Saturday, September 28, 2019

قراة العین حیدر کی ایک جھلک

قراة العین حیدر کی گردش رنگ چمن زیر مطالعہ ہے۔ایک دلچسپ دستاویزی ناول ہے جسمیں مسلمانوں کی پر تعیش زندگی کا ذکر بھی ملتا ہے اور انکے زوال کی وجوہات بھی۔۔۔۔۔ مختلف شہروں اور کردارں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔۔۔۔ جدت اور قدیم رسوم و روایات کا ایک حسیں امتزاج نظر آتا ہے۔۔۔۔بہت پہلے لیا تھا شاید لاہور ایئرپورٹ سے لیکن مکمل نہ کرپائی مصروفیت کی وجہ سے۔۔۔سوچا آجکل گھر میں ہوں تو اسکو ہی مکمل کر لوں۔۔۔
قراة العین حیدر کو میں لگ بھگ ،26,27 سال سے پڑھ رہی ہوں۔۔۔انکے تمام ناولز، ناولٹ، افسانوی مجموعے ، سفر نامے اور انشائیے ہر تصنیف کمال کی ہے۔۔۔۔ آٹھویں جماعت میں پہلی بار پڑھنے کا اتفاق ہوا اپنی اماں کی لائیبریری سے تو آج تک انکے سحر میں مبتلا ہوں۔۔۔
آخر شب کے ہمسفر، کارجہاں دراز ہے، چاندنی بیگم، میرے بھی صنم خانے ، آگ کا دریا، سفینہ غم دل ۔۔۔۔یہ تمام تو پڑھ چکی ہوں۔۔۔ایک ناول جو زیر مطالعہ ہے یہ نہیں پڑھا اور چند ایک اور ہیں جو نہیں پڑھ پائی۔وہ ابھی پڑھنے ہیں۔۔۔میری پسندیدہ مصنفہ ہیں۔۔سوچا جنہوں نے نہیں پڑھا انکو ، انکے لئے کچھ رہنمائی کر دوں۔۔۔۔آج سے چالیس پچاس سال پہلے لکھے انکے ناول کو پڑھیں تو اسمیں بھی ایک جدت، فلسفہ دکھائی دیتا ہے۔۔۔
انکی تصانیف درج ذیل ہیں
انہوں نے 4 ناولٹ بھی لکھے، جن کے نام ’دلربا‘، ’سیتاہرن‘، ’چائے کے باغ‘، ’اگلے جنم موہے بٹیا نہ کیجیو‘ ہیں۔ اُن کے افسانوی مجموعوں کی تعداد 8 ہے، جن میں ’ستاروں سے آگے‘، ’شیشے کے گھر‘، ’پت جھڑ کی آواز‘، ’روشنی کی رفتار‘، ’جگنوؤں کی دنیا‘، ’پکچر گیلری‘، ’کف گل فروش‘ اور ’داستان عہد گل‘ شامل ہیں۔ 5 سفرنامے جبکہ 7 مغربی ادیبوں کی کتابوں کے تراجم بھی اُن کے قلمی اشتراک کا حصہ ہیں۔ مثال کے طور پر معروف امریکی ادیب ’ہنری جیمز‘ کے ناول ’دی پورٹریٹ آف اے لیڈی‘ کا اُردو ترجمہ اُن کے چند بہترین تراجم میں سے ایک مانا جاتا ہے۔ اُن کی کئی تخلیقات پر ہندوستان میں فلمیں اور ڈرامے بھی بن چکے ہیں ۔

قرۃ العین حیدر نے کُل 8 ناول لکھے، جن میں ’میرے بھی صنم خانے‘، ’سفینہ غم دل‘، ’آگ کا دریا‘، ’آخر شب کے ہمسفر‘، ’کار جہاں دراز ہے‘، ’گردش رنگ چمن‘، ’چاندنی بیگم‘، ’شاہراہِ حریر‘ شامل ہیں۔ اُن کا ناول ’کار جہاں دراز ہے‘ تین حصوں پر مشتمل اور سوانحی ناول ہے، جس میں انہوں نے اپنی زندگی کے کئی ذاتی گوشوں پر بھی تفصیل سے بات کی ہے۔

کچرا بھی فائدہ مند ہو سکتا ہے

ایک تحقیقی سروے کے مطابق ماحولیات کے ماہرین کو تشویش لاحق ہے کہ ترقی پذیر ممالک میں غریب عوام کی ایک بڑی آبادی  کوڑے کرکٹ کے پاس رہتی ہے۔ جن کی وجہ سے انمیں بے شمار مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ کوڑے کرکٹ کے پاس رہنے سے انہیں جسمانی عوارض لاحق ہونے کیساتھ ساتھ ذہنی بیماریاں بھی اپنی لپیٹ میں لے رہی ہیں ۔جنمیں ملیریا اور فضائی آلودگی سے متعلقہ مسائل شامل ہیں۔ اس رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اسکی وجہ کوڑا کرکٹ کی جگہوں پر زہریلی گیسوں کا اخراج ہے۔ اگر یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو ان ممالک میں نہ ختم ہونیوالی  بیماریوں کا ایک سلسلہ شروع ہو جائیگا۔ اس تحقیق میں معلوم ہوا کہ 2010 میں ان ممالک میں اسی لاکھ ساٹھ ہزار افراد کچرے کے قریب رہنے پر مجبور ہیں۔ اسی رپورٹ کے ایک محقق کا کہنا ہے کہ سیسہ، فاسفیٹ اور لوہا اور دیگر کئی طرح کے کیمیکلز صحت کے مسائل پیدا کر رہے ہیں۔ کیونکہ اس علاقے میں سیسے کا تناسب زیادہ پایا جاتا ہے ۔ماہرین کی رائے کیمطابق اگر یہ زہریلا مادہ انسان کے خون میں جذب ہو جائے تو اس سے رحم مادر میں بچوں کو مسائل درپیش ہو سکتے ہیں اور یہ بچوں کی ذہنی نشو و نما کے لئے بھی نقصان دہ ہے۔
ترقی یافتہ  ملکوں میں ماحول د وست اصول کے تحت اسکو ٹھکانے لگانے کے بہت اچھے اور سائنٹفیک  طریقےموجود  ہیں۔ اور  اس کچرےسے فائدہ اٹھانے کے لئےبھی انکے پاس بہت سی سہولتیں اورسائنسی طریقہُ کار موجود ہیں۔دنیا بھر میں آجکل ویسٹ مینجمنٹ کےانہی اصولوں  کے تحت کام ہو رہا ہے لیکن ترقی پذیر ملکوں میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی۔

#کچرےکی_اقسام:
 ہمارے ملک میں ہر قسم کا ٹھوس کچرا پایا جاتا ہے۔یہ گھریلو ، صنعتی،زرعی یا محض قدرتی  بھی ہو سکتا ہے۔ جیسے
1)گھریلو کچرا : باورچی خانے کا کچرا جسمیں ٹوٹی کانچ،پلاسٹک، برتن، گتے کے ڈبے، استعمال شدہ پرانے اخبارات اور چھلکے وغیرہ۔
2)فالتو کچرا: اینٹ، ریت ،فرنیچر اور بیکار اشیاء، کاٹھ کباڑ۔
3)حیاتاتی  و طبی کچرا: مردہ جانور۔ شاخ سے گرنے والے پتے، ڈالیاں، تنے، شاخیں ، گلے سڑے پھل ، چھلکے۔
4)زرعی کچرا: فصلوں سے بچنے والا کچرا ، کھیت کے جانوروں کے فضلات ، راکھ اور کیڑا کش ادویہ ۔
5) صنعتی کچرا: جیسے کیمیاوی مادہ، پینٹ وغیرہ
6) کوئلے کی کان کا کچرا۔
یہ کچرا زیادہ  تر شہروں میں ملتا ہے۔

