گھر کے اندرفضائی آلودگی سےبچاوُ کے طریقے:
آجکل ہر دوسرے بندے کو الرجی، نزلہ ، زکام اور سانس کی مختلف بیماریاں لاحق ہیں۔موسم بھی اس قسم کا ہے کہ کبھی شدید گرمی اور کبھی شدید سردی۔ موسم کے اس تغیر وتبدل سے بھی کافی مسائل کا سامنا ہے۔ اس میں زیادہ ہاتھ ماحولیاتی، فضائی آلودگی کا بھی ہے۔
دنیا میں آلودہ ہوا کے نتیجے میں ہر برس 70 لاکھ اموات ہوتی ہیں اور اس صورتحال سے چھٹکارا حاصل کرنا ممکن دکھائی نہیں دیتا۔
صحت مند فضا میں سانس لینے کے آسان طریقوں کی مدد سے دس میں سے نو افراد مختلف بیماریوں سے بچ سکتے ہیں جن میں فالج،پھیپھڑوں کا کینسر اور سانس کی بیماریاں شامل ہیں۔
آلودگی کے خورد بینی ذرّات ہمارے اطراف ہمیشہ رہتے ہیں اور ہمیں نقصان پہنچاتے رہتے ہیں خاص کر اگر آپ گھر کے اندر ہوں۔
ماحولیات کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی امریکی ایجنسی کی ایک تحقیق کے مطابق اکثر اوقات گھروں کے اندر آلودگی باہر کے برعکس دو سے پانچ گنا زیادہ ہوتی ہے۔
ایئر لیبز میں چیف سائنس آفیسر میتھیو ایس جونسن کے مطابق گھر کے اندر فضا میں اتنی کی آلودگی ہوتی ہے جتنی کے باہر لیکن اس کے ساتھ گھر کے اندر دیگر آلودہ عناصر بھی شامل ہو جاتے ہیں جس میں مکان کی تعمیر میں استعمال ہونے والا مواد، کھانا پکانا اور صفائی کے لیے استمعال ہونے والی اشیا شامل ہیں۔
خوش قسمتی سے چند ایسی چیزیں ہیں جن کی مدد سے آپ گھر کے اندر کی فضا کو صحت مند بنا سکتے ہیں۔۔
گھروں میں ہوا کی نکاسی کا موثر انتظام کیا جانا چاہیے
ہوا کی کی نکاسی کے راستے
گھر میں تازہ ہوا کے داخلے کے لیے نامناسب راستوں کے نتیجے میں آلودہ ہوا گھر کے اندر ہی ٹک جاتی ہے۔
انڈیا کے انرجی اینڈ ریسورسز انسٹی ٹیوٹ سے منسلک آر سوریش کا کہنا ہے کہ گھر میں تازہ ہوا کے لیے دن میں ایک بار تقریباً کھڑکیوں اور دروازوں کو دو سے تین بار کھولیں۔اوراگر ایسا ممکن نہ ہو تو کم از کم ایک مرتبہ تو ضرور کھولیں دن میں۔
اگر آپ کو کسی قسم کی الرجی نہیں اور باہر موسم زیادہ شدید نہیں ہے تو اس صورتحال میں گھر کے اندر ہوا کی نکاسی کے نظام کو استعمال کر سکتے ہیں جس میں فلٹر لگے ایئر کنڈیشنگ سسٹم شامل ہیں۔
اس کے علاوہ اگر آپ کھانا پکا رہے ہیں یا نہا رہے ہیں تو اس صورت میں ہوا باہر نکالنے والے فین کا استعمال کریں تاکہ مضر صحت ذرّات اور ضرورت سے زیادہ نم ہوا کو باہر نکلا جا سکے۔
گھر کے اندر پودے رکھیں
اگر آپ ہوا صاف کرنے والے مہنگے فلٹرز کا خرچہ برداشت نہیں کر سکتے تو اس صورت میں آپ گھر کے اندر پودوں کو رکھ سکتے ہیں۔
آر سریش کے مطابق بعض پودے ہوا کے مضرصحت اجزا کو صاف کر سکتے ہیں اور یہ گھر کے اندر کی فضا میں آلودگی کے لیے ایک موثر ذریعہ ثابت ہوتے ہیں۔
اگرچہ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نظریے کے کوئی تحقیقاتی شواہد نہیں ہیں تو چلیں کم از کم یہ آپ کے لیے خوشگوار احساس کا باعث تو بنتے ہیں۔
گھر میں پودے رکھنے سے گھر کے اندر کی ہوا کو صحت مند بنایا جا سکتا ہے
تو اگر آپ گھر کے اندر پودے رکھنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں تو درج ذیل میں دیے گئے چند پودوں سے آپ یہ شروع کر سکتے ہیں۔
منی پلانٹ: اس پودے کو اگانا اور دیکھ بھال کرنا آسان ہوتا ہے اور یہ قالین اور روغن سے نکلنے والے مضرِ صحت کیمیکلز کو فضا سے ختم کرنے میں مدد دیتا ہے۔
ڈریگن ٹری: یہ درخت مشرقی افریقہ میں پایا جاتا ہے اور اسے گھروں اور دفاتر میں آرائش کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
یہ درخت بھی مضرِ صحت کیمیکلز کو فضا سے ختم کرنے میں مدد دیتا ہے۔
سنیک پلانٹ: اس پودے کو زیادہ پانی دینے کی ضرورت خاص کر سردیوں کے موسم میں۔ یہ پودہ رات کے وقت کاربن ڈائی آکسائڈ جذب کرتا ہے۔
آر سریش کے مطابق آپ جو کوئی بھی پودا گھر میں رکھیں اس میں سب اہم بات ذہن میں رکھنے والی یہ ہے کہ یہ پودے قدرتی طور پر فضا کو صاف کرتے ہیں اور اس کے لیے ضروری ہے کہ انہیں صحت مند رکھا جائے کیونکہ دوسری صورت میں ہوا میں بائیولوجیکل آلودگی پھیلانا شروع کر دیں گے۔
صفائی ستھرائی کے لیے استعمال ہونے والے کیمیکل فضا کو آلودہ کرتے ہیں
ماحول دوست طریقے سے بو کا خاتمہ
تعمیراتی سامان میں استعمال ہونے والے مواد کے بارے میں جاتنے ہیں اور مصنوعی خوشبو air freshener سے جب بھی اس کو ختم کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو اس کے نتیجے میں مزید کیمیلز کا اخراج ہوتا ہے۔
یعنی کے ہوا کے حساب سے اپنا ردعمل دیتے ہیں اور ممکنہ طور پر خطرناک کاٹ ٹیل بناتے ہیں۔
مثال کے طور پر گھروں میں صفائی کے لیے استعمال ہونے والا ایسا سامان یا آلات جو ماحول دوست نہیں ہوتے اور ان کے استعمال سے فارمل ڈی ہائیڈ کیمیکل کا اخراج کر سکتے ہیں جس کا تعلق کینسر جیسے مرض سے ہوتا ہے۔
آپ کیا کر سکتے ہیں؟
تو آپ کو کرنا یہ ہے کہ کپڑوں کی دھلائی کے لیے ایسی مصنوعات کا استعمال کریں جن میں خوشبو نہیں ہوتی ہے اور اس کے ساتھ پریشر سے نکلنے والے سپرے کا استعمال ترک کر دیں جس میں قالین کو صاف کرنے اور ہوا سے بو ختم کرنے کے قالین کو بھی جھاڑنا چاہئیے تاکہ اسکے اندر چھپے ہوئے جراثیم ختم ہوں۔ دھوپ لگوانی بھی بہت ضروری ہے۔ لیے استعمال ہونے والے سپرے بھی شامل ہیں۔
اگر بات کچن کی جائے تو آر سریش کے خیال میں باس کو ختم کرنے کے لیے لیموں کے ٹکڑے اور بیکنگ سوڈے کا استعمال کیا جائے۔
صفائی کا خاص اہتمام کیا جائے ۔ صفائی والے کپڑے کی روزانہ دھلائی اور چند دن بعد تبدیلی ازحد ضروری ہے۔
گھروں کے اندر سگریٹ نوشی سے اجتناب کی کوشش کرنی چاہیے
گھر کے اندر سگریٹ نوشی سے اجتناب
سگریٹ نوشی بذاتِ خود نقصان دہ ہے اور گھر میں کی جائے تو بے حد نقصان ہوتی ہے۔
گھر میں اجتماعی سگریٹ نوشی کا اندر کی فضا پر سنگین اثرات مرتب ہوتے ہیں اور خاص کر اگر ہوا کی نکاسی کا انتظام غیر مناسب ہو۔
سگریٹ کا دھواں قریب میں دوسروں کے لیے بے حد نقصان دے ہو ہوتا ہے اور یہ انھیں خطرناک بیماریوں سے دوچار کر سکتا ہے۔
اگر گھر میں نوازئیدہ بچے ہوں تو سگریٹ نوشی کے نتیجے میں ان کی اچانک موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔
گھروں کی کھڑکیوں میں گیلے کپڑے خشک کرنے سے آلودگی کے کافی مسائل حل ہو سکتے ہیں
الرجی سے نجات حاصل کریں
پولن اور مٹی کے ذرّے کے نتیجے میں بیمار ہونے کا خدشہ ہوتا ہے اور خاص کر اگر آپ کو سانس کی بیماری، پولن الرجی اور دیگر اقسام کی الرجی ہیں۔
ہوا میں نمی کے تناسب سے یہ ہوا میں یہ تیزی سے پھیلتی ہیں اور ان لوگوں کو متاثر کر سکتی ہیں جن کو پیپھڑوں کی بیماری لاحق ہو سکتی ہے۔
تو اس صوتحال میں آپ کر سکتے ہیں؟ ماہرین کے مطابق آسان طریقوں سے اس مسئلے کو حل کر سکتے ہیں جن میں اپنے بستر کو باقاعدگی سے صاف کریں۔تکیے اور لحاف quilt یا کمبل کو باقاعدگی سے دھوپ لگوائیں ۔ ممکن ہو تو ہفتے میں دو مرتبہ ایسا ضرور کریں۔ کوشش کریں تکیہ ہر چھ مہینے بعد تبدیل کریں۔ اور اگر
washable
ہے تو اسکو ضرور ہر تھوڑے عرصے بھد دھولیا کریں۔
اپنے قالین کو صاف کریں اور اس میں کوشش کریں کہ ماحول دوست ویکیوم کا استعمال کریں۔اگر چھوٹا پیس ہو کارپٹ کا تو اسے ضرور جھاڑ لینا چاہئیے۔
اپنے کپڑوں کو کھڑکی کے قریب خشک کریں۔
داخلی دروازے پر میٹ ڈالیں تاکہ باہر سے آلودگی اندر نہ آئے اور ہوا سے اضافی نمی صاف کرنے والے آلے کا استعمال کریں۔میٹ کو باقاعدگی سے صاف کریں تاکہ اسکے ساتھ ناقص ذرات آپکے جوتوں کے ساتھ گھر کے اندر داخل نہ ہوں۔
یہ بھی کوشش کرنی چاہئیے کہ باہر پہننے والے جوتے گھر کے برآمدے یا lobby میں ہی اتار دیئے جائیں تاکہ انکے ساتھ مضر ذرات یا جراثیم گھر کے اندرونی حصوں میں نہ جائیں۔
ان تمام حفاظتی تدابیرپر عمل کرنے سے ہم بہت سی سانس کی بیماریوں اور الرجیزallergies سے نجات حاصل کر سکتے ہیں .
