات میں جب کہ آپ ﷺ کی طبیعت بڑی ناساز تھی اس وقت بھی اس کا مکمل خیا ل رکھا اورجب سب کے پاس جانے کی طاقت نہ رہی تو آپ ﷺ نے اپنی ازواج مطہرات سے حضرت عائشہ کے حجرے میں رہنے کی ’اجازت مانگی‘ جسے سارے ازواج نے بخوشی قبول فر مالیا۔
اور ان سب کے باوجود آپ ﷺ اپنے رب کریم سے دعا مانگتے کہ:اے میرے مولیٰ!جو برابری میرے بس میں تھی وہ میں نے کی لیکن جس بات پر میں قادر نہیں اس پر مجھے ملامت نہ فرما۔
حوالہ جات
(نسائی،کتاب عشرۃ النسائ
رحیق المختوم
تحریر آمنہ سردار
یہ میر ی ایک کاوش ہے۔۔۔۔
اللہ کریم اسے قبول فرمائے آمین ۔۔۔اگر کوئی غلطی ہوئی ہو تو رب تعالیٰ سے معافی کی خواستگار ہوں ۔۔۔
Wednesday, November 6, 2019
کیا جنگ مسائل کا حل ہے
۔۔۔۔۔
ہم بھی کیا سادہ لوح لوگ ہیں جواپنے مسائل کے حل کے لئے دوسروں کی جانب نظر کرتے ہیں ۔۔۔خود آگے بڑھکر اس مسئلے کو نہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں نہ ہی اسکو حل کرنے کی ۔۔۔۔ یہ ہماری کمزوری بھی ہے اور کوتاہی بھی ۔۔۔۔اس پر قابو پانا سب سے اہم ہے۔۔۔۔مسئلے ملک کے اندرونی معاملات کے ہوں یا بیرونی ہم نے عادت بنا لی ہے کہ اس کے حل کے لئے دنیا بھر کے لوگوں کو امید افزا نظروں سے دیکھتے رہتے ہیں ۔۔۔ ملکی مسائل کے لئے ہماری نظر امداداور قرضوں پر لگی رہتی ہے جبکہ ملکی سالمیت کے مسائل کو حل کرنے کے لئے ہم اقوام متحدہ کی طرف نظر کئے ہوتے ہیں۔۔۔۔اور وہاں سے طبل جنگ بج اٹھنے کا اعلان ہوتا ہےبجائےمصالحت کے۔۔
آجکل دنیا میں مسائل کی بھر مار ہے اور یہ مسائل بھی خود حضرت انسان کے پیدا کئے ہوئے ہیں۔۔۔دنیا امن کا گہوارا توخیر کبھی نہیں رہی لیکن آج کی دنیا گزرے وقت کی دنیا سےقدرے بہتر تھی۔۔ہتھاروں اور اسلحےکی ایجادسےپہلے ۔۔سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی سے پہلے۔۔۔ایٹمی ہتھیاروں اور نیوکلیئیر بم کی دریافت و ایجاد سےپہلے دنیا بہت بہتر حالت میں تھی۔۔۔۔ لیکن پہلی جنگ عظیم اور دوسری جنگ عظیم کے تواتر نے دنیا کو حالت جنگ میں ہی چھوڑ دیا ۔۔۔۔ایک صدی گزرنے کے بعد بھی دنیا پہلی جنگ عظیم کے اثرات سےابھی تک مکمل طور پر باہر نہیں آ پائی ۔۔۔۔ آئے دن کچھ نہ کچھ۔۔۔کہیں نہ کہیں لڑائیاں چِھڑی ہوتی ہیں۔۔۔۔یہ ان پچھلے اثرات کی بدولت ہی ہیں ۔۔۔حالات کو گفت و شنید سے درست کرنے کی بجائے ہتھیار اٹھا لئے جاتے ہیں۔۔۔۔۔مصالحت کی بجائے جنگ کے لئے رستہ ہمور کیاجاتا ہے ۔۔لڑائیاں مذاکرات کی راہ بند کر دیتی ہیں۔۔۔۔ بجائے اس کے مسئلے پر بات بیٹھ کر ہو اسے جنگ کے الاوُ میں جھونک دیا جاتا ہے ۔۔۔جس سے مسائل کم نہیں ہوتے بلکہ بڑھتے جاتے ہیں اوریوں یہ جنگ دنیا بھرکو بھی اپنی لپیٹ میں لیتی جاتی ہے۔۔۔۔
سوال یہ اٹھتا ہے کیا جنگ مسائل کا حل دے گی۔۔۔۔تو ایسا نہیں ہے ۔۔۔جنگ مسائل کا حل نہیں بلکہ مزید مسائل کا پیش خیمہ ہے ۔۔۔۔۔ جنگ پہلے سے بڑھکر بڑے مسائل کو جنم دیتی ہے ۔۔۔دنیا بھر میں ہونیوالی جنگوں کا اگر جائزہ لیا جائے تو پتہ چلے گا کہ دنیا میں کتنی تباہی اور بربادی ان جنگوں نے پھیلائی ہے ۔۔۔۔ جس مسئلے کو نقطہ بنا کر جنگ شروع کی گئی وہ برسوں گزرنے کے بعد بھی جوں کا توں وہیں موجود ہے۔۔۔۔اس سے نا صرف وہ خطہ متاثر ہوتا ہے بلکہ اسکے اثرات پوری دنیاپر پڑتے ہیں۔۔۔معیشت تباہ ہوجاتی ہے۔۔۔۔ لوگ اپنی جانوں سے تو ہاتھ دھوتے ہی ہیں۔۔۔انکے خاندان ایک تباہ حال زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔۔۔۔ خوشحالی بدحالی میں۔۔۔ترقی تنزلی میں۔۔۔۔ عروج زوال میں بدل جاتا ہے ۔۔۔۔۔ جنگیں چلتی رہتی ہیں اور ساتھ تباہی کے در وابھی کئے رکھتی ہیں۔۔۔۔ کشمیر۔۔۔فلسطین۔۔۔۔بوسنیا۔۔۔افغانستان ۔۔۔۔۔انکو جنگ نے کیا دیا الٹا ان ممالک کو غربت اور تنزلی کی چکی میں پسنے پر مجبور کر دیا ۔۔۔ یہ ممالک چاہ کر بھی واپس اپنی جگہ پر نہیں آسکتے۔۔۔اسکے لئے انکو بہت وقت درکار ہے۔۔۔۔۔ بڑی طاقتیں جو انکے استحصال کے لئے ہمہ وقت پنجے تیز کئے بیٹھے ہوتی ہیں۔۔۔۔ جو ان غریب پسماندہ ممالک کی قسمتوں کے فیصلے کرتی ہیں۔۔۔ جو انکے حقوق سلب کرتی ہیں ایسے خاموشی سے کہ انکو خبر تک نہیں ہوتی۔۔۔۔ اب ہتھیاروں کی جنگ سے نکل کر عملی طور پر کچھ کرنا ہو گا۔۔۔۔اپنے حقوق کی جنگ لڑنی ہو گی۔۔۔۔اپنے نامساعد حالات۔۔۔۔ بدتر معیشت ۔۔۔ اور غربت و تنزلی سے نکل کر اپنی آواز کوایسے فورمز پر اٹھانا ہوگا جہاں انکی شنوائی ہو۔۔۔۔ اپنی پست آواز میں جان خود پیدا کرنی ہو گی۔۔۔اور یہ سب اسی وقت ممکن ہو گا جب حالت جنگ سے نکل کر اپنے حالات کا جائزہ لیاجائے اور ان سے نمٹنے کے اسباب کئے جا سکیں۔۔اسکےلئےمحنت ۔۔۔اخلاص ۔۔اتحاد ۔۔عزم اور استقامت کی ضرورت ہے۔۔۔۔ہمارے سامنے نیلسن مینڈیلا جیسے عظیم شخص کی مثال موجود ہے جو ہمت۔۔۔۔ جہدِ مسلسل اوراستقامت کا پیکر نکلا۔۔۔جسنے اپنی عوام کو غربت ۔۔۔بے چارگی اور غلامی سے نکال کر ایک باحوصلہ قوم بنایا۔۔۔۔
ضروری نہیں ہے کہ ہتھیاروں کی جنگ سے دوسرےکو شکست دی جائے۔۔۔دلائل۔۔۔مذاکرات۔۔مباحث ۔۔مناظرے ۔۔۔ان سب کے دروازے کھلے ہیں۔۔انکے ذریعے بھی اپنے ملک۔۔قوم۔۔نسل۔۔کے لئے لڑا جا سکتا ہے ۔۔۔انکے حقوق کے لئے آواز اٹھائی جا سکتی ہے۔۔۔انکے مفادات کا تحفظ ممکن ہے ۔۔۔۔لیکن المیہ یہ ہے کہ چھوٹے اور غیر ترقی یافتہ ممالک کی آواز نقار خانے میں طوطی کی آواز ثابت ہوتی ہے۔۔۔ان کی فریاد رسی کی بجائے انپر جنگ مسلط کر دی جاتی ہے چاہے وہ ہتھیاروں کی جنگ ہو۔۔۔۔معیشت کی جنگ ہو۔۔۔۔ثقافت کی جنگ ہو ۔۔ میڈیا کی جنگ ہو یا آجکل ففتھ جنریشن وار کی جنگ ہو۔۔۔۔ جنگ تو جنگ ہوتی ہے چاہے وہ کسی طور بھی لڑی جائے ۔۔۔ غیر ترقی یافتہ یا ترقی پذیر ممالک کو ملکر کوئی ایسا فورم تلاش کرنا ہو گا جہاں انکی بات کو وزن دیا جائے۔۔۔۔انکے مسائل کو دیکھا جائے سنا جئے ۔۔۔۔ ۔انکے حل کا سد باب کیا جائے ۔۔۔۔ لیکن بدقسمتی سے یہ طاقتور کہلانے والے ۔۔۔۔ترقی یافتہ ممالک خدائی فوجدار بنے بیٹھے ہیں۔۔۔۔یہ چھوٹے ممالک کو آپس میں لڑا کر خود کو اور محفوظ و مضبوط سمجھتے ہیں۔۔۔۔ ففتھ جنریشن وار ان ہی کا نیا حربہ ہے کہ اب ہتھیاروں کی بجائے انکو جدید طریقوں سے ہراساں کیا جائے ۔۔۔اب انکو نفسیاتی مار ماری جائے۔۔۔معاشی طور پہ کھوکھلا کیا جائے۔۔۔ثقافتی طور پہ انکی اقدار کا جنازہ نکالا جائے ۔۔۔یہ ہے طاقتور دنیا کی نئی بساط ۔۔۔۔ ففتھ جنریشن وار۔۔۔۔ اس قسم کی جنگ سے اس دنیا کے ٹھیکیداروں کو بہت زیادہ فوائد حاصل ہو رہے ہیں۔۔۔ کیونکہ یہ کم خرچ بالا نشینی والی حکمت عملی کے تحت ہے کہ جس میں نہ ہینگ لگے نہ پھٹکڑی اور رنگ بھی چوکھا آئے کے مصداق صرف پراپیگنڈےکے ذریعے۔۔۔میڈیا وار کے ذریعے اقوام کو خوف وہراس میں مبتلا کر کے نفسیاتی طور پہ کمزور اور دنیا سے الگ تھلگ کرنا ہے۔۔۔اس میں ہمارے پاس دو مختلف امثال موجود ہیں۔ایک ایران کی جو امریکہ کے پراپیگنڈے کی نذر ہوا اور عراق کی جسے ففتھ جنرہشن وار کے ذریعےنشانہ بنایا گیا۔۔۔۔
جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں چاہے وہ کسی بھی قسم کی ہو ۔۔۔۔ کسی بھی خطے میں ہو۔۔۔۔ جنگ طاقت کے حصول کے لئے اور دوسرے کو کمزور کرنے کے لئے لڑی جاتی رہی ہے اور لڑی جاتی رہے گی۔۔۔۔۔ ہمیں اس اصل فتنے یعنی طاقت کے حصول اور قوت کے نشے کی سرشاری کے زعم کو ختم کرنا ہوگا۔۔۔۔یہ دنیا اسوقت تک امن و امان کا گہوارا نہیں بن سکتی جبتک کہ ان خدائی فوجداروں کے دلوں سے طاقت حاصل کرنے کی ہوس نکل نہ جائے. ۔۔۔۔بھلے کتنے ہی فورم بنا لئے جائیں ۔۔۔کتنی ہی تنظیمیں سرگرم عمل ہوں جبتک دنیا کے ان ٹھیکیداروں کی نیتیں صاف نہءں ہونگی۔۔انکے نزدیک ہرچیز کا حل جنگ میں ہی ہوگا۔۔۔جبکہ حقیقت کا اسمیں کوئی دخل نہیں یہ پراکسی وارز ہیں جو زبردستی ترقی پذیر اور پسماندہ ممالک پر نافذ کی جاتی ہیں کہ وہ کبھی سر اٹھاہی نہ سکیں۔۔۔لیکن ہمارے سامنے بہت سی غیرتمند اقوام ہیں جنہوں نے تمام مشکل حالات کے باجود سر تسلیم خم نہیں کیا اور غیرت و جرات کے ساتھ ڈٹی رہیں۔۔۔جرمنی۔۔۔ایران۔۔ بنگلہ دیش ۔۔۔۔ ایسی ہی مثالیں ہیں۔۔۔جنہوں نے جنگوں کے بد اثرات کو خود پر سے ہٹایا اور اپنی معیشت کو مضبوط کر کے آج اپنے پیروں پہ کھڑی ہیں۔۔۔۔۔ ہمیں ان سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے ۔۔۔۔
ہم بھی کیا سادہ لوح لوگ ہیں جواپنے مسائل کے حل کے لئے دوسروں کی جانب نظر کرتے ہیں ۔۔۔خود آگے بڑھکر اس مسئلے کو نہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں نہ ہی اسکو حل کرنے کی ۔۔۔۔ یہ ہماری کمزوری بھی ہے اور کوتاہی بھی ۔۔۔۔اس پر قابو پانا سب سے اہم ہے۔۔۔۔مسئلے ملک کے اندرونی معاملات کے ہوں یا بیرونی ہم نے عادت بنا لی ہے کہ اس کے حل کے لئے دنیا بھر کے لوگوں کو امید افزا نظروں سے دیکھتے رہتے ہیں ۔۔۔ ملکی مسائل کے لئے ہماری نظر امداداور قرضوں پر لگی رہتی ہے جبکہ ملکی سالمیت کے مسائل کو حل کرنے کے لئے ہم اقوام متحدہ کی طرف نظر کئے ہوتے ہیں۔۔۔۔اور وہاں سے طبل جنگ بج اٹھنے کا اعلان ہوتا ہےبجائےمصالحت کے۔۔
آجکل دنیا میں مسائل کی بھر مار ہے اور یہ مسائل بھی خود حضرت انسان کے پیدا کئے ہوئے ہیں۔۔۔دنیا امن کا گہوارا توخیر کبھی نہیں رہی لیکن آج کی دنیا گزرے وقت کی دنیا سےقدرے بہتر تھی۔۔ہتھاروں اور اسلحےکی ایجادسےپہلے ۔۔سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی سے پہلے۔۔۔ایٹمی ہتھیاروں اور نیوکلیئیر بم کی دریافت و ایجاد سےپہلے دنیا بہت بہتر حالت میں تھی۔۔۔۔ لیکن پہلی جنگ عظیم اور دوسری جنگ عظیم کے تواتر نے دنیا کو حالت جنگ میں ہی چھوڑ دیا ۔۔۔۔ایک صدی گزرنے کے بعد بھی دنیا پہلی جنگ عظیم کے اثرات سےابھی تک مکمل طور پر باہر نہیں آ پائی ۔۔۔۔ آئے دن کچھ نہ کچھ۔۔۔کہیں نہ کہیں لڑائیاں چِھڑی ہوتی ہیں۔۔۔۔یہ ان پچھلے اثرات کی بدولت ہی ہیں ۔۔۔حالات کو گفت و شنید سے درست کرنے کی بجائے ہتھیار اٹھا لئے جاتے ہیں۔۔۔۔۔مصالحت کی بجائے جنگ کے لئے رستہ ہمور کیاجاتا ہے ۔۔لڑائیاں مذاکرات کی راہ بند کر دیتی ہیں۔۔۔۔ بجائے اس کے مسئلے پر بات بیٹھ کر ہو اسے جنگ کے الاوُ میں جھونک دیا جاتا ہے ۔۔۔جس سے مسائل کم نہیں ہوتے بلکہ بڑھتے جاتے ہیں اوریوں یہ جنگ دنیا بھرکو بھی اپنی لپیٹ میں لیتی جاتی ہے۔۔۔۔
سوال یہ اٹھتا ہے کیا جنگ مسائل کا حل دے گی۔۔۔۔تو ایسا نہیں ہے ۔۔۔جنگ مسائل کا حل نہیں بلکہ مزید مسائل کا پیش خیمہ ہے ۔۔۔۔۔ جنگ پہلے سے بڑھکر بڑے مسائل کو جنم دیتی ہے ۔۔۔دنیا بھر میں ہونیوالی جنگوں کا اگر جائزہ لیا جائے تو پتہ چلے گا کہ دنیا میں کتنی تباہی اور بربادی ان جنگوں نے پھیلائی ہے ۔۔۔۔ جس مسئلے کو نقطہ بنا کر جنگ شروع کی گئی وہ برسوں گزرنے کے بعد بھی جوں کا توں وہیں موجود ہے۔۔۔۔اس سے نا صرف وہ خطہ متاثر ہوتا ہے بلکہ اسکے اثرات پوری دنیاپر پڑتے ہیں۔۔۔معیشت تباہ ہوجاتی ہے۔۔۔۔ لوگ اپنی جانوں سے تو ہاتھ دھوتے ہی ہیں۔۔۔انکے خاندان ایک تباہ حال زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔۔۔۔ خوشحالی بدحالی میں۔۔۔ترقی تنزلی میں۔۔۔۔ عروج زوال میں بدل جاتا ہے ۔۔۔۔۔ جنگیں چلتی رہتی ہیں اور ساتھ تباہی کے در وابھی کئے رکھتی ہیں۔۔۔۔ کشمیر۔۔۔فلسطین۔۔۔۔بوسنیا۔۔۔افغانستان ۔۔۔۔۔انکو جنگ نے کیا دیا الٹا ان ممالک کو غربت اور تنزلی کی چکی میں پسنے پر مجبور کر دیا ۔۔۔ یہ ممالک چاہ کر بھی واپس اپنی جگہ پر نہیں آسکتے۔۔۔اسکے لئے انکو بہت وقت درکار ہے۔۔۔۔۔ بڑی طاقتیں جو انکے استحصال کے لئے ہمہ وقت پنجے تیز کئے بیٹھے ہوتی ہیں۔۔۔۔ جو ان غریب پسماندہ ممالک کی قسمتوں کے فیصلے کرتی ہیں۔۔۔ جو انکے حقوق سلب کرتی ہیں ایسے خاموشی سے کہ انکو خبر تک نہیں ہوتی۔۔۔۔ اب ہتھیاروں کی جنگ سے نکل کر عملی طور پر کچھ کرنا ہو گا۔۔۔۔اپنے حقوق کی جنگ لڑنی ہو گی۔۔۔۔اپنے نامساعد حالات۔۔۔۔ بدتر معیشت ۔۔۔ اور غربت و تنزلی سے نکل کر اپنی آواز کوایسے فورمز پر اٹھانا ہوگا جہاں انکی شنوائی ہو۔۔۔۔ اپنی پست آواز میں جان خود پیدا کرنی ہو گی۔۔۔اور یہ سب اسی وقت ممکن ہو گا جب حالت جنگ سے نکل کر اپنے حالات کا جائزہ لیاجائے اور ان سے نمٹنے کے اسباب کئے جا سکیں۔۔اسکےلئےمحنت ۔۔۔اخلاص ۔۔اتحاد ۔۔عزم اور استقامت کی ضرورت ہے۔۔۔۔ہمارے سامنے نیلسن مینڈیلا جیسے عظیم شخص کی مثال موجود ہے جو ہمت۔۔۔۔ جہدِ مسلسل اوراستقامت کا پیکر نکلا۔۔۔جسنے اپنی عوام کو غربت ۔۔۔بے چارگی اور غلامی سے نکال کر ایک باحوصلہ قوم بنایا۔۔۔۔
ضروری نہیں ہے کہ ہتھیاروں کی جنگ سے دوسرےکو شکست دی جائے۔۔۔دلائل۔۔۔مذاکرات۔۔مباحث ۔۔مناظرے ۔۔۔ان سب کے دروازے کھلے ہیں۔۔انکے ذریعے بھی اپنے ملک۔۔قوم۔۔نسل۔۔کے لئے لڑا جا سکتا ہے ۔۔۔انکے حقوق کے لئے آواز اٹھائی جا سکتی ہے۔۔۔انکے مفادات کا تحفظ ممکن ہے ۔۔۔۔لیکن المیہ یہ ہے کہ چھوٹے اور غیر ترقی یافتہ ممالک کی آواز نقار خانے میں طوطی کی آواز ثابت ہوتی ہے۔۔۔ان کی فریاد رسی کی بجائے انپر جنگ مسلط کر دی جاتی ہے چاہے وہ ہتھیاروں کی جنگ ہو۔۔۔۔معیشت کی جنگ ہو۔۔۔۔ثقافت کی جنگ ہو ۔۔ میڈیا کی جنگ ہو یا آجکل ففتھ جنریشن وار کی جنگ ہو۔۔۔۔ جنگ تو جنگ ہوتی ہے چاہے وہ کسی طور بھی لڑی جائے ۔۔۔ غیر ترقی یافتہ یا ترقی پذیر ممالک کو ملکر کوئی ایسا فورم تلاش کرنا ہو گا جہاں انکی بات کو وزن دیا جائے۔۔۔۔انکے مسائل کو دیکھا جائے سنا جئے ۔۔۔۔ ۔انکے حل کا سد باب کیا جائے ۔۔۔۔ لیکن بدقسمتی سے یہ طاقتور کہلانے والے ۔۔۔۔ترقی یافتہ ممالک خدائی فوجدار بنے بیٹھے ہیں۔۔۔۔یہ چھوٹے ممالک کو آپس میں لڑا کر خود کو اور محفوظ و مضبوط سمجھتے ہیں۔۔۔۔ ففتھ جنریشن وار ان ہی کا نیا حربہ ہے کہ اب ہتھیاروں کی بجائے انکو جدید طریقوں سے ہراساں کیا جائے ۔۔۔اب انکو نفسیاتی مار ماری جائے۔۔۔معاشی طور پہ کھوکھلا کیا جائے۔۔۔ثقافتی طور پہ انکی اقدار کا جنازہ نکالا جائے ۔۔۔یہ ہے طاقتور دنیا کی نئی بساط ۔۔۔۔ ففتھ جنریشن وار۔۔۔۔ اس قسم کی جنگ سے اس دنیا کے ٹھیکیداروں کو بہت زیادہ فوائد حاصل ہو رہے ہیں۔۔۔ کیونکہ یہ کم خرچ بالا نشینی والی حکمت عملی کے تحت ہے کہ جس میں نہ ہینگ لگے نہ پھٹکڑی اور رنگ بھی چوکھا آئے کے مصداق صرف پراپیگنڈےکے ذریعے۔۔۔میڈیا وار کے ذریعے اقوام کو خوف وہراس میں مبتلا کر کے نفسیاتی طور پہ کمزور اور دنیا سے الگ تھلگ کرنا ہے۔۔۔اس میں ہمارے پاس دو مختلف امثال موجود ہیں۔ایک ایران کی جو امریکہ کے پراپیگنڈے کی نذر ہوا اور عراق کی جسے ففتھ جنرہشن وار کے ذریعےنشانہ بنایا گیا۔۔۔۔
جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں چاہے وہ کسی بھی قسم کی ہو ۔۔۔۔ کسی بھی خطے میں ہو۔۔۔۔ جنگ طاقت کے حصول کے لئے اور دوسرے کو کمزور کرنے کے لئے لڑی جاتی رہی ہے اور لڑی جاتی رہے گی۔۔۔۔۔ ہمیں اس اصل فتنے یعنی طاقت کے حصول اور قوت کے نشے کی سرشاری کے زعم کو ختم کرنا ہوگا۔۔۔۔یہ دنیا اسوقت تک امن و امان کا گہوارا نہیں بن سکتی جبتک کہ ان خدائی فوجداروں کے دلوں سے طاقت حاصل کرنے کی ہوس نکل نہ جائے. ۔۔۔۔بھلے کتنے ہی فورم بنا لئے جائیں ۔۔۔کتنی ہی تنظیمیں سرگرم عمل ہوں جبتک دنیا کے ان ٹھیکیداروں کی نیتیں صاف نہءں ہونگی۔۔انکے نزدیک ہرچیز کا حل جنگ میں ہی ہوگا۔۔۔جبکہ حقیقت کا اسمیں کوئی دخل نہیں یہ پراکسی وارز ہیں جو زبردستی ترقی پذیر اور پسماندہ ممالک پر نافذ کی جاتی ہیں کہ وہ کبھی سر اٹھاہی نہ سکیں۔۔۔لیکن ہمارے سامنے بہت سی غیرتمند اقوام ہیں جنہوں نے تمام مشکل حالات کے باجود سر تسلیم خم نہیں کیا اور غیرت و جرات کے ساتھ ڈٹی رہیں۔۔۔جرمنی۔۔۔ایران۔۔ بنگلہ دیش ۔۔۔۔ ایسی ہی مثالیں ہیں۔۔۔جنہوں نے جنگوں کے بد اثرات کو خود پر سے ہٹایا اور اپنی معیشت کو مضبوط کر کے آج اپنے پیروں پہ کھڑی ہیں۔۔۔۔۔ ہمیں ان سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے ۔۔۔۔
Saturday, October 5, 2019
سوشل میڈیا کا ہماری زندگی میں کردار
آج کا دور ٹیکنالوجی کا دور ہے۔۔۔ جوں جوں حضرت انسان ترقی کرتا گیا ترقی کی منازل طے کرتا گیا توں توں معاشرے پہ بھی اسکے اثرات نظر آنے لگے۔۔۔۔آج سے ہزاروں سال پہلے کے ردل و رسائل کافی سست رفتار تھے۔۔۔پیامبر اور نامہ بر اونٹوں اورگھوڑوں پر سفر کرکے مہینوں میں ایک جگہ سے دوسری جگہ پیغام پہنچایا کرتے تھے۔ شاعری میں ان نامہ بروں کا بڑا ذکر ملتا ہے
نامہ بر تو ہی بتا تو نے تو دیکھے ہوں گے
کیسے ہوتے ہیں وہ خط جن کے جواب آتے ہیں
اسکے بعد کبوتروں کا دور آیا ۔۔۔پھر ڈاکخانے، ٹیلیگرام ، پوسٹ کارڈز کا زمانہ گزرا۔۔ کمپیوٹر کی ایجاد کے بعدجب انٹرنیٹ آیا۔۔ اسنے تو مانو تہلکہ ہی مچا دیا ۔۔۔۔اسکے مختلف ذرائع ابلاغ جنمیں چند ایک بہت ہی زیادہ استعمال ہونے والے ہیں جیسے فیس بک ، ٹوئیٹر، وٹس ایپ، انسٹا گرام، ، سکائپ ، ایمو اور مذید بھی بہت سے ہیں جنکو ہم عرف عام میں سوشل میڈیا کہتے ہیں ۔۔۔اسنے ہماری زندگی بہت ساری ترجیحات کو پس پشت ڈالا ۔۔جہاں ہمارے لئے فائدے کا باعث بنا وہیں اسکے ذریعے کچھ خرابیاں معاشرے میں پھیلیں ۔۔میری کوشش ہو گی کہ آج میں سوشل میڈیا کے مثبت اور منفی دونوں پہلووُں کے حوالے سے بات کروں۔۔
۔میرے نزدیک سوشل میڈیا کے بہت سے مثبت استعمالات ہیں۔اور بہت سے منفی ۔۔۔لیکن جو عام طور پر ہمارے معاشرے میں نظر آتے ہیں ۔۔۔زیادہ بات انکے بارے میں ہی کی جائیگی۔
١) سوشل میڈیا سے ہم تعلیم و تربیت کا کا م لے سکتے ہیں۔۔۔بہت سے ایسے پیجز یا گروپس ہیں جو یہ کام کر رہے ہیں۔۔۔۔ یعنی لوگوں کو تعلیم دینے کا کام ۔۔۔۔طلباء یا بچوں کی تعلیم و تربیت کا کام کر رہے ہیں۔۔
٢) اس سے ہم ہنر سیکھنے اور سکھانے کو فروغ دے سکتے ہیں۔۔۔۔بہت سے گروپس میں کوکنگ ، بیکنگ، فلاور میکنگ، آرٹ اینڈ کرافٹس نٹنگ، کروشیا کے کام، پودوں کی افزائش، بچوں کی نشو نما، خوراک کے فائدےو نقصانات، طب کے حوالے سے نئی ریسرچز، ورزش کے طریقے و فوائد وغیرہ پاے جاتے ہیں۔بہت سی خواتین، بچیاں اور بزرگ خواتین تک ان سے استفادہ کرتی ہیں ۔۔
۔۔٣) آگاہی پروگرام ۔۔۔۔ سوشل میڈیا کے ذریعے ہم بہت اچھے سے آگہی مہم چلا سکتے ہیں۔۔۔ جیسے درختوں کی کٹائی سےروکنا، صفائی کے متعلق آگاہی دینا۔۔۔۔کہیں کوئی مثبت سرگرمی ہو رہی ہو اسکی اطلاع فراہم کرنا
۴) لوگوں میں شعور اجاگر کرنا ۔۔۔انکے لئے مثبت آگاہی کے پروگرام ترتیب دینا۔۔شجر کاری کی ترغیب، پلاسٹک بیگز کے استعمال کو ختم کرنے کی مہم۔۔صفائی کی مہم وغیرہ
۵) لوگوں کی مختلف ہنرمندیوں کو سراہنا اور انکے لئے روزگار کے مواقع پیدا کرنا۔۔۔۔
٦)ادبی گروپ جو لوگوں کی سوچوں اور تخیل کو مہمیز کرتے ہیں اور انکو لکھنے کی جرات و سہولت دیتے ہیں۔۔۔۔۔
٧)فیس بک ہو ٹویٹر ۔۔۔لنکڈ ان ہو انسٹا گرام آپ مثبت اطلاعات ، انفارمیشن اور آگاہی پروگرام اور معلومات سے آگاہی دے سکتے ہیں۔۔۔۔ ایک دوسرے کو اچھی تجاویز ، اچھے مشورے دئیے جاسکتے ہیں۔۔۔اب تو بہت سے لوگ سوشل میڈیا کی وجہ سے گھر بیٹھے لاکھوں کما رہے ہیں۔۔۔۔
٨) سوشل میڈیا کے ذریعے اب آپ دنیا کے ہر ٹی وی چینل تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔۔خبریں ہوں، میچز ہوں، ڈرامے، فلمیں یا ٹاک شو۔۔۔۔سب کچھ سوشل میڈیا پر میسر ہے۔۔۔
٩) گھر بیٹھے علاج کرنا اور کرانا یہ بھی اب سوشل میڈیا کے ذریعے ممکن ہے ۔۔۔آپ اپنے گھر میں بیٹھے امریکہ میں موجود ماہر کے مشورے سے مستفید ہو سکتے ہیں ۔۔
١٠) سوشل میڈیا کے ذریعے سیاستدان، افسران بالا اور سماجی کارکنان اپنے مثبت کاموں کے فروغ کے لئے استعمال کر سکتے ہیں۔۔۔
یہ تو میں نے بہت تھوڑے فوائد گنوائے ہیں۔۔۔۔جو عام طور پر ہمارے مشاہدے میں آتے ہیں ۔اس سے زیادہ بھی ہو سکتے ہیں۔۔۔
اب میں کچھ منفی اثرات کچھ بات بھی کرونگی ۔۔۔
١)سوشل میڈیا کے بہت زیادہ استعمال سے اپنے دور اور دور والے قریب ہو گئے ہیں۔
٢) سوشل میڈیا کا بہت زیادہ استعمال صحت کو متاثر کرتا ہے،۔اسکء وجہ سے نظراور پٹھوں کی کمزوری ، اعصابی اور نفسیاتی بیماریاں بہت عام ہیں ۔۔
٣) اسکی وجہ سے بہت سے لوگ فریبی اور دغاباز لوگوں کے ہاتھوں بہت زیادہ نقصان اٹھا چکے ہیں۔۔بہت سے رشتے ٹوٹتے اور ناپائیدار رشتے بنےت اور بگڑتے دیکھے ہیں ۔
۴) بہت سے لوگ سوشل میڈیا کی وجہ سے بلیک میلرز کے ہتھے چڑھ گئے ۔۔اس ضمن میں ہزاروں لڑکیوں نے اپنی عزت اور جان سے ہاتھ دھوئے۔۔۔ایک اندازے کے مطابق کئی ہزار لڑکیاں خودکشی کی مرتکب ہوئیں اور کتنی ہی قتل ہوئیں۔