#کچرےکی_نکاسی_کےلئےاقدامات:
 شہروں میں  اس کچرے کی نکاسی کے لئے حسب ذیل اقدامات کئے گئے ہیں۔
1) ٹھوس کچرے کا جمع کرنا ۔ شہر کے مختلف مقامات سے ٹرکوں اور ٹریلوں کے ذریعے کچرا جمع کیا جاتا ہے جو ٹرانسفر سٹیشنز پر بھیجا جاتا ہے۔۔ بلڈوزر ان کچروں کو انتقالی مستقروں سے نکال کر نکاسی کی جگہوں کو لے جاتے ہیں جو عمومًا کسی زمین پر یکجا کیا جاتا ہے ۔ نباتاتی، زرعی اور گھریلو کچرا تو زمین میں دفن کیا جا سکتا ہے لیکن پلاسٹک اور باقی کیمیاوی کچرے کو یا تو recycling کے عمل سے گزارا جاتا ہے یا تلف کر دیا جاتا ہے۔ کوڑا کرکٹ کو کنٹینر میں بھر کر تلف کر دیا جاتا ہےاور پھر گہری جگہوں میں دفن کر دیا جاتا ہے۔

#کچرےاورکچرادانوں_کامناسب_انتظام

ِیہ بہتر ہو گا  کہ ہر گھر کے سامنے ایک بڑے سائز کا ’’ڈرم‘‘ کوڑا ڈالنے کے لیے رکھ دیا جائے جسے کچرا اٹھانے والا آ کر اپنی ہتھ گاڑی میں ڈال کر لے جائے۔ اس کچرے کو کچرے کے بڑے ڈھیر  میں ڈال دیا جائے جہاں سے گاڑیاں محفوظ طریقے سے وہ کچرا ’’ری سائیکل‘‘ کرنے کے لیے مخصوص جگہوں پر پہنچا دیں۔ متعلقہ لوگ اس کچرے کو ری سائیکل کر کے اسے کار آمد بنا کر پھر نئے سرے سے نئی اشیا بنانے میں لگاسکتے ہیں ۔
دوسری بات یہ کہ  سڑکیں صاف کرنے والوں کے پاس سائیکلیں ہوں  جن کے ساتھ چھوٹے چھوٹے ڈبے لگے ہوں،تاکہ سڑک کو صاف کر کے کوڑا ان میں جمع کیا جائے۔ اسی طرح  ترتیب وار مخصوص فاصلوں پر بڑے بڑے ٹرالر کچرا ڈالنے کے لیے رکھ دیے جائیں جہاں گھروں اور سڑکوں سے اکٹھا کیا ہوا کچرا جمع کیا جائے، جو ٹرکوں کے ذریعے مخصوص فیکٹریوں یا ان جگہوں تک لے جایا جائےجہاں انکو ری سائیکلنگ کے عمل سے گزاراجائے۔ اس طرح کا کام کرنے کے لیے کے MC  یاTMA یا  متعلقہ ادارے اس کام کا ٹھیکہ کسی شہرت یافتہ  کمپنی کودیں، جو ہر شہر کو اپنے  طریقہُ کار  سے صاف رکھیں۔ان  ٹھیکوں  کی وجہ سے کوڑا ری سائیکل ہو کر کار آمد بھی ہو گا ،  جس کو آگے فیکٹریوں کو فروخت کر دیا جائے اور ٹھیکہ دینے سے بھی کروڑوں کا منافع ہو سکتا ہے۔ صاف ظاہر ہے اس کام کے لیےہمیں بہت زیادہ  پلاننگ کرنے کی ضرورت ہے۔یہ کام حکومت کے کرنے کے ہیں۔ انفرادی طور پر بھی ہم  کچھ کر  سکتے ہیں  مگر اصل کام بڑے پیمانے کا ہے، جو ہر شہر کی بلدیاتی حکومت انجام دے سکتی ہے۔ اس میں ماہرین کی ضرورت ہو گی اور ایسے ایماندار افسران کی ضرورت ہے جو  دیانتداری اور جانفشانی سے اس کام کو انجام تک پہنچائیں۔

#ری_سائیکلنگ:
پوری دنیا میں Recycling کا رجحان ہے۔ لوگ پرانی اشیا کو پھر سے قابلِ استعمال بناتے ہیں۔ اسی طرح وہ ایسی بے شمار اشیا کو کسی حد تک کار آمد کرنے کے لیے کسی اور شکل میں ڈھالتے ہیں۔ مثال کے طور پر پلاسٹک کی بڑی بوتلوں کو کاٹ کر ان پر کلر کر کے ان میں پھول اور سبزیاں اگائی جاتی ہیں۔انڈیامیں ایک سائنسدان نے 10%پلاسٹک کو بجری اور کولتار  کے ساتھ مکس کر کے اس سے سڑکیں بھی بنائی ہیں۔ کچھ ممالک میں بوتلیں ٹرین کے ٹکٹ کے طور پر استعمال ہوتی ہیں۔
 پرانے کاغذ کا گتہ بنتا ہے اور پلاسٹک بیگز پھر بیگز بنانے یا پلاسٹک کا سامان تیار کرنے کے کام آ جاتے ہیں۔ اس طرح ہر استعمال شدہ چیز کا کوئی نہ کوئی مصرف ہوتا ہے۔

#کچرا_جمع_کرناایک_منافع_بخش_کام_ 

 چند سالوں سے لوگوں نے کچرے کا مصرف تلاش کر لیا ہے، گویا کچرا بھی ایک کار آمد بزنس بن گیا ہے۔۔ 
کتنے ہی بچے اور نوجوان لوگوں نے کچرے کے قریب اپنے مسکن بنا رکھے ہیں جہاں سے وہ کاغذ، پلاسٹک کی اشیا، لوہے کا سامان وغیرہ علیحدہ کر کے تھیلے بھر کر مختلف فیکٹریوں میں بیچ دیتے ہیں۔ اس طرح سے کچرا فروشی ایک منافع بخش کاروبار بن چکا ہے۔ہزاروں ٹن کچرا روزانہ کی بنیاد پر کچرے کے ڈھیروں سے چنا جاتا ہے اور ان کو علیحدہ کر کے فیکٹریوں تک لے جایا جاتا ہے۔ اس طرح یہ بغیر قرض لیے اور سرمایہ لگائے ایک منافع بخش کاروبار بن  سکتا ہے۔ اگر یہی کام ٹھیکےدار  کو ٹھیکے پر دے دیا جائے تو اس سے کروڑوں روپے حکومت کو میسر آ سکتے ہیں اور شہروں کی صفائی کا نظام بھی  بہت بہتر ہو سکتا ہے ۔ 

#کچراچننےوالوں_کوکیسےکارآمدبنایاجائے

سیکڑوں ٹن کچرے میں سے کارآمد اشیاء نکالنے والے اِن ہزاروں ہنرمندوں اور رضا کاروں کی ایک فوج بنا کر اس کچرے کو صاف کیا جاسکتا ہے اور اس خودکار رضا کار فورس کو جب آپ معقول اور مناسب معاوضہ دیں گے تو یہ آپ کیلئے بہت کارآمد ثابت ہوں گے اور آپ اس فورس کو   کوڑا صاف کرنے کیلئے استعمال کرسکتے ہیں، یہ لوگ خوشی خوشی اس کام پر تیار بھی ہو جائیں گے کیونکہ وہ سارا دِن یہی کام تو کررہے ہوتے ہیں اور ہم اس طرح کم پیسوں میں اس کوڑے کو صاف اور اِسے کام میں لاسکتے ہیں ۔انکو ہم ٹرین train کر سکتے ہیں کہ وہ پلاسٹک کی  ، لوہے کی  ، اور دیگر کار آمد اشیاء کو الگ الگ چنیں اور جمع کریں یوں آسانی سے ان پلاسٹک بوتلوں  کو recycling سے اور باقی چیزوں کو فروخت کر کے منافع کمایا جا سکتا ہے ۔