Monday, November 26, 2018
Saturday, October 27, 2018
#واک_کی_واک_اورشہرکےمسائل_سےآگاہی During Walk noted the issues of city
آجکل شہر کے مختلف حصوں کی واک کرنے کا اتفاق ہوا۔ واک کے لئے میں کچھ مخصوص جگہوں پر جاتی تھی۔لیکن شہر کے حالات سےبہتر طور پر واقفیت حاصل کرنے کے لئے میں نے سوچا کہ مجھے شہر کے مختلف حصوں میں جانا چاہئیے تاکہ وہاں کے مسائل و ایشوز سے بخوبی آگاہ رہوں۔ اس مقصد کے لئیے لنک روڈ، کالج روڈ، آرام باغ، چنار روڈ ،مری روڈ، جھانیاں روڈ(نواں شہر) پی ایم اے۔کاکول روڈ ، بائی پاس اور کامرس کالج روڈ پر واک کی۔اور ان تمام جگہوں کے مسائل سے آگاہی ہوئی ۔
لنک روڈ سے بات شروع کرونگی لنک روڈ بہت زیادہ رش والی سڑک بن گئی ہے۔ پبلک ٹرانسپورٹ سوزوکیاں اور ڈبے تو بہت زیادہ ہیں پرائیویٹ گاڑیاں بھی بے تحاشہ نظر آتی ہیں ۔ اس روڈ کا سب سے بڑا مسئلہ ریڑھیاں ہیں۔ دسیوں بار آپریشن ہوئے ، کئی باران ریڑھیوں کو یہاں سے ہٹا کر دیگر مختص مقامات پر منتقل کیا گیا لیکن پھر وہی ڈھاک کے تین پات۔۔ دوبارہ اس پہ ریڑھیاں براجمان نظر آتی ہیں۔ میں مانتی ہوں کہ یہ غریب لوگ ہیں انکی روزی پہ بھی لات نہیں مارنی چاہئیے لیکن یہ بھی تو تھوڑا تعاون کریں۔ نالوں پہ قبضہ کر کے انہوں نے اپنی دکانیں سجالی ہیں۔ اور جب بارش ہوتی ہے تو نالوں کے بند ہونے کی وجہ سے سارا گندا پانی لنک روڈ کی دکانوں اور مکانوں میں چلا جاتا ہے۔اور لوگوں کو بہت نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انتظامیہ کو بھی چاہئیے کہ ان ریڑھی بانوں کو ایسی جگہ الاٹ کی جائے جہاں پر انکو بھی روزگار کے بھر پور مواقع ملیں اور عوام الناس کو بھی تکلیف نہ ہو۔ ایک اور مسئلہ اس روڈ پر پارکنگ کا ہے۔ لوگ روڈ پر گاڑی پارک کر دیتے ہیں جسکی وجہ سے ٹریفک میں بہت زیادہ تعطل پیدا ہوتا ہے۔ اسوقت یہ شہر کی مصروف ترین سڑک ہے لہذا میری تجویز ہے کہ اسکے دونوں چوکوں ( سربن چوک، توت والا چوک)میں ٹریفک پولیس والے تعینات ہونے چاہئیں۔تاکہ ٹریفک کا نظام درست طریقےسے چلتا رہے۔ ایک اور مسئلہ ہے یہاں پر دوکانوں کے آگے تک لوگوں نے بورڈ اور چیزیں رکھی ہوتی ہیں۔ یعنی چھوٹی چھوٹی تجاوزات کی ہوئی ہیں جس سےراہگیروں کو چلن میں بڑی پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
کالج روڈ کیطرف آئیں تو یہاں بہتری کی گنجائش نظر آتی ہے۔ کینٹ بورڈ نے سڑک بھی بنائی اور فٹ پاتھس بھی نئے بنے۔اسمیں ایک تکلیف دہ بات یہ ہے کہ موٹر سائیکلوں اور سائیکلوں والے بچے یہاں اکثر ون ویلنگ کرتے نظر آتے ہیں۔ ایک اور مسئلہ اس روڈ کے شروع میں بننے والے ورکشاپس اور روڈ کے اوپربنے سروس سٹیشنز موجود ہیں۔جسکی وجہ سے انتہائی گند بنا ہوتا ہے کیچڑ والا۔ اس روڈ پر گاڑیوں کو سڑک کے کنارے کھولا ہوا ہوتا ہے جو کہ ٹریفک میں تعطل کاباعث بنتا ہے۔ یہاں موجودنالے کو کور کر کے سڑک کو وسعت دی گئی ہے لیکن افسوس ہماری جاہلیت پر کہ اسکو پارکنگ بنا دیا جاتا ہے۔ ایک اور وجہ یہاں پر پھلوں کی ایک شاپ ہے جس سے زیادہ تر امیر لوگ گاڑی میں بیٹھے بیٹھے چیزیں آرڈر کرتے ہیں اور اتنی دیر تک روڈ بلاک رہتا ہے۔ ایک اور مسئلہ کہ یہاں پوسٹ گریجویٹ کالج کے باہر جگہ پر اکثر یاتو پارکنگ کی گئی ہوتی ہے یا ریت ، بجری ، اینٹیں پھینکیں گئی ہوتی ہیں ۔ایک اور مسئلہ کہ یہاں پر بھی رہاشی کوڑا کوڑے دان میں نہیں پھینکتے بلکہ اردگرد بکھیر دیتے ہیں۔
آرام باغ کی طرف رُخ کیجئے توایکدم تنگ سڑک شروع ہو جاتی ہے۔ پرانے بورڈ آفس اور اسکی جگہ بننے والے نئے وکیشنل سنٹر کی نئی دیوار تیار ہو بھی گئی ہے لیکن پچھلی یعنی پرانی دیوار ابھی تک نہیں توڑی گئی جو کہ راستے کی تنگی میں مزید اضافہ کر رہی ہے متعلقہ اداروں کو فواری طور پر پرانی دیوار کو ہٹانا چاہئیے تاکہ چار سے پانچ فٹ جگہ سڑک کو مذید مل جائے ۔ اور یہ واحد سڑک ہے شہر کی جسپرتانگے چلتے نظر آتے ہیں۔ جو ٹریفک کے تعطل کاباعث بنتے ہیں کیونکہ اس روڈ پر اوور ٹیکنگ کی بلکل گنجائش نہیں ہوتی۔تو ٹریفک بلکل سست چلتی ہے۔ مجھے تانگے سے کوئی مسئلہ نہیں لیکن اس روڈ پر تانگے سے کافی مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ اسکے علاوہ اس علاقے کے فٹ پاتھ پر لوگ ٹولیاں بنا کر کھڑے ہو جاتے ہیں جس سے پیدل چلنے والےراہگیروں کو انتہائی دشواری کا سامنا ہوتا ہے۔ تیسری بات یہ کہ یہاں روڈ پر اینٹیں اور بجری، ریت پھینکی جاتی ہے جو ٹریفک کے تعطل کی ایک اور اہم وجہ ہے۔ جبکہ دفعہ 144 نافذ ہے تو اس پر ضرور ایکشن ہونا چاہئیے۔ایک اور بات کہ فٹ پاتھ پر داہنے ہاتھ پر ایک گہرا نالہ ہے اسکے آگے کوئی رکاوٹ نہیں خدانخواستہ کسی کے اس نالے میں گرنے سے نقصان ہو سکتا ہے۔ لہذا اسکے آگے fence یعنی جنگلہ ہونا چاہئیے۔ یہ کافی رش والا علاقہ ہے اور بہت بچے یہاں چلتے پھرتے نظر آتے ہیں۔انکی حفاظت ضروری ہے۔
چنار روڈ کی بات اگر کروں تو اس پر فٹ پاتھ بننے سے بہت فرق پڑا ہے ۔ کم ازکم اس خوبصورت روڈ پر چلنے کے لئے ایک باقاعدہ ٹریک تو بن گیا ہے لیکن افسوس لوگ پھر بھی فٹ پاتھ پر چلنےکی بجائے سڑک پر چل رہے ہوتے ہیں جو کہ بہت ہی خطرناک ہے کیونکہ اس روڈ پر ٹریفک بہت تیز چلتی ہے اور حادثات کے خدشات بڑھ جاتے ہیں ۔
نڑیاں روڈ کو وسعت کی ضرورت ہے اور ساتھ ہی فٹ پاتھ کی کیونکہ اس روڈ پر آپکو بہت زیادہ لوگ چلتے ہوئے نظر آئینگے۔ اور یہ بہت ہی گنجان آباد علاقہ بن گیا ہے۔