۵) بہت سے گروپس اور پیجز ایسے ہوتے ہیں جسمیں غیر معیاری مواد کی فراوانی ہوتی ہے جو ہماری نوجوان نسل کے لئے زہر قاتل ہیں ۔۔
٦) ہمارے بچوں اور نئی نسل کو اپنے مذہب اور کلچر سے دورکرنے کی سازشیں بھی کچھ گروپس اور پیجز نے اپنا رکھی ہیں۔
٧) فروعی، لسانی، گروہی تعصبات کو بھی سوشل میڈیا پر بڑے منظم طریقے پر پھیلایا جاتا ہے۔
٨) دہشتگردی کے بہت سے واقعات بھی سوشل میڈیا کی ہی دین ہیں۔۔۔تازہ ترین واقعہ جو نیوزی لینڈ میں پیش آیا وہ بھی سوشل میڈیا کے ذریعے ہج بنا بھی اور منظر عام پر آیا بھی۔۔۔
٩) دنیا بھر میں فوری پراپیگنڈا پھیلانے میں بھی سوشل میڈیا کا اہم کردار ہے۔۔۔
١٠)نفرت ، تعصب، بغض بھی اسکے پھیلائے جانے والے اثرات میں شمار ہوتے ہیں۔۔۔جیسے کہ گستاخئ رسولؐ وغیرہ۔۔۔۔
یہ چند ایک منفی رحجانات ہیں جنکا ذکر ضروری تھا تاکہ ہم یہ فیصلہ کر سکیں کہ گویا ہم سوشل میڈیا کا مثبت استعمال کر رہے ہیں یا منفی۔۔۔۔
اصل میں ہمیں خیال یہ رکھنا چاہئیے کہ سوشل میڈیا کے ذریعے ہم تعصب نہ پھیلائیں۔۔۔۔نفرت کو ہوا نہ دیں۔۔۔۔ایک دوسرے کو نیچا نہ دکھائیں بلکہ بحیثیت پاکستانی اور مسلمان کےاپنا بہترین امیج پیش کریں۔۔سوشل میڈیا کا مثبت استعمال کیا جا سکتا ہے ۔۔۔۔
١) سوشل میڈیا سے ہم تعلیم و تربیت کا کا م لے سکتے ہیں۔۔۔بہت سے ایسے پیجز یا گروپس ہیں جو یہ کام کر رہے ہیں۔۔۔۔ یعنی لوگوں کو تعلیم دینے کا کام ۔۔۔۔طلباء یا بچوں کی تعلیم و تربیت کا کام کر رہے ہیں۔۔
٢) اس سے ہم ہنر سیکھنے اور سکھانے کو فروغ دے سکتے ہیں۔۔۔۔بہت سے گروپس میں کوکنگ ، بیکنگ، فلاور میکنگ، آرٹ اینڈ کرافٹس نٹنگ، کروشیا کے کام، پودوں کی افزائش، بچوں کی نشو نما، خوراک کے فائدےو نقصانات، طب کے حوالے سے نئی ریسرچز، ورزش کے طریقے و فوائد وغیرہ پاے جاتے ہیں۔بہت سی خواتین، بچیاں اور بزرگ خواتین تک ان سے استفادہ کرتی ہیں ۔۔
۔۔٣) آگاہی پروگرام ۔۔۔۔ سوشل میڈیا کے ذریعے ہم بہت اچھے سے آگہی مہم چلا سکتے ہیں۔۔۔ جیسے درختوں کی کٹائی سےروکنا، صفائی کے متعلق آگاہی دینا۔۔۔۔کہیں کوئی مثبت سرگرمی ہو رہی ہو اسکی اطلاع فراہم کرنا
۴) لوگوں میں شعور اجاگر کرنا ۔۔۔انکے لئے مثبت آگاہی کے پروگرام ترتیب دینا۔۔شجر کاری کی ترغیب، پلاسٹک بیگز کے استعمال کو ختم کرنے کی مہم۔۔صفائی کی مہم وغیرہ
۵) لوگوں کی مختلف ہنرمندیوں کو سراہنا اور انکے لئے روزگار کے مواقع پیدا کرنا۔۔۔۔
٦)ادبی گروپ جو لوگوں کی سوچوں اور تخیل کو مہمیز کرتے ہیں اور انکو لکھنے کی جرات و سہولت دیتے ہیں۔۔۔۔۔
٧)فیس بک ہو ٹویٹر ۔۔۔لنکڈ ان ہو انسٹا گرام آپ مثبت اطلاعات ، انفارمیشن اور آگاہی پروگرام اور معلومات سے آگاہی دے سکتے ہیں۔۔۔۔ ایک دوسرے کو اچھی تجاویز ، اچھے مشورے دئیے جاسکتے ہیں۔۔۔اب تو بہت سے لوگ سوشل میڈیا کی وجہ سے گھر بیٹھے لاکھوں کما رہے ہیں۔۔۔۔
٨) سوشل میڈیا کے ذریعے اب آپ دنیا کے ہر ٹی وی چینل تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔۔خبریں ہوں، میچز ہوں، ڈرامے، فلمیں یا ٹاک شو۔۔۔۔سب کچھ سوشل میڈیا پر میسر ہے۔۔۔
٩) گھر بیٹھے علاج کرنا اور کرانا یہ بھی اب سوشل میڈیا کے ذریعے ممکن ہے ۔۔۔آپ اپنے گھر میں بیٹھے امریکہ میں موجود ماہر کے مشورے سے مستفید ہو سکتے ہیں ۔۔
١٠) سوشل میڈیا کے ذریعے سیاستدان، افسران بالا اور سماجی کارکنان اپنے مثبت کاموں کے فروغ کے لئے استعمال کر سکتے ہیں۔۔۔
یہ تو میں نے بہت تھوڑے فوائد گنوائے ہیں۔۔۔۔جو عام طور پر ہمارے مشاہدے میں آتے ہیں ۔اس سے زیادہ بھی ہو سکتے ہیں۔۔۔
اب میں کچھ منفی اثرات کچھ بات بھی کرونگی ۔۔۔
١)سوشل میڈیا کے بہت زیادہ استعمال سے اپنے دور اور دور والے قریب ہو گئے ہیں۔
٢) سوشل میڈیا کا بہت زیادہ استعمال صحت کو متاثر کرتا ہے،۔اسکء وجہ سے نظراور پٹھوں کی کمزوری ، اعصابی اور نفسیاتی بیماریاں بہت عام ہیں ۔۔
٣) اسکی وجہ سے بہت سے لوگ فریبی اور دغاباز لوگوں کے ہاتھوں بہت زیادہ نقصان اٹھا چکے ہیں۔۔بہت سے رشتے ٹوٹتے اور ناپائیدار رشتے بنےت اور بگڑتے دیکھے ہیں ۔
۴) بہت سے لوگ سوشل میڈیا کی وجہ سے بلیک میلرز کے ہتھے چڑھ گئے ۔۔اس ضمن میں ہزاروں لڑکیوں نے اپنی عزت اور جان سے ہاتھ دھوئے۔۔۔ایک اندازے کے مطابق کئی ہزار لڑکیاں خودکشی کی مرتکب ہوئیں اور کتنی ہی قتل ہوئیں۔
۵) بہت سے گروپس اور پیجز ایسے ہوتے ہیں جسمیں غیر معیاری مواد کی فراوانی ہوتی ہے جو ہماری نوجوان نسل کے لئے زہر قاتل ہیں ۔۔
٦) ہمارے بچوں اور نئی نسل کو اپنے مذہب اور کلچر سے دورکرنے کی سازشیں بھی کچھ گروپس اور پیجز نے اپنا رکھی ہیں۔
٧) فروعی، لسانی، گروہی تعصبات کو بھی سوشل میڈیا پر بڑے منظم طریقے پر پھیلایا جاتا ہے۔
٨) دہشتگردی کے بہت سے واقعات بھی سوشل میڈیا کی ہی دین ہیں۔۔۔تازہ ترین واقعہ جو نیوزی لینڈ میں پیش آیا وہ بھی سوشل میڈیا کے ذریعے ہج بنا بھی اور منظر عام پر آیا بھی۔۔۔
٩) دنیا بھر میں فوری پراپیگنڈا پھیلانے میں بھی سوشل میڈیا کا اہم کردار ہے۔۔۔
١٠)نفرت ، تعصب، بغض بھی اسکے پھیلائے جانے والے اثرات میں شمار ہوتے ہیں۔۔۔جیسے کہ گستاخئ رسولؐ وغیرہ۔۔۔۔
یہ چند ایک منفی رحجانات ہیں جنکا ذکر ضروری تھا تاکہ ہم یہ فیصلہ کر سکیں کہ گویا ہم سوشل میڈیا کا مثبت استعمال کر رہے ہیں یا منفی۔۔۔۔
اصل میں ہمیں خیال یہ رکھنا چاہئیے کہ سوشل میڈیا کے ذریعے ہم تعصب نہ پھیلائیں۔۔۔۔نفرت کو ہوا نہ دیں۔۔۔۔ایک دوسرے کو نیچا نہ دکھائیں بلکہ بحیثیت پاکستانی اور مسلمان کےاپنا بہترین امیج پیش کریں۔۔سوشل میڈیا کا مثبت استعمال کیا جا سکتا ہے ۔۔۔۔
اگر میں ذاتی طور پہ بات کروں تو میرے لئے سوشل میڈیا اپنی روز کی سیاسی و سماجی، تعلیمی و آفیشل سرگرمیاں اپنے لوگوں تک پہنچانے کا باعث بنا۔۔۔۔ میں اپنے آرٹیکلز اخبارات میں بھی لکھتی ہوں اور انکو سوشل میڈیا پہ بھی ضرور شئیر کرتی ہوں۔۔۔۔موٹر سائیکل کے حادثات پر جو کچھ لکھا اسکا لوگوں نے بہت اچھا فیڈ بیک بھی دیا ۔۔۔۔شاپنگ بیگز کے استعمال اور نقصانات پر آگاہی مہم بھی سوشل میڈیا پر ہی شروع کی۔۔۔۔غرض میں نے سوشل میڈیا کے فائدے ہی دیکھے۔۔۔۔۔۔یہ ہم پر منحصر ہے کہ اس سے ہم فائدہ اٹھائیں یا اسکو تخریب کاری یا کسی اور غلط مقصد کے لئے استعمال کریں ۔
Wednesday, October 2, 2019
ہم بھی اس معاشرے کا حصہ ہیں۔
میں کافی عرصے سے سپیشل بچوں کے سکولزکا وزٹ بھی کر رہی ہوں اور کئی جگہوں پر انکے ساتھ کام کرنے کا موقع بھی ملا ۔ان سکولز میں ہر قسم کے بچے ہوتے ہیں۔۔یہ بہت پیارے بچے ہوتے ہیں۔۔۔۔انکو جب بھی کسی فنکشن میں پرفارم کرتا دیکھتی ہوں تو انکی صلاحیتوں کی معترف ہو جاتی ہوں۔۔