#کچرےکابہتراستعمال
 اگر کچرے کو استعمال میں لایاجائے تو نہ صرف کثیرزرمبادلہ بچایاجاسکتا ہے بلکہ روزگار کے مواقع بھی پیدا کئے جاسکتے ہیں کیونکہ
1)کچرے کو تین حصوں میں تقسیم کرکے بجلی اورکھاد کی پیداوار شروع کی جاسکتی ہے۔
2)کچرے کا ایک حصہ پروٹین‘ فرٹیلائزر (کھاد) کیلئے استعمال کیاجاتا ہے جبکہ دوسرا حصہ انرجی کی پیداوار کیلئے استعمال ہوتا ہے۔
3)کچرے کا تیسرا حصہ جو قابل استعمال نہیں اسے خاکستر دانوں کے ذریعے تلف کر دیا جاتا ہے۔ کیونکہ کیمیکلز اورجراثیم پر مشتمل یہ کچرا انتہائی خطرناک اور آلودگی کا باعث ہوتاہے۔
 دنیا بھر میں 100 میں سے 65فیصد کچرا کارآمد ہوتا ہے جبکہ 35فیصد ضائع کردیا جاتا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں کچرے کو زیر استعمال لاکر اربوں روپے کی معیشت کا اضافہ ہورہا ہے جس سے بجلی اورکھاد کی پیداوار جاری ہے۔ سالڈ ویسٹ اکانومی آج دنیا بھرمیں اربوں ڈالر تک پھیل چکی ہے۔لیکن افسوس ہمارے ہاں اس قسم کے منصوبے اول تو شروع ہی  نہیں کئے جاتے اگر کر بھی دئیے جائیں تو وہ بد انتظامی، ناتجربہ کاری اور کرپشن کی نذر ہو جاتے ہیں ۔اس مقصد کے لئے ہماری حکومت کو متعلقہ محکموں کے افسران کو جدید ٹریننگ دلوانی ہو گی۔
سالڈ ویسٹ ایک مضمون بن چکا ہے جس پر لوگ باقاعدہ ریسرچ کر رہے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس طرف حکومت توجہ دے اور کوالیفائیڈ لوگوں کو ان محکموں میں تعینات کرے۔ اسی طرح کچھ بہتری آنے کے امکان ہیں۔