مری روڈ کا اول حصہ چونکہ آرمی کے تسلط میں ہے لہذا راوی وہاں چین ہی چین لکھتا ہے۔ لیکن اسکے مین روڈ کے چوک میں خوفناک رش ہوتا ہے ۔ میری تجویز کے مطابق وہاں ٹریفک وارڈن کے ساتھ ملٹری پولیس کا سپاہی بھی کھڑا ہو تو خاطر خوا فرق پڑسکتا ہے۔مری روڈ کو اگر جھگیاں والے علاقے سےآخر تک دیکھیں تو کافی رش نظر آتا ہے لیکن U ٹرنزمیں زیادہ فاصلہ کرنے کی وجہ سے خاطر خوافرق پڑا ہے ۔ یہاں ایک بات جو تکلیف دہ نظر آئی وہ یہ تھی کہ نہ تو لوگ فٹ پاتھ پہ راستہ دیتے ہیں اور نہ یہاں کے فٹ پاتھ زیادہ صاف ہیں۔ ایک اور hurdle بورڈز ہیں جو لوگوں نے دوکانوں سے باہر کرکے رکھے ہوتے ہیں۔ یا لوگ ان روڈز پر کرسیاں رکھکر بیٹھ جاتے ہیں جو پیدل چلنے والوں کے لئے کافی تکلیف دہ ہے۔اسی طرح اس روڈ پر کوڑا کرکٹ بھی نسبتاً زیادہ نظر آیا۔ اسکے لئے الزام میں محکموں کو نہیں بلکہ عوام الناس کو دونگی کہ انہیں خود یہ احساس ہونا چاہئیے کہ کوڑے کو کوڑا دان کے اندر پھینکا جائے نہ کہ باہر پھیلا دیا جائے۔
جھانیاں روڈ نواں شہر کی بات کروں تو اول تو یہ کہ وہاں فٹ پاتھس نہیں ہیں جو کہ ہونے چاہئیں کیونکہ زیادہ تر لوگ اس سڑک پر چلتے نظر آتے ہیں۔ دوسرا ٹریفک وہاں بہت تیزی سے گزرتی ہے ۔ ڈرائیونگ میں احتیاط کرنی چاہئیے جبکہ یہ کافی گنجان آباد علاقہ بن گیا ہے۔ اس روڈ پر ایک اور تکلیف دہ چیز ہے ٹیوب ویلز سے فاضل پانی کا اخراج ہے جو کہ خومخواہ ضائع ہوتا ہے۔ اسکا کوئی سد باب ہونا چاہئیے ۔ واسا کے چیف ایگزیکٹو سے بھی اس سلسلے میں بات ہوئی تھی لیکن تاحال کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ اور کچھ نہیں تو وہاں واٹر ٹینکس ہی رکھ دیئے جائیں تاکہ پانی بے جا ضائع ہونے سے بچ جائے۔
پی ایم اے کاکول روڈ کی طرف بڑھتے ہیں ۔ یہ نسبتاً مذکورہ تمام علاقوں سے صاف ہے۔ لیکن یہاں پانی کا مسئلہ بہت زیادہ ہو جاتا ہے برسات کے موسم میں۔ خاص طور پر بلال ٹاوُن بہت متاثر ہوتا ہے بارش میں۔ بہتر سیوریج سسٹم نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کے گھروں میں پانی داخل ہو جاتا ہے جس سے بہت نقصان ہوتاہے۔ اس روڈ پر باوجود رہائشی علاقہ ہونے کے گاڑیاں بہت تیز رفتاری سے گزرتی ہیں۔ جو کہ کئی بار حادثات کا باعث بنیں۔
بائی پاس ایک اچھی اور روشن بل کھاتی سڑک ہے لیکن وہاں فٹ پاتھ کا ہونا بہت ضروری ہے کیونکہ وہ واک اور جاگنگ کے لئے اچھا ٹریک ثابت ہو سکتا ہے۔اسکو اگر مذید کشادہ کیا جاسکتاہو تو بہتر ہے۔ جگہ تو آرمی کے پاس ہے اگر وہ تھوڑی سی مہربانی کر کے اسکو کشادہ کر دیں تو انکو کوئی فرق نہیں پڑے گا لیکن عوام الناس کا فائدہ ہو جائیگا۔
کامرس کالج روڈ اور جناح آباد اور حبیب اللہ کالونی کے اندرونی روڈز انتہائی تنگ ہیں۔ اور اکثر جگہوں پر تو پانی کی وجہ سے کیچڑ کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ یہ وہ علاقے ہیں جہاں شہر کی کریم رہتی ہے۔ بڑی بڑی گاڑیوں والےاصحاب جنکا تعلق زیادہ تر سرکاری نوکریوں سے ہے وہاں سے دن میں کئی بار گزرتے ہیں لیکن انکو کھڈوں والی سڑکیں اور کوڑا کرکٹ کا ڈھیر نظر نہیں آتا۔ یہ نسبتاً پڑھے لکھے لوگوں کا پوش علاقہ تصور کیا جاتا ہے لیکن عملی طور پر ایسا محسوس نہیں ہوتا۔
یہ تو تھا میری واک کے نتیجے میں نظر آنیوالے مسائل کامشاہداتی جائزہ۔ اگر میں ایک یا دو دنوں میں یہ سب observe کر سکتی ہوں تو وہاں پر رہنے والے اصحاب کو کن دشواریوں کا سامناہو گا ؟ یہ لمحہُ فکریہ ہے ہم سب کے لئیے ۔ ہمیں اپنے اپنے علاقوں اور انکے مسائل کے سدباب ک لئے گاہے گاہے اداروں کو اپنی متحدہ آواز سے جگانے کی ضرورت ہے۔ہمیں اپنا حق آگے بڑھ کر خود لینا ہو گا اور نہیں تو کم از کم اپنے مسائل کے حل کے لئے آواز تو اٹھانا ہوگی۔
مزید یہ سلسلہ جاری رہیگا ۔ اور جن علاقوں میں واک کے لئے گئی تو ضرور شئیر کرونگی۔ اور آپ سب سے بھی التماس ہے کہ آج جن علاقوں کا ذکر ہوا ان میں موجود دیگر مسائل بھی آپ کمنٹس میں share کریں تاکہ ان سب مسائل کے سد باب کے لئے کوئی مناسب لائحہ عمل ترتیب دیا جا سکے۔
Tuesday, October 23, 2018
چند اشعار
خیر مانگی تھی تجھ سے
تو نے شر سے بچا لیا مجھکو
_________________________
تم بن مانگے رہے کسی کی دعاوُں میں
ہم چاہ کر بھی کسی کی دعا نہ بن سکے
_____________________________
دردکاغذ پہ بکھرا ہے
درد کا عنوان ہو تم
تو نے شر سے بچا لیا مجھکو
_________________________
تم بن مانگے رہے کسی کی دعاوُں میں
ہم چاہ کر بھی کسی کی دعا نہ بن سکے
_____________________________
دردکاغذ پہ بکھرا ہے
درد کا عنوان ہو تم
موت کا کھیل اور ہمارے بچے Game of death n our children
آجکل یہ موت کا کھیل بہت عام ہو گیا ہے۔ آپ حیران ہونگے کہ میرا اشارہ کسطرف ہے۔ تو چلئے بتائے دیتی ہوں کہ میں موٹر سائیکل عرف عام موٹر بائیک کی بات کر رہی ہوں۔ گو کہ یہ ایک سواری ہے لیکن خطرناک ترین۔ اور جب سے موٹر سائیکلز سستی ہوئی ہیں یا قسطوں میں ملنے لگی ہیں تو اسکے بعد تو سڑکوں پر انکا اژدھام نظر آتا ہے۔ اس سے انکار ممکن نہیں کہ متوسط طبقے کے لوگوں کے لئے یہ ایک باکفایت سواری ہے۔ اسپر ہمارے ہاں دو سے پانچ تک لوگ بآسانی بیٹھے نظر آ رہے ہوتے ہیں۔یہ صرف پاکستان میں یا تیسری دنیا کے ممالک میں ہی ممکن ہے ورنہ مہذب دنیا میں اسپر صرف دو ہی لوگ سوار ہو سکتے ہیں۔اس سواری نے جہاں لوگوں کو آمدورفت میں آسانی اور سہولت دی ہے وہیں ٹریفک میں بہت مشکلات پیدا کر دہی ہیں۔آئے دن موٹر سائیکل سوار مختلف حادثوں کا شکار ہوتے دکھائی دیتے ہیں ۔ کبھی تیز رفتاری کے باعث ، کبھی غلط اوور ٹیکنگ کے باعث ، کبھی ہیلمٹ نہ پہننے کی وجہ سے ، کبھی دوسرے موٹر سائیکل سواروں کے ساتھ ریس لگانے کی وجہ سے ، اوور لوڈنگ کی وجہ سے اور اکثر و بیشتر ٹریفک کے قوانین توڑنے کی وجہ سے۔بہر حال چند سالوں میں سب سے زیادہ حوادث کا شکار یہ موٹر سائیکل سوار ہی ہوتے ہیں۔اور ان میں بھی زیادہ تر نوجوان لڑکے ہوتے ہیں۔ موٹر سائیکلوں کے حادثات گاڑیوں کے حادثات سے زیادہ خوفناک نتائج کے حامل ہوتے ہیں ۔ گاڑیوں کے حادثات میں تو پھر کہیں زندگی بچ جاتی ہے لیکن موٹر سائیکلوں کے حادثات میں فوری اموات یاسیریس انجریز زیادہ ملتی ہیں۔
ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن 2014/15WHO کےشماریات کے تحت پاکستان دنیا بھر میں حادثات میں 67ویں نمبر پر ہے جسمیں سے 50% سے زائد اموات موٹر سائیکل سواروں کی ہوتی ہیں۔ایک اندازے کے مطابق یہ تعداد 2030 تک بہت زیادہ بڑھ جائیگی اور ملک میں سب سے زیاہ اموات انہی حادثات کی وجہ سے ہونگی۔صرف کراچی میں تقریباً 150 سے زائد حادثات روزانہ کی بنیاد پر رپورٹ ہوتے ہیں۔جنمیں سب سے زیادہ اموات 15 سے 30 سال تک کے عمر کے لوگوں کی ہوتی ہیں۔۔جنمیں 40 سے 50% اموات ہیڈ انجری کی وجہ سے ہوتی ہیں۔اور اسکی سب سے بڑی وجہ ہیلمٹ کا استعمال نہ کرنا ہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق صرف کراچی میں 12056 روڈ ایکسیڈنٹس ہوئے جنمیں 528 اموات ہوئیں 11551لوگ کم زخمی ہوئے اور 2960 سیریس زخمی ہوئے ۔ انمیں 13% پندرہ سال سے کم عمر بچوں کی تھی اور 36% 16 سے 25 سال کے نوجوانوں کی ۔ یہ تقریباً پچھلے سالوں کے ہیں ۔ حالیہ شماریات ان سے کہیں زیادہ ہیں۔چونکہ وہ آسانی سے دستیاب نہیں ہوسکے اسلئیے انہی
پر بات کرتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں۔ اگر یہ صرف ایک شہر کا ڈیٹا ہے تو آپ سوچئے کہ پورے ملک میں تو لاکھوں حادثات روزانہ کی بنیاد پر وقوع پزیر ہوتے ہیں۔
ہمیں دیکھنا یہ ہے کہ ان حادثات کی وجوہات کیا ہیں۔ اور انکا کیا سد باب کیا جا سکتا ہے
زیادہ تر تیزرفتاری حادثے کا باعث بنتی ہے
موٹر سائیکل سوار اچانک کسی موڑ سے نکل آتے ہیں اور گاڑیوں کے سامنے آجاتے ہیں جس سے حادثہ رونما ہوتا ہے۔اسکا حل یہی ہے کہ موڑ پر سوار احتیاط برتیں ۔ اپنا بھی خیال رکھیں اور دوسرے لوگوں کا بھی۔
بلائنڈ کارنرز پر اچانک بریک لگانے کے باعث بھی حادثات رونما ہوتے ہیں۔۔ یہاں پر انکو ٹرائیل بریکنگ تکنیک جو کہ زندگی بچانے کے لئے ہوتی ہے اس کا سہارا لینا چاہئیے۔ ٹرائیل بریکنگ تکنیک آجکل کے جدید موٹر سائیکلز میں متعارف کرائی گئی ہے ۔یہ فرنٹ ڈسک بریکس کا درست استعمال ہے جو حادثوں سے محفوظ رکھتا ہے ۔
لین چینج کرتے ہوئے بھی بہت سے حادثات ہوتے ہیں ۔اسمیں ایک خاص اینگل پر جب موٹر سائیکل سوار گرتا ہے تو اسکے گھٹنے کہنیاں وغیرہ چھلنی ہو جاتی ہیں۔بعض اوقات ہیڈ انجری بھی ہوتی ہے۔
موٹر سائیکل سوار اچانک کھڑی ہوئی گاڑیوں کے پاس سے گزرتے ہیں۔ گاڑی سے نکلنے والے مسافر کو پتہ بھی نہیں ہوتا وہ جیسے ہی دروازہ کھولتا ہے تو فوری حادثہ ہو جاتا ہے اسلئے کھڑی ہوئی گاڑیوں کے پاس سے انکو احتیاط سے گزرنا چاہئیے کیونکہ کار سوار کو اچانک آنیوالا موٹر سائیکل سوار نظر نہیں آتا جو حادثے کا باعث بنتا ہے
۔نشہ آور دوائیوں کے زیر اثر موٹر سائیکل سواروں کو احتیاط کرنی چاہئیےکہ اس حالت میں سفر نہ کریں ۔
کچھ لوگوں نے خوبصورتی یا شو کے لِے عام موٹر سائیکلوں کے ساتھ بڑے بڑے ٹائر لگا رکھے ہوتے ہیں جو توازن کو خراب کرنے کا باعث بھی بنتے ہیں اور بعض اوقات انکی مینٹینس درست نہ ہو تو بھی حادثے کا پیش خیمہ بنتے ہیں۔
ون ویل ڈرائیونگ تو موت کا کھیل ہے جسمیں آج کل کے نوجوانوں اور پندرہ سال سے کم عمر بچوں کی شرح اموات سب سے زیادہ ہیں ۔ یہ خود کو موت کے شکنجے میں دینے والی بات ہے۔ ٹین ایجر (13 سے 19 سال تک کے بچے) خاص طور پر یہ حرکت کرتے نظر آتے ہیں۔
اسکے علاوہ بہت کم عمری کے باعث بھی حادثات ہوتے ہیں۔ 12 ، 13 سال کا بچہ جب موٹر سائیکل لے کر سڑک پر نکلتا ہے تو اکثر اس سے اتنی بڑی سواری سنبھالی نہیں جاتی اور وہ حادثے کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس سلسلے میں قصور وار پہلے تو والدین ہیں کہ وہ بچے کو اس عمر میں موٹر سائیکل کیوں دیتے ہیں اور دوسری طرف ٹریفک وارڈنز کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان بچوں کو فوری طور پر روکیں۔ اور ایسے سخت قوانین بنائیں والدین کے لئے بھی کہ اگلی بار وہ بچوں کو discourage کریں ۔اور اس سواری کے استعمال سے روکیں ۔
ایک اور بڑا مسئلہ یہ ہے کہ لوگ ہیلمٹس کا استعمال نہیں کرتے ۔جسکی وجہ سے ہیڈ انجری کا فوری شکار ہو کر موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ ہیلمٹ کے استعمال کو قانون کے ذریعے لازم کیا جائے۔ بلکہ دونوں سواریوں کے لئے لازمی ہو ۔
اوورلوڈنگ بھی حادثات کے رونما ہونے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ایک عام درجے کی موٹر سائیکل پر پورا خاندان سوار نظر آتا ہے۔ چار پانچ بندے تو موٹر سائیکل پر بیٹھنا کوئی بات ہی نہیں اور کوئی چالان بھی نہیں ہوتا۔
حادثات کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ موٹر سائیکل کرائے پر بھی با آسانی دستیاب ہوتے ہیں۔ جن نوجوانوں یا بچوں کو ٹھیک سے چلانا نہیں بھی آتا تو وہ بھی انتہائی کم قیمت پر کرائے پر حاصل کرتے ہیں اور ناتجربہ کاری یا کم عمری کی وجہ سے حادثے کا شکار ہوتے ہیں۔
ایک سب سے عام وجہ حادثات کی یہ ہے کہ وہ تمام سڑک پر چلتے ہیں یعنی کہ ایک طرف سے نکلے کبھی درمیان میں چلے اور کبھی دائیں بائیں۔ اگر وہ ایک ہی سائیڈ پر چلیں جو قوانین کے مطابق انکو بتائی گئی ہےتو حادثات میں خاطر خواہ کمی آسکتی ہے۔
مزید یہ کہ جب خواتین موٹر سائیکل پر بیٹھتی ہیں تو اکثر اپنے دوپٹے یاچادر سمیٹ کر نہیں بیٹھتیں جس سے وہ حادثے کا باعث بنتی ہیں اور بعض اوقات اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں۔ ایک اور بہت ہی اہم اور عام مسئلہ یہ ہے کہ جب نو عمر بچے یا بغیر لائسنس کے بچے نکلتے ہیں تو انکو اگر راستے میں روکا جائے تو وہ ڈر کے مارے بھاگ نکلتے ہیں یہ بہت ہی خطرناک بات ہے کیونکہ سیکیورٹی ادارے انکو دہشت گرد سمجھ کر ان پرفائر کھول سکتے ہیں ۔ لہذا اس سلسلے میں بھی بہت محتاط ہونے کی ضرورت ہے۔