۔۔سپیشل بچوں کی ٹرم ہم معذور یا پسماندہ افراد کے لئے استعمال کرتے ہیں۔عام بندے کو ان بچوں کے بارے میں زیادہ علم نہیں ہوتا۔۔۔۔عموماً انکو معاشرے کا ناکارہ حصہ سمجھا جاتا ہے ۔۔۔جبکہ ایسا ہےنہیں۔۔۔ ہماری تھوڑی سی محبت اور توجہ سے یہ بچے معاشرے میں فعال کردار ادا کرسکتے ہیں۔۔۔۔ لہذا آج میں نے ان ذہنی اور جسمانی طور پہ پسماندہ بچوں کے بارے میں قلم اٹھانے کا سوچا۔۔۔۔اور کوشش کی کہ عام فہم انداز میں ایک عام شخص کو انکے متعلق معلومات فراہم کی جائیں تاکہ لوگوں میں کم از کم انکو سمجھنے کی تھوڑی سی صلاحیت تو ہو اور انکو معاشرے کا فعال کردار بنانے میں تمام لوگ شامل ہوں۔۔۔میں بہت تکنیکی انداز میں بات نہیں کرونگی بلکہ سادہ انداز میں بیان کرونگی۔۔۔۔بات کی ابتدا کرینگے کہ معذور کیا ہے ؟
ہر وہ شخص جس کے لیے عارضی نہیں بلکہ مستقل بنیادوں پر عام کاروبارِ زندگی میں حصہ لینا محدود بن جائے اُسے معذور کہتے ہیں۔
معذوری" کے وسیع درجات اور مختلف کیفیات ہیں، جن میں کچھ واضح ہیں اور کچھ غیر واضح۔ ہو سکتا ہےکہ یہ کسی حادثے کے باعث ہو یا پیدائش کے وقت سے ہی موجود ہو، یا وقت کے ساتھ ساتھ وقوع پذیر ہوئی ہو۔ اسکی مختلف اقسام ہیں یعنی جسمانی، دماغی اور سیکھنےکی معذوریاں، دماغی امراض، سماعت یا بینائی کی معذوریاں، مرگی، دوا اور الکوحل پر انحصار، ماحولیات سے حساسیت، اور دیگر صورتیں ہیں۔
اقوامِ متحدہ کے کنونشن (برائے معذور افراد کے حقوق)کے مطابق ۔۔۔ وہ افراد جنہیں طویل المعیاد جسمانی ،ذہنی یا حسیاتی کمزوری کا سامنا ہو جس کی وجہ سے انہیں معاشرے میں اپنا کردار ادا کرنے میں رکاوٹ پیش آتی ہو انہیں معذور کہا جاتا ہے۔
جن سکولز کی میں بات کر رہی تھی ان میں جسمانی معذوری اور ذہنی معذوری دو قسم کےادارے ہوتے ہیں ۔۔۔جن میں یہ بچے موجود ہوتے ہیں۔۔
پہلے میں ذکر کرونگی جسمانی معذوری کے بچوں کا ۔۔۔۔ ان میں
*سماعت سے محروم*
*گویائی سے محروم*
*بینائی سے محروم*
اور *جسمانی طور پر اپاہچ*
بچے شامل ہوتے ہیں۔۔یہ جسمانی نقص کا شکار ہوتے ہیں باقی انکا ذہن ایک عام بندے کی طرح ہی کام کرتا ہے ۔۔۔یا بعض اوقات تھوڑا سا سست رفتار لیکن بہر حال ان میں سیکھنے کی صلاحیت بدرجہ اتم موجود ہوتی ہے۔۔۔۔۔ایسے بچوں کو ہینڈل کرنا نسبتاً آسان ہوتا ہے ۔۔۔۔انکے لئے ماہر اساتذہ ہوتے ہیں جو انکو انکی معذوری کے مطابق تعلیم دیتے ہیں جبکہ ذہنی معذوری کے بچے کافی مشکل ٹارگٹ ہوتے ہیں۔۔۔۔
ذہنی معذوری کی کئی اقسام ہیں لیکن ان میں زیادہ عام جو ہیں میں انکا ذکر کرنا چاہوں گی۔۔۔۔
*ڈاوُن سینڈروم*
*آٹزم*
ڈاوُن سینڈروم کے بچے وہ ہوتے ہیں جو دیکھنے میں منگول دکھائی دیتے ہیں۔انکی گردن موٹی، سر بڑا ، چہرہ گول اور آنکھیں بڑی اور کچھ باہر کو نکلی ہوتی ہیں۔یہ ایک سنگین جنیاتی نقص کا شکار بچے ہوتے ہیں
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ عام طور سے یہ بچے بہت خوش طبع ہوتے ہیں۔ ان کی ایک اپنی ہی دنیا ہوتی ہے، جس میں وہ مگن رہتے ہیں۔ ان میں سے اکثر کی زبان میں لکنت ہوتی ہے۔ ایسے بچوں کی توجہ کا دائرہ کار محدود ہوتا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ عام بچوں کی طرح مختلف دلچسپیاں نہیں رکھتے بلکہ اپنی توجہ بہت ہی کم چیزوں پر مرکوز رکھتے ہیں۔ایسے بچوں کی عام اسکول میں تربیت مشکل ہوتی ہے کیونکہ اساتذہ کو معلوم ہی نہیں ہوتا کہ ان بچوں کے اندر چھپی ہوئی صلاحیتوں کو کس طرح ابھارا جائے۔
طبی ماہرین کا ماننا ہے کہ ڈاؤن سنڈروم کے شکار افراد معذوری کے باوجود قدرت کی دیگر صلاحیتوں سے مالا مال ہوتے ہیں جن کی بدولت ڈاؤن سنڈروم کے شکار مریض بھی معاشرے میں ایک باعزت زندگی بسر کر سکتے ہیں بشرطیکہ انکو توجہ ، محبت اور شفقت سے سکھایا جائے ۔۔۔یہ سُلو لرنرزہوتے ہیں لیکن آخر کار سیکھ ہی جاتے ہیں۔۔۔۔انکے ساتھ مستقل محنت کی ضرورت ہوتی ہے۔۔۔اسکے علاوہ انکی کچھ مشقیں اور ورزشیں ہوتی ہیں جنکا مسلسل استعمال انکو بہتری کی طرف لاتا ہے ۔۔۔۔ ایسے بچوں کو گھر میں رکھنے کی نسبت سپیشل ایجوکیشن کے سکول میں بھیجنازیادہ مناسب ہے جہاں انکو مستقل طور پر ٹرین کیا جاتا ہے۔۔۔گھر میں اگر انکوکوئی فل ٹائم اور مکمل توجہ دے پائے تو اس صورت میں تو ٹھیک ہے لیکن توجہ نہ ملنے کی صورت میں انکے مرض میں شدت آجاتی ہے ۔لہذا سب سے بہتریہی ہے کہ انکو سکول ہی بھیجاجائے ۔۔
*آٹزم*
دوسرے نمبر پہ آٹزم آتا ہے ۔۔۔۔یہ ایک نشونمائی معذوری ہے۔۔۔۔جوکسی شخص کی دوسرے لوگوں سے بات چیت اور تعلقات پر اثر انداز ہوتی ہے۔۔۔۔اسکو آٹزم سپیکٹرم ڈس آرڈر[اے ایس ڈی]بھی کہتے ہیں جس سے مراد ہے کہ یہ مخصوص رویوں اور نشونما کے مسائل اور مشکات کا سیٹ ھے۔ اے ایس ڈی بچے کی ترسیل، سماجی اور کھیلنے کی مہارت کو متاثر کرتا ھے۔
اے ایس ڈی میں لفظ "سپیکٹرم" کا مطلب یہ ھے کہ ھر بچہ منفرد ھے اور اسکی اپنی خصوصیات ھیں۔ یہ خصوصیات مل کر اسکو ایک مخصوص ترسیل اور رویوں کی پروفائل دیتی ھیں۔ جیسے جیسے آپکا بچہ بڑا ھوگا اور نشونما پائے گا اسکی مشکلات کی نوعیت تبدیل ھوتی جائے گی۔ عموماً اے ایس ڈی ASD والے فرد میں پوری زندگی کیلئے سماجی اختلافات یا\اور رویوں کے اختلافات پائے جاتے ھیں۔
ایسے بچے اپنے نام پر ردعمل ظاہر نہیں کرتے۔
کوئی مخاطب کرے تو توجہ نہیں دیتے۔
کھلونوں سے عمومی طریقے سے نہیں کھیلتے بلکہ غیر معمولی انداز میں کھیلتے ہیں ۔
کبھی بہت تنک مزاجی کامظاہرہ کرتے ہیں اور کبھی سستی کا۔۔۔انکا کوئی مستقل موڈ نہیں ہوتا بلکہ بدلتا رہتا ہے ۔
عموماً انکا موڈ فوراً تبدیل ہوتا ہے ایکدم سستی سے چڑچڑا پن یا چڑچڑے پن سے فوراً سستی۔۔۔
یہ عام طور پر نظر ٹکا کر بات نہیں کرتے بلکہ مستقل طور پہ ادھر ادھر دیکھ رہے ہوتے ہیں۔۔
ان کا ارتکاز ایک جگہ نہیں ہوتا ۔۔۔عرف عام میں ہم انکو ہائپر ایکٹو کہہ سکتے ہیں۔۔۔
آٹزم اے ایس ڈی ذہنی بیماری نہیں گنی جاتی اور نہ اسکا باقاعدہ طور پر کوئی طبی علاج ہے۔۔۔۔
اس بچے کو وہ تمام سماجی ترسیلی مہارت سکھانی چاھیے جسکی نشونما کے تمام مراحل پر ضرورت پڑ سکتی ھے۔ اور اسکی نگرانی کسی ایسے شخص کے سپرد ھونی چاھیے جوکہ اے ایس ڈی اور اسکے علاج کا ماھر ھو۔
انکی تربیت میں والدین، دیکھ بھال کرنے والوں اور اساتذہ کا بہت بڑا ہاتھ ہوتا ہے۔۔۔۔۔ اے ایس ڈی کی تربیت کے بغیر خاندان، کلاس کے اساتذہ اور دوسرے دیکھ بھال کرنے والوں کیلئے بچے کی مدد کرنا مشکل ھو سکتا ھے۔لہذا انکو پہلے خود اس معذوری کو ٹریٹ کرنے کی باقاعدہ تربیت حاصل کرنی پڑتی ہے۔۔۔
اس مضمون میں بہت سے ماہر لوگوں کی نظر میں کئی خامیاں ہو نگی لیکن میں نہ تو ماہر نفسیات ہوں نہ سپیشل سکول کی استاد اور نہ ہی کوئی ڈاکٹر۔۔۔۔لہذا اس مضمون میں، میں نے کوشش کی ہے عام بندہ ان بچوں کی معذوری سے واقفیت حاصل کرکے ان سے محبت اور توجہ سے پیش آئے۔۔۔۔ تاکہ یہ بچے معاشرے کا ناکارہ حصہ نہ بنیں۔۔۔۔آمین
آمنہ سردار