Saturday, September 14, 2019

خاموش زہر قاتل



پلاسٹک جدید کیمیائی صنعت میں بہت ہی سستی اور عام شے ہےجو ہماری زندگی میں کثرت سے استعمال ہوتی ہے۔ پلاسٹک کو آج ہمارے یہاں اس قدر اہمیت حاصل ہوچکی ہے
کہ اس کے بغیر اب روزمرہ کی زندگی ہمیں  ادھوری دکھائی دیتی ہے۔ ہم روزانہ پلاسٹک
سے بنائی گئی کوئی نہ کوئی چیز ضرور
استعمال کرتے ہیں، جبکہ پلاسٹک کا سب سے زیادہ استعمال ہم پولیتھین لفافوں یا بیگز کی صورت میں کرتے ہیں۔ یہ بیگ یا لفافے وزن میں انتہائی ہلکے اور سستے ہوتے ہیں اور ہم انہیں کسی بھی طرح سے استعمال کرسکتے ہیں۔ ان
ہی فائدوں کو دیکھ کر ہم ان کا بکثرت استعمال کرتے ہیں،لیکن اس کے مضر اثرات کو نظر انداز کردیتے ہیں۔ ان پلاسٹک بیگز کو استعمال کےبعد پھینک دیا جاتا ہے، لیکن یہ اپنی کیمیاوی خصوصیات کے باعث مٹی، پانی یا ہوا میں گلنے سڑنے کے بجائے ہمارے ماحول کے لئے مضر اور ضرر رساں بن جاتے ہیں۔
#شاپنگ_بیگزکی_تاریخ:
پلاسٹک کے تھیلے یا شاپنگ بیگز یا عرف عام میں شاپر کہلانے والے اس ماحول کو برباد
کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ وہ ہماری
اس کائنات کے لئے خاموش زہر قاتل کا سا
کام انجام دے رہے ہیں۔ 20ویں صدی میں
ایجاد ہونیوالے پلاسٹک سے بعد میں کیا کیا تباہی ہوگی یہ اسوقت کے لوگوں نے یقینا"
نہیں سوچا تھا ۔ پلاسٹک اپنی ساخت اور
بناوٹ میں لچکدار، نرم اور مضبوط ہر شکل
و صورت میں تیار کیا جاسکتا ہے۔ اسلئیےاس سے ہرقسم کےاستعمال کی چیزیں بننی شروع ہوئیں۔ باورچی خانے کے برتن و اشیاء سے لیکر کھلونوں، جوتوں، کمپیوٹر ، ٹی وی، مختلف مشینری اور گاڑیوں تک میں اسکا استعمال ہوا۔ اسکے علاوہ طبی آلات کو دیکھیں تو انمیں انجکشنز اور ٹیوبز وغیرہ پلاسٹک سے ہی بنی ہوتی ہیں۔ پہلی بار شاپنگ بیگ یا تھیلے کا استعمال 1957 میں سینڈوچ بیگ سے ہوا۔ جسکے بعد ان تھیلوں کے استعمال کا یہ سلسلہ چل نکلا۔ اسکی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ پلاسٹک میں بیکری کا سامان زیادہ دیر تک تازہ رہتا تھا۔ لہذا 1969 میں امریکہ میں ڈبل روٹی اور اشیائے خورد ونوش کو انہی تھیلوں میں فروخت کیا جانے لگا۔ 1977 تک انکا استعمال بڑھکر جنرل سٹورز اور سبزی فروشوں تک
آچکا تھا۔ 1996 تک ان تھیلوں کا استعمال
دنیا بھر میں 80% تک بڑھ چکا تھا۔ یہ
شاپنگ بیگز دکانداروں کو نسبتاً سستے پڑتے تھے ۔لہذا دکاندار بھی انکا بے دریغ استعمال
کرنے لگے اور گاہک بھی۔  ایک اندازے کیمطابق پوری دنیا میں پلاسٹک کے تقریباًایک ٹریلین شاپنگ بیگزیا اس سے کچھ زائد  استعمال
ہونے لگے۔ اس حساب سے ہر شخص  ایک
سال میں اوسطاً150 تھیلے استعمال کرتا ہے۔
اور ہر سال انکے استعمال میں تقریباً 15% اضافہ ہو رہا ہے۔صرف پاکستان میں پلاسٹک
بیگ بنانے والے کارخانوں کی تعداد آٹھ سے
دس ہزار کے درمیان ہے۔اور ان میں سے ایک کارخانہ اوسطاً 250 سے 500 کلوگرام
پلاسٹک بیگ بنا رہا ہے۔ ایک سرکاری جائزہ رپورٹ کیمطابق ملک میں استعمال ہونیوالے
ان تھیلوں کی تعداد 55 ارب تک پہنچ چکی
ہے۔ جو کہ انتہائی تشویشناک ہے۔ 
#پلاسٹک_کےشاپنگ_بیگزکےنقصانات:
پلاسٹک کی مصنوعات کاسب سے بڑا نقصان
یہ ہے کہ وہ دھوپ اور پانی سے رفتہ رفتہ چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں  تو  تبدیل  ہو
جاتی ہیں لیکن کئی صدیوں تک ختم (dissolve) نہیں ہوتیں ۔ انکا بیشتر حصہ
ندی نالوں، دریاوُں کے ذریعے ہوتا ہوا سمندروں میں جاتا ہے جس میں سے 70 %سمندروں کی تہہ میں چلا جاتا ہے اور آبی آلودگی کا باعث
بنتا ہے اور30% سطح پہ تیرتا رہتا ہے۔ ایک تجزئےکیمطابق سمندروں سے نکالا جانیوالا 90%کچرا پلاسٹک اور ان بیگز پر مشتمل
ہوتا ہے۔ 2006 کی ایک ریسرچ کیمطابق
سمندر کے کئی حصوں میں ایک مربع
میل کے رقبے کے اندر پلاسٹک کے تقریبا" 46000 ٹکڑے موجود ہوتے ہیں جو سمندروں میں زہریلا مواد پھیلا رہے ہیں.اور آبی
جانداروں کی موت کا باعث بن رہے ہیں۔
شہروں میں پلاسٹک کے تھیلے کوڑے کے
ڈھیروں سے اڑ کر سڑکوں پر آجاتے ہیں۔ جو ٹریفک میں بھی تعطل پیدا کرتے ہیں۔اسکے
علاوہ گٹروں اور نالیوں میں رکاوٹ کا باعث بنتے ہیں۔یہ پانی جب سڑکوں پر پھیلتا ہے تو انمیں شگاف اور دراڑیں پیدا کر دیتا ہے۔
جس سے سیلابی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔  نکاسی آب  کے نظام میں رکاوٹ کے نتائج
کسی بھی ملک یا شہر کے لئے انتہائی
خطرناک ثابت ہوتے ہیں.  اس سے اردگرد
کا ماحول بھی آلودہ ہو جاتا ہے۔ اور یہی گندا پانی پینے کے صاف پانی میں بھی شامل ہو کر گیسٹرو، ہیضہ جیسی خطرناک بیماریاں پھیل جاتی ہیں۔ یہی پانی جوہڑوں کی شکل اختیار
کر کے مچھروں کی آماجگاہ بن جاتا ہےجو ڈینگی، ملیریااور پیٹ کی مختلف بیماریوں کا سبب بنتا ہے۔ پلاسٹک کے ذرات اور زہریلے
عناصر زمین میں جذب ہو کر چشموں اور کنووُں کے پانی کو بھی آلودہ کر دیتے ہیں۔ماہرین کے مطابق 80 % بچوں  اور 93 % بڑوں کے
جسموں میں پلاسٹک سے ملے جلےاجزا پائے
جاتے ہیں۔جو ہارمونز بنانے والے غدودوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اسکے علاوہ مختلف قسم کے کینسرز بھی انہی شاپنگ بیگز اور پلاسٹک کی مصنوعات سے پھیل رہے ہیں۔خاص طور پر پلاسٹک کی بوتلیں اور ڈسپوزیبل کپس جن
میں چائے پی جاتی ہے ۔انتہائی نقصان دہ ہیں۔ سانس کی بیماریاں ، کالا یرقان اور موذی بیماریاں بھی اسی سے  لاحق ہوتی ہیں۔
پلاسٹک کی کوڑے میں موجودگی اس کو زمین میں جذب ہونے سے رکاوٹ کا سبب بنتی ہے۔یورپ اور ترقی یافتہ ممالک میں کوڑے کی
بھی کیٹیگریز ہیں۔ پلاسٹک کو الگ، نباتاتی کوڑے کو الگ اور کاغذ کو الگ الگ حصوں میں رکھا جاتا ہے تاکہ پلاسٹک کو ضائع کیا جائے یا ری سائکلنگ کی جائے اور باقی نباتاتی کوڑے
کو کھاد یا کسی اور مفید مقصد کے لئے
استعمال کیا جائے۔پلاسٹک اور پلاسٹک بیگز کا استعمال زمین کے نظام کے لئے خطرہ بنتا جا رہا ہے۔
اسکے استعمال کو کم سے کم کرنے کی ضرورت ہے۔ دنیا بھر میں پلاسٹک پرپابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اور اسکے متبادل متعارف کرائے جارہے ہیں ۔  1997 میں وزیراعظم پاکستان  نےملک میں  تمام رنگ کے تھیلوں پر پابندی عائد کر
دی تھی۔2013 میں بھی حکومت نے انپر
پابندی لگائی اسی طرح  مختلف صوبائی حکومتوں نے بھی مختلف ادوار میں ان
تھیلوں کے استعمال پر پابندیاں  عائد کی تھیں لیکن افسوس کے انپر عملدرآمد نہیں کیا جاتا
رہا۔
پلاسٹک کے تھیلوں کا نقصان بہت زیادہ ہے۔ جبتک ان کو مکمل طور پر ban نہیں کیا
جائیگا اسوقت تک ہمیں اس بھیانک حقیقت کا سامنا رہے گا کہ ہمارے ماحول کی آلودگی کا سب سے بڑا ذریعہ پلاسٹک اور پولیتھین بیگز ہیں۔ ان بیگز کے متبادل کے طور پر ہم پٹ سن اور کاغذ کے بیگز کو فروغ دے سکتے ہیں۔پلاسٹک کے ان تھیلوں سے قبل پٹ سن کی بوریاں یا موٹے
کاغذ کے لفافے استعمال ہوا کرتے تھے ۔ ہمارے بچپن میں سبزی اور پھلوں کے لئے ٹوکرے یا پٙچھے استعمال ہوا کرتے تھے ۔ ہمیں چاہئیے کہ
ہم انہی چیزوں کا استعمال دوبارہ کریں کیونکہ یہ ماحول کے لئے کسی بھی قسم کے نقصان کا باعث نہیں بنتے جبکہ پلاسٹک کو نہ جلایا جا سکتا ہے ، نہ انکو dissolveکیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اسکا کوئی اور مفید استعمال ہے۔ یہ ہر صورت میں ناقابل تلف ہے۔ ہمارے ماحول کے
لئے زہر قاتل کا کام دے رہا ہے۔ ہمیں سنجیدگی سے اسکو ختم کرنے اور اسکے متبادل کے طور
پر کارآمد بیگز کو متعارف کرانے کی اشد ضرورت ہے۔ یہ اسی صورت میں ممکن ہے جب  عام آدمی کو اسکے مضمر اثرات کے بارے میں علم ہوگا۔ ہم عوام کی آگاہی کے لئے مختلف سیمینارز ، کانفرنسز اور پروگرامز کا اہتمام گورنمنٹ کی سطح پر بھی اور سول سوسائٹیز اور NGOs کیساتھ ملکر کر سکتے ہیں۔ ان آگاہی پروگرامز کا انتظام لوکل گورنمنٹ کے نمائندوں، یونیورسٹی، کالجز ،سکولوں کے طلبا،سوشل ورکرز، ماحولیات کے لئے کام کرنیوالے سارے اداروں کے لوگوں اور ماحولیات کے لئے کام کرنیوالی NGOs کے لئے ہونا چاہئیے ۔جہاں سے آگاہی عام آدمی تک پہنچے۔ اسی طرح الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا کے ساتھ ساتھ  سوشل میڈیا کا بھی مثبت استعمال لوگوں کو آگاہی دینے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ اسکے علاوہ انتظامیہ، لوکل گورنمنٹ ، TMA, WASCCAکے ادارےاسکی روک تھام اور اسکی تشہیر کے لئے اہم رول ادا کر سکتے ہیں جب لوگ آگاہ ہونگے۔
موجودہ
  تو اس زہر قاتل کے استعمال کو ترک کر دینگے۔ اور اسکےبہتر متبادل تلاش کرینگے۔ آیئے ہم سب اس مہلک شے سے نجات حاصل کرنے کے لئے اپنے طور پر زیادہ سے زیادہ آگاہی پھیلائیں ۔ اچھی بات کو پھیلانا بھی صدقہُ جاریہ ہے۔