موت کا دکھ تو ہوتا ہی ہے لیکن جب میں کسی نوجوان بچے کے موٹر سائیکل حادثے کا سنتی ہوں تو دل تڑپ جاتا ہے کہ ایک بچہ یا جوان گھر سے کوئی چیز لینے نکلا اور واپسی پہ اسکی میت آئی۔ اس سے زیادہ دردناک بات ایک ماں یا والدین کے لئے کیا ہو سکتی ہے۔
میں تمام والدین سے گزارش کرونگی کہ آپ تھوڑا سا مشکل وقت گزار لیں لیکن اپنے نو عمر بچے کو یہ موت کی سواری نہ لے کر دیں۔
میری متعلقہ محکموں کے لوگوں سے بھی اس پسخت ترین ایکشن لینے کے حوالے سے بات ہوتی رہی ہے۔اس ضمن میں سخت سے سخت قوانین بنان کی ضرورت ہے تاکہ حادثات میں کمی آ سکے۔
Sunday, October 21, 2018
چادر کی حرمت
سوشل میڈیا پہ چلنے والی پوسٹس دیکھیں ۔جسمیں پنجاب میں شعبہ صحت کی وزیر ڈاکٹر یاسمین راشد کی طرف سے دوپٹے لازم کرنے کاکوئی ذکر نظر آیا ۔بعد میں اس کی تردید بھی کی گئی ہے۔ زیادہ تفصیلات نہ مل سکیں لیکن اسمیں کیا قباحت ہے اگر دوپٹے کرنے کا کہا گیا ہے۔ شلوار قمیص اور دوپٹہ تو ہمارا قومی لباس ہے۔ اور اگر دینی نقطہ نگاہ سے دیکھا جائے تو پھر تو باقاعدہ پردہ بنتا ہےخواتین کااس ملک میں۔ چلئیے ابھی اس دینی بحث کو رہنے دیتے ہیں۔
مجھے حیرانی ہوتی ہے جب کہا جاتا ہے کہ دوپٹہ ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ سمجھ نہیں آتی وہ کونسی ترقی ہے جسمیں دوپٹہ حائل ہوتا ہے.بہرحال جو لوگ نہیں کرنا چاہتے وہ یہ عذر گھڑ لیتے ہیں۔لیکن حقیقت میں ایسا کچھ نہیں۔ دوپٹہ اور چادر تو عورت کے وقار میں اضافہ کرتے ہیں۔نہ یہ کسی کی ترقی کی راہ میں حائل ہوا نہ رکاوٹ بنا۔ حتیٰ کہ اس ملک کی کچھ نامور خواتین نے تو برقع پہن کر بھی زندگی کے ہر شعبے میں کارہائے نمایاں انجام دئیے۔ اگر ماضی میں جھانکیں تو آپ کو یاد آئے گا کہ پاکستان کی پہلی خاتون پائلٹ شکریہ خانم ایک پردہ دار خاتون تھیں ۔ انکے لئے تو برقع رکاوٹ نہیں بنا۔ انکا نام تو تاریخ میں پہلی خاتون پائلٹ کی حیثیت سے ہمیشہ یاد رکھا جائیگا۔ اگر میں کھلاڑیوں کی مثال لوں تو بہت سی خواتین کھلاڑی حجاب پہن کر کھیلتی ہیں انکے کھیل پر تو انکا حجاب اثر انداز نہیں ہوا۔ محترمہ فاطمہ جناح ، بیگم رعنا لیاقت علی خان ، بے نظیر بھٹو ، بیگم کلثوم نواز جیسی نامور خواتین نے ہمیشہ سروں پہ دوپٹے لئے ۔ محترمہ بے نظیر بھٹو دو مرتبہ ملک کی وزیر اعظم رہیں لیکن انہوں نے قومی لباس کی عزت رکھتے ہوئے ہمیشہ سر پہ دوپٹہ لیا۔ اسی طرح مختلف شعبہ ہائے زندگی میں خواتین برقع، گاوُن ، حجاب، سکارف ،دوپٹہ اور چادر پہنتی ہیں جنمیں افواج پاکستان سے تعلق رکھنے والی خواتین بھی ہیں، پولیس سے تعلق رکھنے والی بھی ، CSP آفیسرز بھی ہیں ججز بھی ہیں اور خواتین وکلاء بھی۔پروفیسرز بھی ہیں اور سانئسدان بھی۔ ڈاکٹرز بھی ہیں اور نرسز بھی۔ سیاستدان خواتین بھی ہیں اور عاصمہ شیرازی جیسی اینکرز بھی۔ لیکن انکی کارکردگی پر، انکے کام پر تو کوئی منفی اثر نہیں پڑتا بلکہ وہ خواتین مکمل خوداعتمادی سے اپنے متعلقہ فرائض بہ احسن طریقے سے انجام دیتی ہیں۔
اگر اپنی مثال پیش کروں تو اسمبلی میں پانچ سال گزارے اور الحمداللہ اپنی طرف سے بہترین وقت گزارا۔ اسمبلی بزنس میں ٹاپ 10 لوگوں میں نام رہا، اپنے علاقے کےاور جنرل مسائل پر آواز اٹھانے کے حوالے سے سرفہرست رہا چار ممالک کے دورے کئے۔ یورپ اور برطانیہ میں برقع کیساتھ گئے ۔ میرے ساتھ پانچ اور خواتین بھی برقع والی تھیں لیکن الحمداللہ ہاوُس آف کامنز اور ہاوُس آف لارڈز میں شرکت کی اور West Minister Abbey میں ہونیوالی تمام میٹنگز میں ویمن پارلیمنٹری کاکس کی وائس پریذیڈنٹ کی حیثیت سے پاکستان کی بھر پور نمائندگی بھی کی اور بہترین تاثر بھی چھوڑا۔جینوا کے UN ہیڈ کوارٹرز میں بھی یہی تمام خواتین تھیں جنہوں نے تمام میٹنگز میں شرکت کی اور برما میں ہونیوالے ظلم کیخلاف آواز بلند کی۔ ہم خواتین کو تو کوئ رکاوٹ نظر نہیں آئی۔ سیاست میں اسکے علاوہ اور بھی مثالیں موجود ہیں جیسے سمعیہ راحیل صاحبہ، عائشہ سید صاحبہ، نعیمہ کشور جیسی باکمال سیاستدان خواتین جنہوں نے اسمبلی فلور پر ہر مسئلے کو اجاگر کیا۔
اگر آپ دینی نقطہُ نظر سے اس کو نہیں دیکھتے تو کم از کم معاشرتی و ثقافتی انداز میں ہی لے لیں۔ کہ یہ ہمارے اس خطے کی ثقافت ہے۔ اسی ثقافت کے فروغ کے لئے ہی ہم دوپٹے یا چادر کا استعمال کریں۔ لباس ہر ملک اور کلچر کی پہچان ہوتا ہے۔ ہماری پہچان شلوار قمیص اور دوپٹہ یا چادر ہیں۔ یہ ایک غلط خیال ہے کہ اگر آپ چادر اور دوپٹہ لیں گے تو دقیانوسی کہلائیں گے۔ ایسا نہیں ہے بہت سی پڑھی لکھی خواتین جو بظاہر پردہ کرتی ہیں وہ ذہنی طور پر بہت سی بے پردہ خواتین سے زیادہ باشعور ہوتی ہیں ۔ وہ بچیوں کی تعلیم کے حق، انکی مرضی سے شادی کے حق، وراثت کے حق اور بزنس یا نوکری کرنے کے حق کی حامی ہوتی ہیں۔
ایک دور تھا جب پی ٹی وی کے خبرنامے اور اناوُنسرز سروں پہ دوپٹے لیتی تھیں تو بہت باوقار دکھائی دیتی تھیں۔ گو کہ دوپٹہ کرناہر ایک کا ذاتی معاملہ ہے لیکن کیا ہی بہتر ہو کہ ایک قومی لباس کی حیثیت سے اسکو لباس کا حصہ ضرور بنایا جائے۔
دوپٹہ /چادر ایک مسلمان اور پاکستانی عورت کی پہچان یے ۔ اور اسکو اپنی اس پہچان کے تقدس کو بحال رکھنا چاہئیے ۔