۔۔سپیشل بچوں کی ٹرم ہم معذور یا پسماندہ افراد کے لئے استعمال کرتے ہیں۔عام بندے کو ان بچوں کے بارے میں زیادہ علم نہیں ہوتا۔۔۔۔عموماً انکو معاشرے کا ناکارہ حصہ سمجھا جاتا ہے ۔۔۔جبکہ ایسا ہےنہیں۔۔۔ ہماری تھوڑی سی محبت اور توجہ سے یہ بچے معاشرے میں فعال کردار ادا کرسکتے ہیں۔۔۔۔ لہذا آج میں نے ان ذہنی اور جسمانی طور پہ پسماندہ بچوں کے بارے میں قلم اٹھانے کا سوچا۔۔۔۔اور کوشش کی کہ عام فہم انداز میں ایک عام شخص کو انکے متعلق معلومات فراہم کی جائیں تاکہ لوگوں میں کم از کم انکو سمجھنے کی تھوڑی سی صلاحیت تو ہو اور انکو معاشرے کا فعال کردار بنانے میں تمام لوگ شامل ہوں۔۔۔میں بہت تکنیکی انداز میں بات نہیں کرونگی بلکہ سادہ انداز میں بیان کرونگی۔۔۔۔بات کی ابتدا کرینگے کہ معذور کیا ہے ؟
ہر وہ شخص جس کے لیے عارضی نہیں بلکہ مستقل بنیادوں پر عام کاروبارِ زندگی میں حصہ لینا محدود بن جائے اُسے معذور کہتے ہیں۔
معذوری" کے وسیع درجات اور مختلف کیفیات ہیں، جن میں کچھ واضح ہیں اور کچھ غیر واضح۔ ہو سکتا ہےکہ یہ کسی حادثے کے باعث ہو یا پیدائش کے وقت سے ہی موجود ہو، یا وقت کے ساتھ ساتھ وقوع پذیر ہوئی ہو۔ اسکی مختلف اقسام ہیں یعنی جسمانی، دماغی اور سیکھنےکی معذوریاں، دماغی امراض، سماعت یا بینائی کی معذوریاں، مرگی، دوا اور الکوحل پر انحصار، ماحولیات سے حساسیت، اور دیگر صورتیں ہیں۔
اقوامِ متحدہ کے کنونشن (برائے معذور افراد کے حقوق)کے مطابق ۔۔۔ وہ افراد جنہیں طویل المعیاد جسمانی ،ذہنی یا حسیاتی کمزوری کا سامنا ہو جس کی وجہ سے انہیں معاشرے میں اپنا کردار ادا کرنے میں رکاوٹ پیش آتی ہو انہیں معذور کہا جاتا ہے۔
جن سکولز کی میں بات کر رہی تھی ان میں جسمانی معذوری اور ذہنی معذوری دو قسم کےادارے ہوتے ہیں ۔۔۔جن میں یہ بچے موجود ہوتے ہیں۔۔
پہلے میں ذکر کرونگی جسمانی معذوری کے بچوں کا ۔۔۔۔ ان میں
*سماعت سے محروم*
*گویائی سے محروم*
*بینائی سے محروم*
اور *جسمانی طور پر اپاہچ*
بچے شامل ہوتے ہیں۔۔یہ جسمانی نقص کا شکار ہوتے ہیں باقی انکا ذہن ایک عام بندے کی طرح ہی کام کرتا ہے ۔۔۔یا بعض اوقات تھوڑا سا سست رفتار لیکن بہر حال ان میں سیکھنے کی صلاحیت بدرجہ اتم موجود ہوتی ہے۔۔۔۔۔ایسے بچوں کو ہینڈل کرنا نسبتاً آسان ہوتا ہے ۔۔۔۔انکے لئے ماہر اساتذہ ہوتے ہیں جو انکو انکی معذوری کے مطابق تعلیم دیتے ہیں جبکہ ذہنی معذوری کے بچے کافی مشکل ٹارگٹ ہوتے ہیں۔۔۔۔
ذہنی معذوری کی کئی اقسام ہیں لیکن ان میں زیادہ عام جو ہیں میں انکا ذکر کرنا چاہوں گی۔۔۔۔
*ڈاوُن سینڈروم*
*آٹزم*
ڈاوُن سینڈروم کے بچے وہ ہوتے ہیں جو دیکھنے میں منگول دکھائی دیتے ہیں۔انکی گردن موٹی، سر بڑا ، چہرہ گول اور آنکھیں بڑی اور کچھ باہر کو نکلی ہوتی ہیں۔یہ ایک سنگین جنیاتی نقص کا شکار بچے ہوتے ہیں
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ عام طور سے یہ بچے بہت خوش طبع ہوتے ہیں۔ ان کی ایک اپنی ہی دنیا ہوتی ہے، جس میں وہ مگن رہتے ہیں۔ ان میں سے اکثر کی زبان میں لکنت ہوتی ہے۔ ایسے بچوں کی توجہ کا دائرہ کار محدود ہوتا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ عام بچوں کی طرح مختلف دلچسپیاں نہیں رکھتے بلکہ اپنی توجہ بہت ہی کم چیزوں پر مرکوز رکھتے ہیں۔ایسے بچوں کی عام اسکول میں تربیت مشکل ہوتی ہے کیونکہ اساتذہ کو معلوم ہی نہیں ہوتا کہ ان بچوں کے اندر چھپی ہوئی صلاحیتوں کو کس طرح ابھارا جائے۔
طبی ماہرین کا ماننا ہے کہ ڈاؤن سنڈروم کے شکار افراد معذوری کے باوجود قدرت کی دیگر صلاحیتوں سے مالا مال ہوتے ہیں جن کی بدولت ڈاؤن سنڈروم کے شکار مریض بھی معاشرے میں ایک باعزت زندگی بسر کر سکتے ہیں بشرطیکہ انکو توجہ ، محبت اور شفقت سے سکھایا جائے ۔۔۔یہ سُلو لرنرزہوتے ہیں لیکن آخر کار سیکھ ہی جاتے ہیں۔۔۔۔انکے ساتھ مستقل محنت کی ضرورت ہوتی ہے۔۔۔اسکے علاوہ انکی کچھ مشقیں اور ورزشیں ہوتی ہیں جنکا مسلسل استعمال انکو بہتری کی طرف لاتا ہے ۔۔۔۔ ایسے بچوں کو گھر میں رکھنے کی نسبت سپیشل ایجوکیشن کے سکول میں بھیجنازیادہ مناسب ہے جہاں انکو مستقل طور پر ٹرین کیا جاتا ہے۔۔۔گھر میں اگر انکوکوئی فل ٹائم اور مکمل توجہ دے پائے تو اس صورت میں تو ٹھیک ہے لیکن توجہ نہ ملنے کی صورت میں انکے مرض میں شدت آجاتی ہے ۔لہذا سب سے بہتریہی ہے کہ انکو سکول ہی بھیجاجائے ۔۔
*آٹزم*
دوسرے نمبر پہ آٹزم آتا ہے ۔۔۔۔یہ ایک نشونمائی معذوری ہے۔۔۔۔جوکسی شخص کی دوسرے لوگوں سے بات چیت اور تعلقات پر اثر انداز ہوتی ہے۔۔۔۔اسکو آٹزم سپیکٹرم ڈس آرڈر[اے ایس ڈی]بھی کہتے ہیں جس سے مراد ہے کہ یہ مخصوص رویوں اور نشونما کے مسائل اور مشکات کا سیٹ ھے۔ اے ایس ڈی بچے کی ترسیل، سماجی اور کھیلنے کی مہارت کو متاثر کرتا ھے۔
اے ایس ڈی میں لفظ "سپیکٹرم" کا مطلب یہ ھے کہ ھر بچہ منفرد ھے اور اسکی اپنی خصوصیات ھیں۔ یہ خصوصیات مل کر اسکو ایک مخصوص ترسیل اور رویوں کی پروفائل دیتی ھیں۔ جیسے جیسے آپکا بچہ بڑا ھوگا اور نشونما پائے گا اسکی مشکلات کی نوعیت تبدیل ھوتی جائے گی۔ عموماً اے ایس ڈی ASD والے فرد میں پوری زندگی کیلئے سماجی اختلافات یا\اور رویوں کے اختلافات پائے جاتے ھیں۔
ایسے بچے اپنے نام پر ردعمل ظاہر نہیں کرتے۔
کوئی مخاطب کرے تو توجہ نہیں دیتے۔
کھلونوں سے عمومی طریقے سے نہیں کھیلتے بلکہ غیر معمولی انداز میں کھیلتے ہیں ۔
کبھی بہت تنک مزاجی کامظاہرہ کرتے ہیں اور کبھی سستی کا۔۔۔انکا کوئی مستقل موڈ نہیں ہوتا بلکہ بدلتا رہتا ہے ۔
عموماً انکا موڈ فوراً تبدیل ہوتا ہے ایکدم سستی سے چڑچڑا پن یا چڑچڑے پن سے فوراً سستی۔۔۔
یہ عام طور پر نظر ٹکا کر بات نہیں کرتے بلکہ مستقل طور پہ ادھر ادھر دیکھ رہے ہوتے ہیں۔۔
ان کا ارتکاز ایک جگہ نہیں ہوتا ۔۔۔عرف عام میں ہم انکو ہائپر ایکٹو کہہ سکتے ہیں۔۔۔
آٹزم اے ایس ڈی ذہنی بیماری نہیں گنی جاتی اور نہ اسکا باقاعدہ طور پر کوئی طبی علاج ہے۔۔۔۔
اس بچے کو وہ تمام سماجی ترسیلی مہارت سکھانی چاھیے جسکی نشونما کے تمام مراحل پر ضرورت پڑ سکتی ھے۔ اور اسکی نگرانی کسی ایسے شخص کے سپرد ھونی چاھیے جوکہ اے ایس ڈی اور اسکے علاج کا ماھر ھو۔
انکی تربیت میں والدین، دیکھ بھال کرنے والوں اور اساتذہ کا بہت بڑا ہاتھ ہوتا ہے۔۔۔۔۔ اے ایس ڈی کی تربیت کے بغیر خاندان، کلاس کے اساتذہ اور دوسرے دیکھ بھال کرنے والوں کیلئے بچے کی مدد کرنا مشکل ھو سکتا ھے۔لہذا انکو پہلے خود اس معذوری کو ٹریٹ کرنے کی باقاعدہ تربیت حاصل کرنی پڑتی ہے۔۔۔
اس مضمون میں بہت سے ماہر لوگوں کی نظر میں کئی خامیاں ہو نگی لیکن میں نہ تو ماہر نفسیات ہوں نہ سپیشل سکول کی استاد اور نہ ہی کوئی ڈاکٹر۔۔۔۔لہذا اس مضمون میں، میں نے کوشش کی ہے عام بندہ ان بچوں کی معذوری سے واقفیت حاصل کرکے ان سے محبت اور توجہ سے پیش آئے۔۔۔۔ تاکہ یہ بچے معاشرے کا ناکارہ حصہ نہ بنیں۔۔۔۔آمین