Wednesday, September 11, 2019

ہمارا اپنا قائد



آج جی چاہا کہ اپنے قائد کو اپنی تحریر کے ذریعے خراج تحسین پیش کروں۔۔۔۔قائد اعظم محمد علی جناح سے ناصرف اس قوم کا بچہ بچہ  بلکہ پوری دنیا واقف ہے۔۔۔۔ہر کوئی انکے کردار کی مثالیں دیتا ہے۔۔۔انکی پوری زندگی کے سفر کےبارے میں سب جانتے ہیں ۔۔میں آج اس تحریرمیں صرف انکی شخصیت کے مختلف پہلووُں پر روشنی ڈالوں گی۔۔۔انکا اخلاص ، دردمندی،  تدبر، ارادے کی پختگی،  امانتداری، عزم صمیم ، بلندحوصلگی ، استقامت ،وعدے کی پابندی، سچائی کی عادت ،پر دلیل گفتگو، انتھک محنت ، بااصول شخصیت۔۔۔۔یہ سب وہ خصوصیات ہیں جو انکی زندگی کا مطالعہ کرنے سے ہمیں حاصل ہوئیں۔۔۔۔وہ ایک کامیاب اور اسوقت کے مہنگے ترین وکیل تھے لیکن مسلمانوں کے لئے دردمندی اور اخلاص چونکہ انکے دل میں موجود تھا جسے حالات نے عیاں کیا اور وہ اپنی پر تعیش زندگی کے عیش و آرام تج کرکے جدوجہد آزادی کے لئے پورے عزم اور بلند حوصلگی کے ساتھ جُت گئے ۔ اس سفر کو اپنے ارادے کی پختگی اور استقامت کے ساتھ لیکر آگے بڑھے اور اسوقت تک چین سے نہیں بیٹھے جبتک کہ اپنے مسلمان بہن بھائیوں کے لئے ایک الگ ریاست حاصل نہ کر لی۔۔۔۔ آج جو ہم اس ملک میں آزادی کے مزے لوٹ رہے ہیں یہ قائد ہی کی انتھک محنت، پرعزم ارادے اور بروقت قوت فیصلہ سے ممکن ہوئی اگر انکی دور اندیشی اور تدبر نہ ہوتا تو آج ہم ہندوستان میں غلامی کی چکی پیس رہے ہوتے۔۔۔۔ قائد کی پردلیل گفتگو، دور اندیشی اور تدبرکے بڑے بڑے عالم فاضل بھی قائل ہیں۔۔اپنے تو اپنے پرائے بھی انکے پختہ کردار کی تعریف کرتے ہیں۔۔۔انکا انداز بیاں انتہائی شستہ، نفیس  سادہ اور پُر دلیل ہوتا تھا۔۔۔کم لیکن مدلل گفتگو کرتے ۔۔۔فالتو بات نہ خود کرتے تھے نہ پسند فرماتے تھے۔۔۔انکی شخصیت کا ایک اور پہلو کہ انکو اپنے جذبات و احساسات پر مکمل کنٹرول حاصل تھا ۔۔۔کبھی کسی نے انکو غصے میں یا بہت خوشی میں نہیں دیکھا ۔۔۔انکی شخصیت میں ایک خاص توازن تھا۔۔۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ ان سے مرعوب رہتے تھے ۔۔۔قائد ایک سنجیدہ لیکن خوش اخلاقی کی حامل شخصیت تھے۔۔۔انہوں نے اپنی  شدید بیماری کو لوگوں سے ، دنیا سے چھپا کے رکھا کہ اسکو انکی کمزوری نہ سمجھا جائے۔۔۔۔۔وہ بہت زیادہ محنتی انسان تھے ۔۔گو کہ انکا تعلق ایک متمول گھرانے سے تھا لیکن معاشرے میں بلند مقام و اعلیٰ رتبہ  انہوں نے اپنی انتھک محنت سے حاصل کیا۔۔۔۔ انکے باقی بہن بھائی اتنے تعلیم یافتہ نہیں تھےجتنے کہ قائد۔۔۔انہوں نے اپنی پوشیدہ صلاحیتوں اور قابلیتوں کو دریافت کیا اور ان کو بروئے کار لاتے ہوئے عظمت کی اس بلندی پر پہنچے کہ آج دوست تو دوست دشمن بھی انکی تعریف کرنے پر مجبور ہے ۔۔
انکی وفات کے بعد ہندوستان کی اسمبلی میں ڈاکٹر راجندر پرساد نے4 نومبر 1948میں انکے کردار پر ان الفاظ میں روشنی ڈالی  کہ
"قابل صد احترام ممبران اسمبلی ۔۔میں آپ سے ملتمس  ہوں کہ اپنی جگہوں پر کھڑے ہوجائیے اور  قائد اعظم محمد علی جناح کو خراج عقیدت پیش کیجئےجنہوں نے اپنے عزم صمیم ، لازوال کوششوں اور انتہائی اخلاص نیت سے خطہُ پاکستان حاصل کیا اور اس گھڑی انکی وفات  ایک ناقابل تلافی  نقصان ہے۔"
یہ ہے کردار جسکے دشمن بھی معترف تھے۔۔
آزادی کے بہت بڑے داعی نیلسن مینڈیلا نے 1955 میں قائد سے اپنی عقیدت کا اظہار ان الفاظ میں کیا
"جناح ان تمام لوگوں کے لئےمستقل طور پر قابل تقلید ہیں جو کہ نسلی اور گروہی تفریق کے خلاف لڑ رہے ہیں"
صٙرت چندرا بوس نے ان الفاظ میں قائد کی پیشہ وارانہ  زندگی اور شخصیت پر روشنی ڈالی کہ
"مسٹر جناح نا صرف ایک بڑےنامور وکیل تھے بلکہ ایک بہترین کانگرس مین ، مسلمانوں کے ایک عظیم رہنما ، دنیاکےایک قدآورسیاستدان و سفیر اور سب سے بڑھ کر ایک  بہت ہی باکردار انسان تھے "
قائد کی یہ خصوصیات ان میں بدرجہ اتم موجود تھیں۔۔۔۔ وہ ایک باعمل ، پر عزم ، دوراندیش راہنما۔۔۔ایک  بہترین پیشہ ور وکیل۔۔ایک مدبر اور بااصول سیاستدان ، اور  سب سے بڑھکر بہترین شخصیت کے حامل انسان تھے۔۔۔۔
آج انکی وفات کا دن ہے ۔۔۔ہم انکی مغفرت کے لئے دعاگو ہیں۔۔۔۔اور امید کرتے ہیں کہ اخلاص نیت  انتھک کوششوں اور لازوال قربانیوں سے حاصل کیا گیا یہ ملک تا قیامت قائم رہے۔۔۔۔اس ملک کو ان جیسے باعمل اور بااصول رہنما کی ضرورت ہے۔۔۔
قائد اعظم ۔۔۔۔زندہ باد
پاکستان ۔۔۔۔۔پائندہ باد