مجھے حیرانی ہوتی ہے جب کہا جاتا ہے کہ دوپٹہ ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ سمجھ نہیں آتی وہ کونسی ترقی ہے جسمیں دوپٹہ حائل ہوتا ہے.بہرحال جو لوگ نہیں کرنا چاہتے وہ یہ عذر گھڑ لیتے ہیں۔لیکن حقیقت میں ایسا کچھ نہیں۔ دوپٹہ اور چادر تو عورت کے وقار میں اضافہ کرتے ہیں۔نہ یہ کسی کی ترقی کی راہ میں حائل ہوا نہ رکاوٹ بنا۔ حتیٰ کہ اس ملک کی کچھ نامور خواتین نے تو برقع پہن کر بھی زندگی کے ہر شعبے میں کارہائے نمایاں انجام دئیے۔ اگر ماضی میں جھانکیں تو آپ کو یاد آئے گا کہ پاکستان کی پہلی خاتون پائلٹ شکریہ خانم ایک پردہ دار خاتون تھیں ۔ انکے لئے تو برقع رکاوٹ نہیں بنا۔ انکا نام تو تاریخ میں پہلی خاتون پائلٹ کی حیثیت سے ہمیشہ یاد رکھا جائیگا۔ اگر میں کھلاڑیوں کی مثال لوں تو بہت سی خواتین کھلاڑی حجاب پہن کر کھیلتی ہیں انکے کھیل پر تو انکا حجاب اثر انداز نہیں ہوا۔ محترمہ فاطمہ جناح ، بیگم رعنا لیاقت علی خان ، بے نظیر بھٹو ، بیگم کلثوم نواز جیسی نامور خواتین نے ہمیشہ سروں پہ دوپٹے لئے ۔ محترمہ بے نظیر بھٹو دو مرتبہ ملک کی وزیر اعظم رہیں لیکن انہوں نے قومی لباس کی عزت رکھتے ہوئے ہمیشہ سر پہ دوپٹہ لیا۔ اسی طرح مختلف شعبہ ہائے زندگی میں خواتین برقع، گاوُن ، حجاب، سکارف ،دوپٹہ اور چادر پہنتی ہیں جنمیں افواج پاکستان سے تعلق رکھنے والی خواتین بھی ہیں، پولیس سے تعلق رکھنے والی بھی ، CSP آفیسرز بھی ہیں ججز بھی ہیں اور خواتین وکلاء بھی۔پروفیسرز بھی ہیں اور سانئسدان بھی۔ ڈاکٹرز بھی ہیں اور نرسز بھی۔ سیاستدان خواتین بھی ہیں اور عاصمہ شیرازی جیسی اینکرز بھی۔ لیکن انکی کارکردگی پر، انکے کام پر تو کوئی منفی اثر نہیں پڑتا بلکہ وہ خواتین مکمل خوداعتمادی سے اپنے متعلقہ فرائض بہ احسن طریقے سے انجام دیتی ہیں۔
اگر اپنی مثال پیش کروں تو اسمبلی میں پانچ سال گزارے اور الحمداللہ اپنی طرف سے بہترین وقت گزارا۔ اسمبلی بزنس میں ٹاپ 10 لوگوں میں نام رہا، اپنے علاقے کےاور جنرل مسائل پر آواز اٹھانے کے حوالے سے سرفہرست رہا چار ممالک کے دورے کئے۔ یورپ اور برطانیہ میں برقع کیساتھ گئے ۔ میرے ساتھ پانچ اور خواتین بھی برقع والی تھیں لیکن الحمداللہ ہاوُس آف کامنز اور ہاوُس آف لارڈز میں شرکت کی اور West Minister Abbey میں ہونیوالی تمام میٹنگز میں ویمن پارلیمنٹری کاکس کی وائس پریذیڈنٹ کی حیثیت سے پاکستان کی بھر پور نمائندگی بھی کی اور بہترین تاثر بھی چھوڑا۔جینوا کے UN ہیڈ کوارٹرز میں بھی یہی تمام خواتین تھیں جنہوں نے تمام میٹنگز میں شرکت کی اور برما میں ہونیوالے ظلم کیخلاف آواز بلند کی۔ ہم خواتین کو تو کوئ رکاوٹ نظر نہیں آئی۔ سیاست میں اسکے علاوہ اور بھی مثالیں موجود ہیں جیسے سمعیہ راحیل صاحبہ، عائشہ سید صاحبہ، نعیمہ کشور جیسی باکمال سیاستدان خواتین جنہوں نے اسمبلی فلور پر ہر مسئلے کو اجاگر کیا۔
اگر آپ دینی نقطہُ نظر سے اس کو نہیں دیکھتے تو کم از کم معاشرتی و ثقافتی انداز میں ہی لے لیں۔ کہ یہ ہمارے اس خطے کی ثقافت ہے۔ اسی ثقافت کے فروغ کے لئے ہی ہم دوپٹے یا چادر کا استعمال کریں۔ لباس ہر ملک اور کلچر کی پہچان ہوتا ہے۔ ہماری پہچان شلوار قمیص اور دوپٹہ یا چادر ہیں۔ یہ ایک غلط خیال ہے کہ اگر آپ چادر اور دوپٹہ لیں گے تو دقیانوسی کہلائیں گے۔ ایسا نہیں ہے بہت سی پڑھی لکھی خواتین جو بظاہر پردہ کرتی ہیں وہ ذہنی طور پر بہت سی بے پردہ خواتین سے زیادہ باشعور ہوتی ہیں ۔ وہ بچیوں کی تعلیم کے حق، انکی مرضی سے شادی کے حق، وراثت کے حق اور بزنس یا نوکری کرنے کے حق کی حامی ہوتی ہیں۔
ایک دور تھا جب پی ٹی وی کے خبرنامے اور اناوُنسرز سروں پہ دوپٹے لیتی تھیں تو بہت باوقار دکھائی دیتی تھیں۔ گو کہ دوپٹہ کرناہر ایک کا ذاتی معاملہ ہے لیکن کیا ہی بہتر ہو کہ ایک قومی لباس کی حیثیت سے اسکو لباس کا حصہ ضرور بنایا جائے۔
دوپٹہ /چادر ایک مسلمان اور پاکستانی عورت کی پہچان یے ۔ اور اسکو اپنی اس پہچان کے تقدس کو بحال رکھنا چاہئیے ۔
ایک سوزوکی ڈرائیور کے ساتھ مکالمہ۔ A dialogue with Suzuki Drivet
ایک سوزوکی ڈرائیور کیساتھ مکالمہ
آج چنار روڈ پہ واک کی اور طویل واک کے بعد لوکل سواری سوزوکی میں اس غرض سے سفر کیا کہ موجودہ کرایوں اور سواریوں کی صورتحال سےاور ڈرائیوروں کے مسائل سے بھی مکمل آگاہی حاصل کر سکوں ۔
تمام راستہ ڈرائیور کا انٹرویو لیا۔ نوجوان لڑکا تھا۔ ایک بات اسکی اچھی لگی کہ میرے احترام میں اسنے میوزک آہستہ کر دیا حالانکہ مجھے سننے میں آتا ہے کہ ڈرائیور خاتون سواری کی موجودگی میں میوزک تیز کر دیتے ہیں۔ شاید میری عمر اور برقعے کا رعب ہو۔ اس سے موجودہ مسائل پوچھے۔ وہ غریب بھرا بیٹھا تھا اسنے جو مہنگائی کا رونا رویا تو راستہ ہی ختم ہو گیا۔ گیس کی مہنگائی کا شکوہ، سوزوکی کے پرزوں کی مہنگائی کا رونا، اڈوں کے کرایے دینا، سوزوکی مالکان کو انکا حصہ دینا، کنڈیکٹر کو دینا ، اور روز کیدیہاڑ گھر لے کر جانا۔ غرض اسنے مہنگائی کو ہی تمام مسائل کی جڑ قرار دیا۔
میں نے اسکو پوچھا کہ کیا تمھیں پتہ ہے بزرگ سواریوں (( Senior Citizens) کے کیا حقوق ہیں اور طالبعلموں کے کیا ہیں ؟ تو اسنے لاعلمی کا اظہار کیا۔صرف یہ کہا کہ جو دے نہیں سکتے ان سے ہم مانگتے نہیں ہیں ۔ اسی طرح students کا بتایا کہ زیادہ تر بچے نہیں دے سکتے تو ہم لیتے نہیں۔ میں نےاسکو بتایا کہ بزرگ شہری اور طالبعلموں کا کرایہ آدھا ہوتا ہے بلکہ بعض جگہوں پر تو لیا ہی نہیں جاتا ۔ تو وہ حیران ہوا۔
میں نے اسکو بتایا کہ میں اس ایشو پرکام کر رہی ہوں کہ سنئیر سٹیزنز بزرگ شہریوں کے لئے خیبر پختونخوا حکومت میں قانون تو موجود ہے لیکن کیا اسپر عملدرآمد بھی ہو رہا ہے۔اور اگر ہو رہا ہے تو کس حد تک؟
اس قانون میں کیا تبدیلیاں لائی جائیں کہ یہ بزرگ شہریوں کے لئے فائدہ مند ہو۔
اسکے علاوہ میں نے اس سے خواتین کے لئے علیحدہ سوزوکیاں چلانے کی بات بھی کی جس پر اسنے کچھ خاص ردعمل کا اظہار نہیں کیا ۔ بلکہ کہا کہ الگ سوزوکیوں سے مسئلہ کیسے حل ہو گا جبکہ لوگوں کو جانے کی جلدی ہوتی ہے اور وہ انتظار نہیں کر سکتے ۔ اسی طرح خواتین کو جو سواری میسر ہو گی وہ اسپر سفر کرینگی۔ میں نے اسکو کہا کہ یہ مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں۔ جو خواتین مردوں والی سواری میں سفر کرنا نہیں چاہتیں وہ ضرور انتظار کرینگی اور اسطرح اوقات کار بھی سیٹ ہو جائینگے ۔بہت سی خواتین اور بچیاں راستے میں ہراس منٹ کا شکار ہوتی ہیں جسکے لئے وہ خواتین کی گاڑی کو ترجیح دینگی۔