آمنہ سردار
Monday, September 30, 2019
شادی ایک بندھن ہے نہ کہ بوجھ"
جب شادی ہوتی ہے تو دو چیزیں ہیں جو دونوں فریقوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔۔۔۔پہلا فریق جو بچی کو بیاہ کر لے جارہے ہیں۔۔۔۔وہ ایک دوسرے گھر کی بچی کو اپنے ہاں بڑے چاوُ سے لاتے ہیں۔۔۔۔ انکو زرا بڑے ظرف کا مظاہرہ کرنا ہو گا کیونکہ اس بچی کے گھر کا ماحول آپکے گھر سے مختلف ہوتا ہے۔۔۔ اسکو نئے گھر میں سیٹل ہوتے ٹائم لگے گا۔۔۔۔ اسکو دوستانہ ماحول فراہم کیاجائےتاکہ وہ جلدی ایڈجسٹ ہو۔۔۔۔اس ماحول میں ڈھل جائے ۔۔۔۔ پیار، توجہ اور محبت سے یہ کام بہت آسانی سے ہو جاتا ہے ۔جب یہ بندھن ہمیشہ کا ہے تو اسمیں کھینچا تانی کیوں۔۔۔۔۔۔کیوں نہ ایکدوسرے کو سپیس
دی جائے ۔۔۔۔۔ اسی طرح دوسرا فریق وہ بچی ہے جو بیاہ کر آتی ہے تو اسکو بھی تھوڑا دل بڑا کرنا ہو گا ۔۔۔اپنے آپکو نئے ماحول میں ڈھالنے کے لئے بغور اس گھر کے طور طریقوں کا جائزہ لینا ہو گا۔۔۔۔اور اسکے مطابق اپنی ایڈجسٹمنٹ کرنی ہو گی۔۔۔۔ جب رہنا وہیں ہے تو بھلے طریقے سے بھی رہا جا سکتا ہے ۔۔ضروری ہے دل برے کئے جائیں ۔۔۔۔
میں اپنے اردگرد دیکھتی ہوں ۔۔۔۔بہت سی بیاہتا بیٹیوں کی مائیں انکی روزانہ کی رپورٹ سے جو وہ سسرال والوں کے خلاف پیش کرتی ہیں،، شوگر اور بلڈ پریشر کی مریض بن جاتی ہیں۔۔۔۔ بیٹی تو اپنے سسرال میں سیٹ ہو جاتی ہے لیکن وہ بیٹی کی محبت میں کڑھتی رہتی ہیں۔۔۔۔
مجھے دکھ ہوتا ہے کہ لڑکیاں والدین کو سسرال کی ہر بات کیوں بتاتی ہیں۔۔۔۔۔ اور خاص طورپہ ماں کو ۔۔۔۔بےبس والدین پریشان ہو جاتے ہیں جبکہ بیٹی نے رہنا اپنے سسرال میں ہی ہے تو کسی نہ کسی طور ایڈجسٹ ہو جا نا چاہئیے ۔۔۔تو کیا ضرورت ہے انہیں پریشان کرنے کی جبکہ وہ کچھ نہیں کر سکتے۔۔۔ہاں سیریس معاملہ ہو تو ضرور بتائیں لیکن یہ کیا کہ چھوٹی چھوٹی بات اٹھا کر ان تک پہنچائی جائے۔۔۔۔ میاں بیوی کا رشتہ ایسا ہوتا ہے کہ سو بار تکرار ہوتی ہے تو سو بار پیار بھی . . ۔کہیں عزت، کہیں بھرم اور کہیں سمجھوتہ۔۔۔۔۔۔لیکن جب اسی شوہر کے ساتھ رہنا ہے تو اسے اپنے گھر والوں کے سامنے نیچا کیوں کرے۔۔۔۔قرآن کریم میں شوہر بیوی کو ایکدوسرے کا لباس کہا گیا ہے ۔۔۔لباس کے کیا فوائد ہیں ۔۔۔۔
*شرم ڈھکنا*
*پردہ پوشی کرنا*
*زینت*
یہی کام اگر ازواج کریں ایکدوسرے کے لئے تو انکی زندگیاں بڑی آسان ہو جائیں۔۔۔
نئے رشتوں کو بنانے میں ایک اور اہم امر کی طرف توجہ مرکوز کرانا چاہونگی وہ ہے شادی سے قبل اور رشتہ طے ہونے کے دوران سیل فون کا استعمال ۔۔۔یعنی ابھی رشتہ پوری طرح طے نہیں ہوا ہوتا اور لڑکا لڑکی آپس میں رابطے میں ہوتے ہیں اور چھوٹی سے چھوٹی بات بھی بڑھا چڑھا کر بیان کی جاتی ہے۔۔۔۔۔۔ سچ ہے کہ یہ سیل فون بھی ایک دجالی فتنہ ہے ۔۔۔اسپر کانٹیکٹ کرکے منٹوں میں معاملہ کہاں تک پہنچ جاتا ہے ۔۔۔یہ بہت افسوسناک بات ہے۔۔۔۔اسکا سد باب یہ ہے کہ ہم اپنے بچوں کو ایجوکیٹ
کریں انکی بہتر تربیت اور گرومنگ کریں کہ وہ حالات کے مطابق اپنے آپکو ڈھالنے کی قدرت رکھیں۔۔۔۔اتنا ہی رابطہ رکھیں جتنا مناسب ہے۔۔۔۔۔ایکدوسرے کو جاننے کے چکر میں خود سےاور اپنے خاندان سے متعلق ہر بات ایکدوسرے کے گوش گزار کی جاتی ہے ۔۔۔۔ نتیجتاً رشتے بننے سے پہلے یا تو ٹوٹ جاتے ہیں اور یا دلوں میں پہلے سے ہی خاندان کے افراد کے بارے میں بغض بھر جاتا ہے ۔۔۔۔ لہذا اس عادت کو بھی کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے کہ بلاوجہ زیادہ رابطے چاہتوں کوفروغ دینے کی بجائے دوری کو باعث بنتے ہیں۔۔۔۔
ایک اور اہم چیز جو رشتوں کو کمزور کرتی ہے وہ دونوں جانب سے فرمائشیں ہوتی ہیں۔۔۔۔لڑکے والوں کی طرف سے جہیز کی لسٹ، دولہے کو بھاری سلام اور پہناوُنیوں کی فرمائش اور لڑکی والوں کی طرف سے بھاری بھرکم بری ، اعلیٰ اور مہنگے ترین پارلر سے اپائنٹمنٹ ، سونے کی ڈیمانڈ اور ماہوار خرچے تک کی فرمائشیں شامل ہوتی ہیں۔۔۔اب اگر شادی سے پہلے ہی یہ سب ہو گا تو دلوں میں محبت کی بجائے نفرت اور دوری آئیگی۔۔۔جو رشتوں کی پائیداری پر اثر انداز ہوتی ہے۔۔۔۔۔شادی یا نکاح دو لوگوں کے درمیان ایک معاہدہ ہے۔۔۔۔ایک گرہ ہے جو انکو ایک تعلق میں ، بندھن میں جوڑتی ہے۔۔۔۔اس قسم کی فرمائشیں اور خواہشیں بہت منفی اثرات مرتب کرتی ہیں دونوں فریقوں پر بھی اور معاشرے پر بھی ۔۔۔۔
میں تمام ماوُں کو بھی ایک مشورہ دینا چاہونگی خدارا بیٹی کی ذاتی زندگی میں مداخلت نہ کریں۔۔آپ اسکے گھر کے مکمل حالات سے واقف نہیں آپ ایک سائیڈ کی بات سن رہی ہیں ۔۔ کیسے انصاف کر سکتی ہیں آپ۔۔۔۔اسطرح آپ اپنی اور انکی دونوں کی زندگی مشکل بنارہی ہیں۔۔
جب اس نے اسی گھر میں رہنا ہے تو اسے اسکے مطابق چلنے کی تلقین کریں ۔۔اپنی بہووُں کے لئے اصول مختلف ہوتے ہیں ۔۔۔وہ بھی تو کسی کی بیٹی ہے۔۔۔۔۔لہذا عدل کریں تمام رشتوں میں۔۔تبھی بہتری بھی آئیگی۔۔۔۔اللہ کریم ہماری بچیوں کو اپنے گھروں میں سکون و عافیت کے ساتھ آباد کریں اور ہمیں دوسروں کی بچیوں کے ساتھ نیک سلوک کرنے کے توفیق عطا فرمائے آمین۔۔۔۔
دعاگو آمنہ سردار
"کتب بینی ناپیدہوتی جا رہی ہے"
کتاب کی اہمیت ہماری زندگیوں میں بہت زیادہ ہے۔ یہ کتاب ہی ہے جو ہمیں بھلے برے میں تفریق کرنا سکھاتی ہے۔اسی نے ہمیں شعور بخشا۔ آگہی دی۔ یہ تو بات ہوئی اس کتاب کی جو ہم نصاب میں پڑھتے ہیں۔ جو ہمیں ہمارے مضمون کے مطابق آگہی اور علم دیتی ہے۔ لیکن میرا آج کا موضوع نصابی کتب نہیں ہیں. بلکہ میں بات کرونگی غیر نصابی کتاب کی جسکا ہماری تعلیم سے کوئی تعلق نہیں۔ یعنی وہ کتابیں جو ہم نصاب سے ہٹ کر پڑھتے ہیں۔