تحریر
امنہ سردار

Tuesday, September 10, 2019

محترمہ کلثوم نوازکی یادمیں



وقت کیسے گزرتا جاتا ہے نہ کسی کا انتظار کرتا ہے نہ کسی کو مہلت دیتا ہے۔بے لگام گھوڑے کی طرح سرپٹ دوڑے چلا جاتا ہے۔کبھی یہ ہمیں خوشیوں سے ہمکنار کرتا ہے اور کبھی ہمارے دامن میں گہری اداسیاں چھوڑے جاتا ہے ۔اسکی قدرو قیمت اسکے گزرنے کے بعد ہی معلوم ہوتی ہے۔۔۔۔وقت کی ستم ظریفیاں سہتے بہت سے جواں ہشاش بشاش لوگ کیسے ضعف و اجل کا شکار ہو جاتے ہیں۔۔۔۔
 آج میں ذکر کرونگی محترمہ کلثوم نواز صاحبہ کو جنہوں نے آج ہی کے دن اپنی جان ، جان آفریں کے سپرد کر دی۔۔۔ایک طویل بیماری سے جنگ لڑتے ہوئے آخر وہ ہار گئیں اور اجل جیت گئی۔۔۔۔بیماری کی شدت  اور اپنے پیاروں  سے دوری کے غم نے انکی عمر  کو مذید مختصر کر دیا۔۔۔۔ اپنے عزیز از جان شوہر جنکے ساتھ ہر دم ہر پل وہ  موجود رہتی تھیں ۔۔ان سے دوری کے دکھ نے انکی بیماری کی شدت کو بڑھا دیا اور آخرکئی دن  زندگی اور موت کی کشمکش میں رہنے کے بعد اپنے خالق حقیقی سے جا ملیں۔۔۔۔

انکی بیماری کے دوران بہت سے معزز لوگوں کی زبان سے انکی بیماری کو ڈرامہ اور ڈھونگ کہے جانے نے مجھے نہ صرف افسردہ کیا بلکہ بہت حیران کیا کہ کیا لوگ اتنے شقی القلب بھی ہو سکتے ہیں۔۔۔اتنے ظالم ۔۔اتنے کٹھور اور اتنے سنگدل کہ ایک عورت جو موت و زندگی کی کشمکش میں مبتلا ہے اسکو آپ ان الفاظ سے نواز رہے ہیں۔۔۔۔سچ بتاوُں تو میرا ان سوکالڈ مہذب اور تعلیم یافتہ لوگوں سے اعتبار ہی اٹھ گیا۔۔۔۔ بات پارٹی بازی یا اختلاف کی نہیں ہوتی کبھی کبھی اخلاقیات کی بھی ہوتی ہے ۔۔کیا یہی ہماری اخلاقیات رہ گئی  ہیں کہ ہم بے بس لوگوں کا اس طریقے سے استہزا کریں ۔۔۔۔ مذاق اڑائیں۔
مرنا سب نے ہی ہے تو کیوں بندہ ایسی باتیں کر کے اپنی اصلیت دوسروں پر عیاں کرے۔۔۔۔بہرحال ضمناً ایک بات یاد آگئی تو تذکرہ کر دیا  ۔۔۔
تھوڑی سی بات کرونگی محترمہ کی شخصیت کے حوالے سے۔۔۔مرحومہ ایک نیک خاتون تھیں۔اپنےپرائے ،دوست دشمن ، حریف حلیف سب انکے اخلاق کے گن گاتے تھے ۔۔۔ وہ سراپا شفیق تھیں۔۔۔ہنستا مسکراتا شاداب چہرہ ۔۔۔۔جیسے انکا باطن انکے ظاہر سے جھلکتا تھا۔۔۔ان سے اک مامتا کی مہک آتی تھی۔۔۔۔جب وہ پہلی بار میاں صاب کی گرفتاری کے زمانے میں نکلیں تو بڑی شفقت اور اخلاص سے پارٹی کے لوگوں سے ملیں۔۔۔۔اور جب وہی لوگ ان سے بعد میں بھی ملتے تو  ان سے اسی خلوص اور محبت سے پیش آتیں۔۔۔۔بہت سے پارٹی ورکرز مرد و خواتین انکے اخلاق کے گن گاتے نظر آتے ہیں۔۔۔یہ انکا اخلاق ہی تھا کہ انکی وفات پہ انکےحریفوں نے بھی ازحد افسوس کا اظہار کیا۔۔۔۔محترمہ تو اس دنیا میں نہیں رہیں لیکن ان کا نام ہمیشہ اچھے الفاظ میں لیا جاتا رہے گا ۔۔ میری یہ تحریر میری طرف سے مرحومہ کو خراج عقیدت پیش کرتی ہے۔۔۔۔۔اللہ کریم انکے درجات بلند فرمائیں آمین۔۔۔

تحریر
آمنہ سردار

Wednesday, August 14, 2019

مشترکہ خاندانی نظام کی ناکامی کے نفسیاتی پہلو

#پس منظر

بر صغیر پاک وہند کی تاریخ پر اگر نظر ڈالی جائے تو ہم دیکھیں گےکہ یہاں مشترکہ خاندانی نظام صدیوں سے چلا آرہا ہےاور بہت کامیاب طریقے سے ۔پورے پورے خاندان ایک ہی گھر میں ایک ہی چولہے پر شیر وشکر ہو کر رہتے تھے۔گلے شکوے تو ہر جگہ ہوتے ہیں لیکن اس میں زیادہ دخل بزرگوں کی فراست  اورسمجھ بوجھ کا ہوتا تھا کہ وہ بچوں کے بہت سے تنازعوں کو بہ احس و خوبی سر انجام دیتے تھے۔وہ اپنے حلم اور بردباری سے اپنے تمام بچوں کو ایک چھت تلے یکجا اور متحد رکھتے تھے۔دلوں میں محبتیں بھی تھیں اور پیار بھی ۔اقدار کا پاس رکھا جاتا تھا .اسوقت لوگ بامروت تھے۔ایکدوسرے کا دل رکھنا جانتے تھے۔ان میں دوسروں کی بات کو تحمل سے سننے کا حوصلہ ہوتا تھا۔

#مشترکہ خاندانی نظام کے فوائد*

اس نظام کے بہت سے فوائد تھے۔ ایکدوسرے کے دکھ درد میں سب شریک ہوتے تھے۔مل بانٹ کر کھانے کی عادت ہوتی تھی۔سادہ زمانے تھے یہ نہیں کہ مقابلے کی دوڑ میں لگ جاتے بلکہ ایکدوسرے کو ساتھ لیکر چلتے تھے۔۔۔میں بہت پیچھے نہیں جاوُنگی بلکہ اگر اپنے بچپن کی بات کروں تو یہی کہوں گی کیا بھلا زمانہ تھا جب باورچی خانے میں ایک ہی چولہے کے گرد بیٹھ کر سب دادی جان کے مزیدار کھانوں سے لطف اندوز ہوتے تھے۔ہر کوئی بڑے صبر سے اپنی باری کا انتظار کرتا تھامجال ہے کوئی خلاف ورزی کرتا۔مشترکہ نظام نے نا صرف تحمل، بردباری ، مروت پیدا کی بلکہ ایثار و قربانی کا جذبہ بھی عطا کیا۔ سیلف ڈسپلن کا پابند کیا۔محدود وسائل ہوتے تھے اور افراد کی فراوانی لیکن کبھی ہلچل ، بے چینی، افراتفری کاماحول نہیں ہوتا تھا بلکہ سہولیات کے نہ ہونے کے باوجود گھر کی خواتین بہت ہی منظم طریقے سے تمام کام سر انجام دیتی تھیں۔۔آج کی طرح بھگڈر نہیں مچی ہوتی تھی۔ کسی کوکسی سے شکایت نہیں ہوتی تھی۔اگر والدہ فارغ نہ ہوتی تو چچی ، پھپھی ، خالہ، ممانی یا جو بھی دستیاب ہوتی وہ فوری طور پر آموجود ہوتی۔آج کی طرح نفسا نفسی کا دور نہیں تھا۔ایکدوسرے کی خوشی میں خوش اور دکھ میں لوگ دکھی ہوتے تھے۔ماں جی کا ایک واقعہ یاد آگیا کہ بھائی صاب امتحانات میں اول آئے اور چچا زاد بھائی فیل ہوگئے تو ماں جی نے رونا شروع کر دیا ۔یہ تھی محبت ، مروت، احساس جو آج بلکل مفقود ہوگیا ہے ۔۔گھر کے بڑےبزرگ اگرکسی بات پر بچوں کی گو شمالی کرتے تو والدین کی مجال نہیں ہوتی تھی انکے سامنے آواز اٹھانے کی۔بلکہ بچے کو ہی سمجھایا جاتا تھا ۔یہی تربیت کا انداز تھا۔ایک بچے کی تربیت میں پورے خاندان کا ہاتھ
ہوتا تھا۔ نتیجتاً بچے بھی مودب اور فرمانبردار  ہوتے تھے ۔*مشترکہ خاندانی نظام کی ناکامی کے اسباب