اسپر اسنے کچھ زیادہدلچسپی نہیں لی۔
مجھے تمام روٹس کے کرایے بتائے جو کہ ظاہر ہے 2 روپے سے 10 روپے تک زیادہ بڑھ گئے ہیں۔ اور یہ ایک عام آدمی کے لئے بہت زیادہ ہیں جس نے روزانہ سفر کرنا ہوتا ہےاسکے لئیے تو ڈبل ہوگئے جو ظاہر ہے اسکے اوپر اضافی بوجھ ہے۔ اسی طرح ڈرائیور بھی ایک عام آدمی ہے اور اسکے بھی اخراجات ہیں۔ بہر حال انتظامیہ کو کوئہ بیچ کی راہ نکالنے کی ضرورت ہے تاکہ عوام کو سہولت ملے نا کہ پریشانی کا سامنا کرنا پڑے۔
یہ تھی آج کی روداد سوچا آپ لوگوں سے شئیر کروں۔ اس تحریر میں جن قوانین کا ذکر ہوا ہے یا مسائل کا۔ انکے حوالے سے اگر کوئی تجویز دینا چاہئیں تو ضرور دیجئے۔
آج چنار روڈ پہ واک کی اور طویل واک کے بعد لوکل سواری سوزوکی میں اس غرض سے سفر کیا کہ موجودہ کرایوں اور سواریوں کی صورتحال سےاور ڈرائیوروں کے مسائل سے بھی مکمل آگاہی حاصل کر سکوں ۔
تمام راستہ ڈرائیور کا انٹرویو لیا۔ نوجوان لڑکا تھا۔ ایک بات اسکی اچھی لگی کہ میرے احترام میں اسنے میوزک آہستہ کر دیا حالانکہ مجھے سننے میں آتا ہے کہ ڈرائیور خاتون سواری کی موجودگی میں میوزک تیز کر دیتے ہیں۔ شاید میری عمر اور برقعے کا رعب ہو۔ اس سے موجودہ مسائل پوچھے۔ وہ غریب بھرا بیٹھا تھا اسنے جو مہنگائی کا رونا رویا تو راستہ ہی ختم ہو گیا۔ گیس کی مہنگائی کا شکوہ، سوزوکی کے پرزوں کی مہنگائی کا رونا، اڈوں کے کرایے دینا، سوزوکی مالکان کو انکا حصہ دینا، کنڈیکٹر کو دینا ، اور روز کیدیہاڑ گھر لے کر جانا۔ غرض اسنے مہنگائی کو ہی تمام مسائل کی جڑ قرار دیا۔
میں نے اسکو پوچھا کہ کیا تمھیں پتہ ہے بزرگ سواریوں (( Senior Citizens) کے کیا حقوق ہیں اور طالبعلموں کے کیا ہیں ؟ تو اسنے لاعلمی کا اظہار کیا۔صرف یہ کہا کہ جو دے نہیں سکتے ان سے ہم مانگتے نہیں ہیں ۔ اسی طرح students کا بتایا کہ زیادہ تر بچے نہیں دے سکتے تو ہم لیتے نہیں۔ میں نےاسکو بتایا کہ بزرگ شہری اور طالبعلموں کا کرایہ آدھا ہوتا ہے بلکہ بعض جگہوں پر تو لیا ہی نہیں جاتا ۔ تو وہ حیران ہوا۔
میں نے اسکو بتایا کہ میں اس ایشو پرکام کر رہی ہوں کہ سنئیر سٹیزنز بزرگ شہریوں کے لئے خیبر پختونخوا حکومت میں قانون تو موجود ہے لیکن کیا اسپر عملدرآمد بھی ہو رہا ہے۔اور اگر ہو رہا ہے تو کس حد تک؟
اس قانون میں کیا تبدیلیاں لائی جائیں کہ یہ بزرگ شہریوں کے لئے فائدہ مند ہو۔
اسکے علاوہ میں نے اس سے خواتین کے لئے علیحدہ سوزوکیاں چلانے کی بات بھی کی جس پر اسنے کچھ خاص ردعمل کا اظہار نہیں کیا ۔ بلکہ کہا کہ الگ سوزوکیوں سے مسئلہ کیسے حل ہو گا جبکہ لوگوں کو جانے کی جلدی ہوتی ہے اور وہ انتظار نہیں کر سکتے ۔ اسی طرح خواتین کو جو سواری میسر ہو گی وہ اسپر سفر کرینگی۔ میں نے اسکو کہا کہ یہ مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں۔ جو خواتین مردوں والی سواری میں سفر کرنا نہیں چاہتیں وہ ضرور انتظار کرینگی اور اسطرح اوقات کار بھی سیٹ ہو جائینگے ۔بہت سی خواتین اور بچیاں راستے میں ہراس منٹ کا شکار ہوتی ہیں جسکے لئے وہ خواتین کی گاڑی کو ترجیح دینگی۔
اسپر اسنے کچھ زیادہدلچسپی نہیں لی۔
مجھے تمام روٹس کے کرایے بتائے جو کہ ظاہر ہے 2 روپے سے 10 روپے تک زیادہ بڑھ گئے ہیں۔ اور یہ ایک عام آدمی کے لئے بہت زیادہ ہیں جس نے روزانہ سفر کرنا ہوتا ہےاسکے لئیے تو ڈبل ہوگئے جو ظاہر ہے اسکے اوپر اضافی بوجھ ہے۔ اسی طرح ڈرائیور بھی ایک عام آدمی ہے اور اسکے بھی اخراجات ہیں۔ بہر حال انتظامیہ کو کوئہ بیچ کی راہ نکالنے کی ضرورت ہے تاکہ عوام کو سہولت ملے نا کہ پریشانی کا سامنا کرنا پڑے۔
یہ تھی آج کی روداد سوچا آپ لوگوں سے شئیر کروں۔ اس تحریر میں جن قوانین کا ذکر ہوا ہے یا مسائل کا۔ انکے حوالے سے اگر کوئی تجویز دینا چاہئیں تو ضرور دیجئے۔
کلثوم نواز ایک عہد ساز شخصیت . Kalsoom Nawaz a legendary character
کلثوم نام سنتے ہی ذہن میں ایک حسین و بردبار ہنستا مسکراتا چہرہ آ جاتا ہے۔وہ ایک کشمیری گھرانے سے تعلق رکھتی تھی۔ خوبصورت، شوخ اور اچھی عادات کی حامل کلثوم اپنے خاندان اور دوستوں سب میں مقبول و پسندیدہ تھی۔ انکے والدڈاکٹر عبدلحفیظ بٹ کا تعلق گوجرانوالہ کے علاقے مصری شاہ کے ایک معزز اور پڑھے لکھے خاندان سے تھا۔ننھیال کی طرف سے انکا تعلق پہلوانوں کے خاندان سے ہے۔ رستمِ زماں گاما پہلوان انکے نانا اور بھولو پہلوان انکے ماموں ہیں۔ کلثوم کی دو بہنیں اور ایک بھائی ہیں ۔ انہیں پڑھنے لکھنے کا شروع ہی سے شوق تھا ۔انہوں نے اسلامیہ کالج سے انٹر کیا۔ ایف سی کالج سے گریجویشن کیا۔ 1971 میں انکی شادی لاہور کے ایک کاروباری خاندان کے میاں شریف کے بیٹے نواز شریف سے ہوئی جنہوں نے اپنی سیاست کا آغاز ستر کی دہائی کے آخری دور میں کیا۔ کلثوم نے شادی کے بعد گورنمنٹ کالج لاہور سے اردو ادب میں ماسٹرز کی ڈگری لی۔ کچھ ذرائع کا کہنا ہے کہ انکے پاس فلسفے میں PhD کی ڈگری بھی تھی۔ کلثوم ایک نہایت منکسر المزاج خاتون تھیں ۔ ملنساری، ہمدردی اور خوش اخلاقی انکے خاص اوصاف تھے ۔ انہوں نے اپنے سسرال والوں کے ساتھ بہت محبت اور اپنائیت کا وقت گزارا۔ اپنی ساس و سسر کو والدین کا درجہ دیا۔ انکے گھرانے کی ایک بات بہت ہی اچھی تھی کہ والدین کا انتہائی ادب واحترام کیا جاتا تھا۔ میاں شریف جب تک زندہ رہے انکے بیٹے بڑے عہدوں ((وزیر اعلی' اور وزیر اعظم)) ہونے کے باوجود اپنے والد کے انتہائی فرمانبردار تھے۔ یہی حال گھر کی خواتین کا بھی تھا۔ کلثوم کو اللہ تعالیٰ نے چار بچوں سے نوازا جن می۔ دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔ مریم، عصمہ، حسن اور حسین۔ ۔۔۔۔ کلثوم کو پہلی مرتبہ 1990 میں خاتون اول بننے کا شرف حاصل ہوا۔ جو 1993 تک رہا۔ دوسری مرتبہ وہ 1997 سے 1999 تک خاتون اول رہیں۔ اپنے ہر دم مسکراہٹ بکھیرتے دلکش چہرے کیساتھ وہ کافی پسندیدہ خاتون اول رہیں۔ اکتوبر 1999 میں مشرف کے ملک میں ایمرجنسی نافذ کرتے ہی جب میاں نواز شریف کو قید کر لیا گیا تو وہی خاتون جو زیادہ توجہ اپنے گھر اور بچوں کو دیتی تھی ایکدم میدان سیاست میں کود پڑی ۔ نواز شریف کو پارٹی کی صدارت چھوڑنی پڑی۔ اور کلثوم نواز کو صدارت کا تاج پہنایا گیا۔ انتہائی دگر گوں حالات میں اس گھریلو عورت نے ایک آمر کے سامنے کلمہُ حق بلند کر کے بہادری کی ایک مثال قائم کر دی۔ اس نے لاہور سے پشاور تک مارچ کیا۔ پارٹی کے بہت سے سر کردہ لوگ گرفتارہو گئے لیکن بہت سے لوگ منظر سے غائب بھی ہو گئے جن میں آج کے کچھ بڑے سیاستدان بھی موجود ہیں ۔ پارٹی کے نظریاتی ورکرز و کارکنان نے انکا ساتھ دیا۔ انکے ساتھ چلے۔ ہزارہ میں سردار اورنگ زیب نلوٹھا اور دیگر مقامی رہنماوں نے انکا بھر پور ساتھ دیا۔ اور انکے ساتھ جمہوریت کے نفاذ کے لئے ڈٹ گئے۔ محترمہ کی بہادری سے آمریت کے خلاف ڈٹ کر کھڑے ہونے کی وجہ سے انکو مادر جمہوریت کا خطاب دیا گیا۔ 2002 تک وہ پارٹی کی صدر رہیں۔ لیکن جیسے ہی میاں صاحب واپس آئے تو انہوں نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ باوجود اسکے کہ انہوں نے یہ چار سال کس ہمت ، جوانمردی اور سیاسی بصیرت سے گزارے لیکن اس کے باوجود انہوں نے سیاست کو خیر باد کہہ دیا اور کسی بھی عہدے کی خواہش نہ کی۔ 2013 میں انکو تیسری مرتبہ خاتون اول بننے کا اعزاز حاصل ہوا اور وہ اپنی روایتی ملنساری اور خوش اخلاقی کیساتھ ایک بار پھر اس منصب پر فائز ہوئیں۔ 2017 میں میاں صاحب کی زبردستی کی نااہلی کے سبب وہ اس منصب سے ہٹ گئیں۔ میاں صاحب کی نا اہلی کی وجہ سے انکے حلقے کی سیٹ خالی ہوئی۔ جسپر محترمہ نے ضمنی الیکشن لڑا اور 59413ووٹ لیکر پی ٹی آئی کی یاسمین راشد سے بہت اچھی lead سے جیت گئیں۔ اسی دوران طبیعت کی خرابی کے پیش نظر انکو لندن طبی معائنے کے لئے جانا پڑا۔ جہاں پر یہ افسوسناک انکشاف ہوا کہ وہ گلے کے کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا ہیں۔ شریف خاندان کے لئے یہ ایک اور آزمائش کی گھڑی تھی۔ مخالف پارٹیوں کے لوگوں نے انکی بیماری کی خبر کو ڈرامہ، فراڈ اور نہ جانے کیا کیا کہا۔ بیماری کی شدت کی وجہ سے وہ حلف لینے بھی نہ آ سکیں۔ انہیں کیمو تھراپی اور ریڈیو تھراپی جیسے علاج کے سخت مراحل سے گزرنا پڑا لیکن وہ صبر و استقامت کا پیکر بنی اپنے محبوب شوہر اور پیاری بیٹی کی منتظر رہیں۔ انکے بارے میں بار بار استفسار کرتی رہیں۔ لیکن بیٹی اور شوہر تو جمہوریت کی بالادستی کے لئے سرگرم عمل تھے۔ باوجود چاہت کے وہ انکی عیادت کے لئے نہ جا سکے۔ لیکن جب انکی طبیعت کے زیادہ بگڑنے کی خبر ملی تو وہ دونوں فوری طور پر رخصت ہوئے لیکن بدقسمتی سے اسی دن انکو کارڈیک اریسٹ ہوا اور وہ کومے میں چلی گئیں۔ انکو ventilator پہ ڈالدیا گیا۔ مریم اور میاں صاحب روزانہ انکی عیادت کو جانے لگے لیکن یوں محسوس ہوتا تھا کہ اب وہ جیسے ان سے ناراض ہو گئی ہیں اور انکے پکارنے پر بھی انکو جواب نہ دیتی تھیں۔ شوہر اور بچے بے بسی کی تصویر بنے تھے کہ خدائی کاموں میں کون دخل دے سکتا ہے۔ ہر طرح کا علاج معالجہ ہو رہا تھا لیکن کوئی بہتری کے امکان و آثار نظر نہیں آرہے تھے۔ بہر حال باپ بیٹی کو عدالتی فیصلے کی لاج رکھتے ہوئے اور اپنے اصولوں پہ قائم رہنے کی وجہ سے بحالت مجبوری محترمہ کو اسی کسمپرسی کی حالت میں چھوڑ کر واپس آنا پڑا ۔ مخالفین نے انکی بیماری پہ پورے پورے پروگرام کئے اور اسے جھوٹ قرار دیا۔ لوگوں نے انکی بیماری پہ طنزیہ tweets کیں کہ کہاں ہیں کلثوم نواز اور کس حال میں ہیں ۔ جبکہ وہ زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا تھیں۔ اللہ کا کرنا یہ ہوا کہ انکو ہوش آیا اور سب سے پہلے انہوں نے محبوب شوہر اور بیٹی کی غیر موجودگی کو محسوس کرتے ہوئے انکا پوچھا ۔ انکو کبھی کسطرح بہلایا جاتا اور کبھی کیسے عذر تراشے جاتے لیکن ایک فرمانبردار بیوی آخر دم تک اپنے شوہر اور پیاری بیٹی کے بارے میں سوال کرتی رہیں۔ وہ نہیں جانتی تھیں کہ شوہر اور بیٹی قیدو بند کی صعوبتیں جھیل رہے ہیں۔ اگر یہ معلوم ہوتا تو نہ جانے انکا مذید کیا حال ہوتا۔ آخر تھک ہار کر مایوس ہو کر انہوں نے اپنی جان ، جان آفریں کے سپرد کر دی۔ 11ستمبر کا یادگار دن جب ہم اپنے عظیم لیڈر قائد اعظم کی برسی مناتے ہیں وہی دن کلثوم نواز کی وفات کا دن بن گیا۔ اتفاو زمانہ دیکھئے کہ شوہر کی سالگرہ قائد کی سالگرہ کے دن ہوتی ہے اور بیگم کی وفات قائد کی برسی کے دن ۔ یہ بھی قائد سے محبت کا ایک انداز ہے انکے رب کیطرف سے۔ کلثوم نواز کی زندگی کا وہ باب جو 12 مارچ 1950 کا شروع ہوا آخر 11 ستمبر 2018 کو اپنے اختتام کو پہنچا۔ 13 ستمبر کو انکی نماز جنازہ لندن کی سنٹرل مسجد میں مقامی وقت کے مطابق دن 12 بجے پڑھائی گئی۔ پاکستان میں انکی تجہیز و تکفین کا دن 14 ستمبر بمقام جاتی امرا شام 5:30 ہے۔ بیگم کلثوم نے اپنے پیچھے سوگواران میں صرف اپنے خاندان کے لوگ نہیں چھوڑے بلکہ روتے بلکتے اپنے لاکھوں چاہنے والے ، کروڑوں مسلم لیگی چھوڑے ہیں انکا سلوک تمام پارٹی ورکرز سے مشفقانہ اور محبت آمیز ہوتا تھا۔ بہت کم لوگ ایسے اخلاق کے حامل ہوتے ہیں ۔ کلثوم نواز کا شمار ان خواتین میں ہوتا ہے جنکی تعریف انکے دشمن بھی کرتے ہیں۔ وہ ہمیشہ ایک معزز اور غیر متنازعہ خاتون رہیں ۔وہ ہمیشہ باہمت، صابر ،اور ہر حال میں شاکر رہیں ۔ ساٹھ اور ستر کی دہائی کی خوبصورت، الہڑ دوشیزہ زندگی کے اتنے اتار چڑھاوُ دیکھنے کے بعد آخراپنی ابدی منزل کو پہنچ گئ۔ اللہ کریم انکی مغفرت فرمائےاور انکے درجات بلند فرمائےاور انکو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے۔ آمین۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔دعاگو آمنہ سردار
Subscribe to:
Posts (Atom)