کتاب پڑھنے سے انسان کو علم و آگہی تو ملتی ہی ہے بلکہ ایک سکون اور طمانیت کا احساس بھی ہوتا ہے۔ اگر میں اپنی بات کروں تو مجھے کتاب پڑھکر جو سکون ملتا ہے وہ الفاظ میں بیان کرنے لائق نہیں۔ کتاب انسانی زندگی پر مختلف اور مثبت اثرات ڈالتی ہے۔ ہر انسان دوسرے سے مختلف سوچتا ہے اور اسکی نفسیات بھی دوسرے سے مختلف ہوتی ہے۔ کتاب کا اثر بھی ہر شخص پر دوسرے سے مختلف ہوتا ہے۔ کچھ لوگ اگر کسی ایک کتاب کو پڑھکر ایک تاثر لیتے ہیں تو کچھ لوگ بلکل اسکے متضاد سوچتے ہیں. ۔ لیکن کتاب کا کام دراصل ہر شخص کی زندگی میں کچھ نہ کچھ تبدیلی لانا ہوتا ہے۔ جیسے ہم کسی بڑے فلسفی کی کتاب پڑھکر تھوڑا مختلف انداز میں سوچنے لگتے ہیں۔زندگی کو ایک دوسرے رخ سے دیکھتے ہیں ۔اسی سطرح دین و مذہب کی کتاب سے ہم نصیحت لیتے ہیں۔اپنی زندگی میں بہتری لانے کی کوشش کرتے ہیں۔ شاعری کی کتب سے ہم محظوظ ہوتے ہیں۔بعض اوقات یوں محسوس کرتے ہیں کہ شاعر نے ہمارے دل کی بات کہہ دی۔ تاریخ کی کتاب ہمیں ماضی کی سیر کراتی ہے ، اس سے ہمیں مختلف ثقافتوں اور تہذیبوں کا علم ہوتا ہے۔ ادب کی کتاب سے ہم ادبی فن پاروں سے واقفیت حاصل کرتے ہیں۔انمیں زندکی کے تمام موضوعات پر لکھا جا چکا ہے۔ کسی ملک کا ادب اس ملک کی صحیح نمائندگی کرتا ہے۔ مختلف ممالک کا ادب پڑھنے سے ہم انکی تہذیب و تمدن سے واقف ہوتے ہیں۔ سانئس اور ٹیکنالوجی کی کتابوں سے ہم نئے دور کے بارے میں صحیح طور پر سمجھنے اور جاننے کے قابل ہوتے ہیں۔سائنسی ایجادات کے مثبت اور منفی عوامل کے بارے میں پتہ چلتا ہے۔ فکشن پڑھنے سے ہمیں لوگوں کے ذہنی و فکری نکتہ نظر سے واقفیت ملتی ہے۔ وہ کیا اور کیسی سوچ رکھتے ہیں اور اس سے ہمیں زمانے کیساتھ چلنے کی تحریک ملتی ہے۔ کیونکہ فکشن حقائق کی ہی ایک ترمیم شدہ تصویر ہوتی ہے۔ نفسیات پہ لکھی گئی کتاب پڑھنے سے ہمیں اپنی اور دوسروں کی نفسیات کو بہتر طور پر جاننے کاموقع ملتا ہے۔ ہم کوشش کرتے ہیں کہ اگلے شخص کی عادت و خصلت کے مطابق اس سے رویہ روا رکھیں آپ بیتیاں ، سفر نامے، سوانح عمریاں یہ ہمارے علم میں اضافے کیساتھ ساتھ دلچسپی کا باعث بھی ہوتی ہیں۔۔۔۔۔ جغرافیہ، جنگی کتب ، مختلف مہارتوں پر لکھی گئی کتب ،سیاست پر، کھیلوں پر ، پودوں پر سبزیوں پھلوں ، فصلوں کی نشو نما پر ، طب پر ، فنون لطیفہ پر غرض ہر طرح کی کتب موجود ہیں. جنکو پڑھکر ان سے فیض اٹھایا جا سکتا ہے ۔ ان سے متعلقہ مہارتوں یا متعلقہ مضامین کے بارے میں مفصل آگاہی ملتی ہے۔
کتاب سے ہم صرف آگہی ہی نہیں حاصل کرتے بلکہ اچھی کتب پڑھنے سے انسان میں شعور پیدا ہوتا ہے۔ تسکین قلب حاصل ہوتا ہے۔ کتاب پڑھنے کے عادی لوگ جبتک مطالعہ نہ کریں انکو چین نہیں ملتا۔ انکو کتاب پڑھنے سے سرور حاصل ہوتا ہے۔ وہ اپنے علم میں اضافے کے ساتھ ساتھ اپنے اعمال و عادات میں بھی بہتری لاتے ہیں ۔ ایک اچھی کتاب انسان میں مذید اچھے اوصاف پیدا کرنے کا باعث بنتی ہے ۔ اسکی عادات و اطوار میں نکھار پیدا ہوتا ہے۔اسکی سوچوں اور خیالات کو وسعت ملتی ہے۔ اسکا انداز ایک عام آدمی سے یکسر مختلف ہوتا ہے۔ اچھی کتاب ایک انسان کی کردارسازی میں اہم ترین رول ادا کرتی ہے۔
بدقسمتی سے اب ہمارے ہاں اس عادت کا خاتمہ ہوتا نظر آرہا ہے۔کتب بینی بلکل ختم ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ میں نے جو کتابوں کے پڑھنے پر اتنی تفصیل سے بات کی ہے اسکا مقصد ہی یہ تھا کہ یہ بتایا جائے کہ کتاب سے ہمیں کیا فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ یا ہم نےکیا فوائد حاصل کئے۔ اگر میں اپنے دور کی بات کروں تو ہمارے زمانے میں غیر نصابی کتاب پڑھنے کا بڑا رواج تھا۔ بچپن میں ہم تعلیم و تربیت، نونہال، ہمدردجیسے ماہنامے اور عمرو عیار اور ٹارزن کی کہانیاں پڑھتے تھے۔ پھر اصلاحی کہانیوں کا دور آیا۔ تھوڑے اور بڑے ہوئے تو جاسوسی کہانیاں پڑھنے کا دور تھا۔ عمران سیریز، انسپکٹر جمشید سیریز بڑے مشہور جاسوسی کردار تھے۔ ابن صفی اور اشتیاق احمد کا بڑا کردار رہا۔ اسکے بعد کی عمر میں رضیہ بٹ کے رومانی ناول پڑھنے کا دور آتاہے۔ ۔ لیکن ادبی گھرانہ ہونے کی وجہ سے بہت چھوٹی عمر سے ہی قراةالعین حیدر، عصمت چغتائی ، منٹو ، صدیق سالک، شفیق الرحمان ، انتظار حسین، ممتاز مفتی، قدرت اللہ شہاب ، اشفاق احمد ، بانو قدسیہ جیسے بڑے ادباء کو پڑھنے کا موقع ملا۔ اس دور کے بیشر لوگ مطالعے کے عادی تھے۔ اتنے بڑے ادباء کو ہر کسی نے تو نہیں پڑھا ہوتا لیکن بہر حال ایک مطالعے کی عادت لوگوں میں بدرجہ اتم موجود تھی۔اسوقت مختلف ادبی، اصلاحی و سیاسی ڈائجسٹس بھی ہوتے تھے جنمیں اردو ڈائجسٹ، سیارہ ڈائجسٹ خاص اہمیت کے حامل تھے۔ ہفت روزہ اخبار جہاں بھی ایک اچھا اضافہ تھا۔ خواتین کے کچھ ڈائجسٹس بہت مقبول تھے۔ ہم سے کچھ پہلے "بتول" اور "نقوش" جیسےاصلاحی ماہنامے بہت مشہور تھے۔جو خواتین اور بچیوں کی اخلاقی تربیت و نشونما کے لئے بڑی بہترین تحاریر کا انتخاب کرتے تھے۔ یہ کتب ، ڈائجسٹس معاشرے میں لوگوں کی کردار سازی میں اہم کردار ادا کرتے تھے۔ میں یہ تو نہیں کہونگی کہ یہ ختم ہو گئے لیکن نایاب ضرور ہوگئے ہیں۔
افسوس مجھے آج کے دور کے لوگوں پر ہوتا ہے کہ کتاب کا استعمال انتہائ کم ہو کر رہ گیا ہے ۔ کتاب کی جگہ نئی ٹیکنالوجی نے، نئی gadgets نے لے لی ہے ۔ آج کے بچے کے ہاتھ میں جدید ٹیکنالوجی ہے جسکی وجہ سے وہ کتاب اور کتب بینی سے دور ہو گیا ہے۔ بہت سے لوگ کتاب کو کمپیوٹر پہ، ٹیب پہ، موبائل پہ ڈاوُن لوڈ کر لیتے ہیں یاآجکل کتاب(ebook) کو سننے کا بھی ایک فیشن بن گیا ہے۔ لیکن جو مزا کتاب کو ہاتھ میں لیکر پڑھنے میں آتا ہے وہ اس ٹیکنالوجی میں کہاں۔ میں نے کوشش کی تھی کہ میں انٹر نیٹ سے کتاب پڑھ سکوں لیکن مجھے ناکامی ہوئی کیونکہ کتاب سے محبت کرنیوالا کسی اور طریقے یا ذریعے سے اس سے حِظ نہیں اٹھا سکتا۔،،لیکن بہرحال کسی بھی طریقے سے پڑھیں کتاب لیکن پڑھیں ضرور۔۔
ہمیں کتب بینی کو فروغ دینے کے لیئے کچھ اقدامات کرنےکی ضرورت ہے۔
ایک تویہ کہ والدین چھوٹی عمر سے بچے کو کتاب کا تحفہ دینے کی عادت ڈالیں۔
اساتذہ بچوں کے دلوں میں کتاب کی محبت پیدا کریں ۔انکو کتاب سے پڑھ کر کہانی سنائیں۔
حکومت کتابوں کو کم قیمت پر فروخت کرنے میں اہم کردار ادا کرے۔ جیسے نیشنل فاوُنڈیشن کا اس میں بڑا اہم کردار ہے۔
لائیبریریز کے قیام پر اور ریڈرز کوانکی طرف متوجہ کرنے کے لئے زیادہ کام کرنے کی ضرورت ہے۔ جیسے سٹوڈنٹ لائیبریری کارڈز ہوں جو انکے لئے باآسانی دستیاب ہوں۔
سکولوں اور کالجوں میں ایک پیریڈ لائیبریری کا ضرور رکھا جائے جہاں بچے عملی طور پر جا کے کتب کا مطالعہ کریں۔
حکومت قومی، صوبائی اور ضلعی سطح پر ایسے پروگرامز منعقد کرےجس میں طالبعلموں کو ریڈنگ کی طرف متوجہ کیا جائے۔ انکو رعایتی قیمتوں پر مفید کتابیں مہیا ہوں۔
لکھاری ، ادیب، شاعر خود بھی ان پروگراموں کا حصہ بنیں۔ ایسے پروگرام ہمیں اسلام آباد کی یا چند بڑے شہروں کی حد تک تو نظر آتے ہیں لیکن چھوٹے شہروں میں ایسی سرگرمیاں نہ ہونے کے برابر ہیں۔
کتاب کی محبت پیدا کرنے کے لئے لائیبریریز کے تحت ہر ضلع میں تعلیمی و تدریسی پروگرام منعقد ہوں۔
لائیبریریاں تو موجود ہیں لیکن پڑھنے والے بہت کم ہیں ۔ لہذا لائیبریریز کے تحت ایسے پروگرام منعقد ہوں جو سکولوں میں جا کر بچوں کو مطالعے کی عادت کیطرف راغب کریں ۔
چھوٹے بچوں کے لیئے کتاب میں دلچسپی کے عناصر ہوں تاکہ وہ شوق سے اسکو دیکھیں ، پڑھیں اور اس سے سیکھنے کی عادت ڈالیں۔
جن لوگوں کا ذکر پہلے کیا جیسےکہ والدین ، اساتذہ ، حکومت کے مختلف ادارے ، یہ سب اپنا اہم کردار ادا کر سکتے ہیں اوراسی طریقے سے ہم اپنی نئی نسل کو کتب بینی کیطرف واپس لا سکتے ہیں۔
Subscribe to:
Posts (Atom)