یہ نہیں کہ موجودہ نظام اب مکمل طور پہ ختم ہو گیا ہے ایسا نہیں۔بہت سے علاقوں میں، بہت سے گھروں میں یہ روایات ابھی بھی زندہ ہیں ۔ایکدوسرے کا احساس، خیال ابھی بھی رکھا جاتا ہے لیکن زیادہ تر دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ اب وہ پہلے جیسےحالات نہیں رہے۔۔اسکی سب سے بڑی وجہ ہے صبر، برداشت اور تحمل کی کمی۔اب لوگوں کے خون سفید ہوگئے ہیں۔ پہلے زمانے میں لوگ اتنے پڑھے لکھے نہیں ہوتے تھے لیکن باشعور اور بامروت ضرور ہوتے تھے۔اب جیسے جیسے تعلیم عام ہو رہی ہے ڈگریاں تو بڑھتی جا رہی ہیں لیکن شعور میں کمی آتی جا رہی ہے ۔احساس بے حسی میں تبدیل ہو رہا ہے ۔لالچ ، کینہ، بغض بڑھتا جا رہا ہے۔میں یہ نہیں کہونگی کہ یہ احساسات و جذبات پہلے نہیں تھے ایسا نہیں ہونگے لیکن اسوقت معاشرے میں مروت اتنی زیادہ تھی کہ لوگ کھلم کھلا لڑائی جھگڑے نہیں کرتے تھے۔لیکن افسوس کہ اب اچھے بھلے پڑھے لکھے خواتین و حضرات چھوٹی 
چھوٹی باتوں کا بتنگڑ بنا کر اس پہ لڑائی شروع کر دیتے ہیں۔بچوں کی معمولی لڑائیوں پہ باقاعدہ دنگل ہوتے ہیں۔بھائ بھائ کا دشمن ہوا جاتا ہے ، چچا بھتیجے کے خون کا پیاسا ہوا جاتا ہے۔پھپھیاں بھتیجیوں میں عیب ڈھونڈ رہی ہوتی ہیں۔دادی پوتے پوتیوں سے نالاں اور وہ دادی سے بیزار۔ساسیں ہر وقت بہوُں کے خلاف برسر پیکار اور بہویں ساسوں کے خلاف کمر بستہ۔دیورانی جیٹھانی ، نند بھاوج کی سازشیں اپنی جگہ۔ اس سب سے تو بہتر ہے کہ پھر چولہے الگ کر دیئے جائیں جہاں ایک روٹی زیادہ کھانے اور بوٹی چھپا کے رکھنے پر معرکے ہوتے ہوں ۔سب سے بھلا یہی کہ اگر خرچ برداشت کرنے کے متحمل ہوں تو چولہے نہیں تو گھر ہی علیحدہ کر دیں ۔

#مشترکہ خاندانی نظام کو ترک کرنے کے
نقصانات*:

دور حاضر میں بہت سے  لوگوں نے اس روایتی طریقے کو چھوڑا ۔اسکے اسباب اور وجوہات بیان کی جا چکی ہیں۔اسکے نقصانات کیا ہوئے انپر ایک طائرانہ نظر ڈالتے ہیں۔جدیدیت کے نام پر لوگ الگ تو ہو گے خاندانوں سے لیکن اب انکو پہلے سے بھی زیادہ مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔جیسے کہ پہلے مشترکہ نظام میں کوئی بھی بچے کا خیال رکھ سکتا تھا اسکی ضروریات پوری کر سکتا تھا جبکہ اب یہ نہیں رہا۔جو کچھ کرنا ہے ماں اور باپ نے ہی کرنا ہے۔بچوں کو  گھر میں اکیلا نہیں چھوڑا جا سکتا ۔انکی تربیت میں پہلے پورا خاندان شریک ہوتا تھا اب صرف یہ زمہ داری اماں ابا پر عائد ہوتی ہے۔گھر سے باہر جاتے ہوئے پہلے گھر کی یا اشیاء کی کوئی فکر نہیں ہوتی تھی۔اب اکیلے گھر سے نکلنا محال ہے ۔چوری کے خدشے کے باعث خالی گھر کو چھوڑا نہیں جا سکتا۔پہلے کام بانٹ کے کئے جاتے تھے اب تمام کام ایک ہی شخص کے سر پہ آ پڑے۔خاتون خانہ ہوں یا صاحب خانہ دونوں کی ذمہ داریاں بڑھ گئیں ۔چھوٹے نو مولود بچوں کو پہلے گھر کی بزرگ خواتین دیکھ لیتی تھیں ، انکا خیال رکھتیں انکی بیماریوں میں دیسی ٹوٹکوں سے علاج کرتی تھیں لیکن اب یہ سب اکیلے ایک ماں کی ذمہ داری ہو گئی ہے ۔اسی طرح پہلے بچت ہو جاتی تھی کیونکہ خرچ سب پہ تقسیم ہو جاتا تھا لیکن اب الگ گھر کے سو جھنجٹ سو خرچے ۔بلکہ بچت تو دور کی بات الٹا ادھار کی نوبت آ جاتی ہے۔ مشترکہ نظام میں دکھ بیماری کی صورت میں گھر والے ایکدوسرے کا خیال رکھتے تھے لیکن الگ سیٹ اپ میں یہ سب ممکن نہیں بلکہ ہر حال میں خود ہی کام کرنا پڑتا ہے۔
الغرض مشترکہ نظام کے اگر مسائل ہیں تو علیحدہ رہنے کے بھی بہت مسئلے ہیں۔ تحمل، برداشت، رواداری ،ایثار اور مروت جیسی خصوصیات کو اپنا کر  ہم مشترکہ خاندانی نظام کو فروغ دے سکتے ہیں ۔اگر ایک ساتھ ایک چولہے پہ رہنا ممکن نہ ہو تو کم از کم ایک ہی گھر کےمختلف پورشنز میں یا ایک ہی محلے میں قریب قریب رہائش لیکر، یا ایک ہی بلڈنگ میں الگ الگ اپارٹمنٹس لئے جا سکتے ہیں۔ اسطرح  دلوں میں دوریاں بھی نہیں رہیں گی اور بزرگوں کو تنہائی کا احساس بھی نہیں ہو گا ۔

آمنہ سردار


گفتگو ایک فن

گفتگو ایک فن ہے۔۔۔۔
انسان حیوان ناطق ہے۔۔۔۔جوبولتا تو ہے  لیکن کس وقت کیا بولنا ہے، کیسے بولنا ہے اور کس انداز میں بولنا ہے ۔۔۔۔یہ بہت کم لوگ جانتے ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔بدقسمتی سے ہمارے ہاں تمام لوگوں کو بیک وقت بولنے کا شوق ہوتا ہے جو پھر گفتگو کم اور مباحثہ زیادہ لگ رہا ہوتا ہے۔۔۔۔

*بے محل ہے گفتگو ہیں بے اثر اشعار ابھی
زندگی بے لطف ہے نا پختہ ہیں افکار ابھی*

 گفتگو ہر وقت اور ہر موضوع پردو یا دو  سے زائدفریقوں کے مابین ہو ہی رہی ہوتی ہے ۔۔۔۔جسمیں باہمی دلچسپی کے امور، سیاست،حالات حاضرہ،  موسم، ذاتی زندگی سے متعلق باتیں ہوتی ہیں۔۔۔ اصل بات یہ ہے کہ جو گفتگوکی جا رہی ہے اس کو مفید اور پر اثر کیسے بنایا جائے۔۔۔۔  گفتگو کےکچھ آداب ہوتے ہیں۔جنپر عمل کرنے سے ہم اپنی عام سی بات چیت کو بھی پر اثر بنا سکتے ہیں

سب سے پہلا اصول یہ ہے کہ جب ہم گفتگو کر رہے ہوں تو دوسرے فریق کی بات دھیان اور توجہ  سے سنیں اور اسکے مطابق جواب دیں۔۔۔اپنی گفتگو میں بر محل  تشبیہات ، استعارات اور ضرب الامثال کا استعمال کرنے سے ہم اسے مذید خوبصورت بنا سکتے ہیں۔۔۔۔ گفتگو کے دوران دوسرے کی بات کاٹ کر اپنی شروع کر دینا انتہائی ناپسندیدہ امر ہے۔۔۔۔۔ہمارے ہاں ایک اور چلن بہت عام ہو گیا ہے کہ دوران گفتگو ہم منفی پہلو تلاش کرکے اسپر بات کرنے لگتے ہیں جس سے تلخیاں جنم لیتی ہیں۔۔۔۔۔ ایک قول ہے کہ " انسان کا اخلاق اسکی زبان کی نوک پر ہے  پر ہے۔۔۔لہذا گفتگو جتنی شائستہ اور مہذب ہو گی اتنا ہی دوسرے شخص پر آپکے اخلاق کا اثر بھی گہرا ہوگا۔۔۔۔۔
بعض اوقات ہمارا لہجہ پوری گفتگو کا مزاج ہی بدل دیتا ہے۔۔۔۔بات اگر کسی عام سے موضوع پر بھی ہو رہی ہو تو سخت یا تلخ لہجہ گفتگو کا مفہوم ہی بدل ڈالتا ہے ۔اسی لئے تو ہمارے بزرگ کہتے ہیں

*اب اپنے تکلم کا سلیقہ ہی بدل لے
الفاظ پرانے ہیں تو لہجہ ہی بدل لے*

اسی طرح عام فہم گفتگو میں انداز بیاں سادہ اور سلیس ہونا چاہئیے تاکہ دوسرے شخص کو بات سمجھنے میں دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔بعض اوقات لوگ بہت مشکل اور پرتکلف جملے بولتے ہیں جس سے سننے والا کوفت کا شکار ہوتا ہے۔۔۔۔بےجا محاورے اور تشبیہات بھی گفتگو کیا بلکہ شخصیت کا ہی اثر زائل کر دیتے ہیں۔گفتگوپر دلیل ہو تو پر اثر بھی ہوتی ہےاپنی بات میں وزن پیدا کرنے کے لئے حقائق پر مبنی دلائل کا سہارا لیا جانا چاہئیے تاکہ سامع یہ کہنے پر مجبور ہو جائے کہ

*گفتگو اچھی لگی ذوق نظر اچھا لگا*

گفتگو کرتے ہوئے اگر اختلافی نظریات آجائیں تو بجائے اسکے کہ بلند آواز سے اپنےآپ  کو صحیح ثابت کرنے کی کوشش کی جائے ۔شاستگی سے معذرت کر کے بھی گفتگو سے کنارا کیا جا سکتا ہے۔۔۔۔ یہ ضروری نہیں کہ اپنے نظریات دوسرے پر ٹھونسے جائیں۔۔۔۔مسلط کئے جائیں۔
گفتگو کرتے ہوئے الفاظ کے علاوہ کچھ اور چیزوں کا بھی خیال رکھنا چاہئیے جیسے کہ
آواز کی پچ اورٹون .... آواز کو غیر ضروری طور پر بلند کرنے سے سامع پر بہت برا تاثر پڑتا ہے۔۔۔۔کچھ لوگوں کی آواز کی پچ قدرتی طور پر اونچی ہوتی ہے۔۔۔انہیں اس بات کا خیال رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے کہ انکی بلند  آواز سے گفتگو پر اثر نہ پڑے۔سامع کو اونچی آواز ناگوار گزر سکتی ہے۔۔۔گو کہ ناطق جان بوجھ کر ایسا نہیں کرتابلکہ قدرتی طور پر آواز کی پچ بلند ہونے سے اسکی گفتگو پر خاطر خوا اثر پڑ سکتا ہے۔
اسی طرح ٹون کا بھی خیال رکھنا چاہئیے ۔ہمارے ہاں اکثر لوگ اس بات کا دھیان نہیں رکھتے۔۔۔دوران گفتگو وہ طنزیہ یا تمسخرانہ اندازمیں بات کرتے ہیں جو کہ بہت معیوب لگتا ہے۔اس سے  شخصیت کا مثبت اثر زائل ہو جاتا ہے۔۔۔۔
گفتگو کے دوران ہاتھوں کی ضرورت سے زیادہ  حرکت بھی پسندیدہ نہیں۔۔۔۔جہاں ہاتھ کے اشارے سے بات سمجھانی ہو وہ تو ٹھیک ہے لیکن غیر ضروری حرکات مناسب نہیں۔۔۔
 چہرے کے تاثرات یا فیشیل ایکسپریشنز  کا بھی ہماری گفتگو میں بہت اہم کردار ہے۔۔۔۔گفتگو کے مطابق تو انکا استعمال درست ہے لیکن بے جا استعمال نہیں۔آنکھوں ، بھنووں کا استعمال، ناک چڑھانا، ماتھے پہ تیوری ڈالنا، آنکھ دبا کے بات کرنا یہ سب فیشیل ایکسپریشن کا حصہ ہیں۔۔۔۔  کچھ لوگوں کو بات کرتے ہوئے بہت زیادہ آنکھوں یا بھنووں کا استعمال کرنے کی عادت ہوتی ہے۔۔۔۔ اس سے گفتگو پہ منفی اثر پڑتا ہے۔۔

*مقصد ہے ناز و غمزہ و لے گفتگو میں کام
چلتا نہیں ہے دُشنہ و خنجر کہے بغیر*

دوران گفتگو ایک اور اہم چیز کا خیال رکھنے کی ضرورت ہے وہ ہے انداز نشست ۔۔۔۔ کیسے بیٹھے ہیں یا کھڑے ہیں۔۔۔۔انداز ایسا نہ ہو جس میں عدم دلچسپی جھلک رہی ہو۔۔۔۔ بلکہ ایسا ہو جو سامع کو بھی پرسکون رکھے ۔۔۔۔ ہاتھوں پیروں کو خوامخوا ہلانا، سر کھجانا، بار بار گھڑی دیکھنا،موبائل کیطرف متوجہ ہونا، بات کرتے ہوئے اردگرد دیکھتے رہنا، یہ گفتگو میں عدم دلچسپی ظاہر کرتا ہے جو کہ سامع کو  ناگوار گزر سکتا ہے لہذا توجہ سے دوسرے کی بات سننا اور اسکے مطابق چہرے کے تاثرات سے ردعمل دینا کامیاب گفتگو کا ایک بہت ہی کارگر طریقہ ہے۔
گفتگو انسان کی پوری شخصیت کی آئینہ دار ہے۔۔۔ آپ تھوڑی دیر کسی سے بات کرتے ہیں لیکن اچھی گفتگو کا تاثر تا دیر لوگوں کے ذہنوں پر رہتا ہے۔۔۔۔۔ شائستہ ، مہذب ، شستہ  اور رواں گفتگو ہی انسان کی پوری شخصیت کی عکاسی کرتی ہے۔