Tuesday, April 30, 2019
اقتباس عورت کی محبت
عورت ذہین ہو یا سادہ مزاج اسے اگر محبت ہوجائے تو وہ اپنی ہستی اس شخص کے لِئے مٹا دیتی ہے جسکو وہ چاہتی ہے۔ ۔خود کو راکھ اور خاک کر دیتی ہے اسکے عشق میں لیکن اسے پا نے کی خواہش پوری نہیں ہوتی۔ مرد کی انا کواسکے اس جذبے سے تسکین ملتی ہے اور وہ اس تسکین کو لئے اسے دھتکارےمحبت کی اگلی دریافت کی طرف بڑھتا ہے۔ اسکے لئے عورت کی نسوانیت کے غرور کو روندھنا ،اسے توڑنا ہی سب کچھ ہوتا ہے۔وہ خرمست ہاتھی کی مانند جھومتاجھامتا آگے بڑھتا چلاجاتا ہے۔ فتح اورغرور کے نشے میں سر شار ۔۔۔۔۔لیکن کبھی کبھی وہ ایسی جگہ سے دھتکارا جاتا ہے جہاں سے اسنے کبھی سوچا بھی نہیں ہوتا۔ یہیں سے پھر وہ عورت کو مکار ، دھوکے باز، مفادپرست قرار دیتا ہے۔ یہ سوچے بغیر کہ جو سلوک اس سے اب ہوا وہ تو کئیوں کیساتھ یہ سلوک برت کے آیا ہے۔ یہ احساس ہی تو اسکو نہیں ہوتا۔ اگر ہو جائے تو کوئی حوا کی بیٹی کسی مرد کی لچھے دار باتوں میں آکر اپنی زندگی کی بربادی کا سامان نہ کرے۔ کبھی کبھی یہ بات قائل کرتی ہے کہ اچھی اچھی عقلمند و ذہین عورتیں بھی کیسے باتوں کے جال میں الجھ کر ایک بے وقوف عورت کا درجہ حاصل کر لیتی ہیں۔۔۔۔ پھر ساری زندگی اُسی ایک نام کی دہائی دیتے زندگی گزار دیتی ہیں۔۔۔۔یہ فرق ہے مرد اور عورت میں۔۔۔۔
Sunday, April 21, 2019
اقبال کا اقبال بلند ہو ۔۔۔۔۔Iqbal ka Iqbal Buland ho
اقبال کے لئے ہدیہُ عقیدت
اقبال نا صرف ایک عظیم شاعرومفکر تھے بلکہ ایک عظیم انسان بھی تھے۔ وہ شاعر قرآن تھے جنہوں نے نہایت عمدگی سے قرآن کریم کے پیغام کو اپنی شاعری میں ڈھالا اور اس پیغام کو گھر گھر پہنچا دیا۔ اقبال کی شاعری سے کون واقف نہیں۔ جیسے ہی ہم لکھنے پڑھنے لائق ہوتے ہیں تو پہلا شعر ہمیں انہی کا یاد کرایا جاتا ہے۔
*کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا ، لوح و قلم تیرے ہیں *
اسکے بعد جوں جوں ہم اپنی عمر کی منازل طے کرتے جاتے ہیں اقبال کی شاعری بھی ہمیں ساتھ لئے چلتی ہے۔ لڑکپن میں پہنچتے ہیں تو یہ درس ملتا ہے
*ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں*
اور جوانی کی منازل طے کرتے ہوئے ہمیں اس شاعری سے گرمایا جاتا ہے
*نہیں تیرا نشیمن قصر سلطانی کے گنبد پر
تو شاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں پر*
خودی کی بات کریں تو اقبال یہ سبق خاص طور پر جوانوں کو دیتے نظرآتے ہیں۔
*خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے*
مرد مجاہد کے بارے میں فرماتے ہیں
*پلٹ کے جھپٹنا کے ، جھپٹ کے پلٹنا
لہو گرم رکھنے کا ہےایک بہانہ *
ایک مومن کی صفت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔
*ہر لحظہ ہے مومن کی نئی شان ، نئی آن
گفتار میں کردار میں اللہ کی برہان *
عشق کی وادی میں گر قدم رکھو تو کیا خوبصورت الفاظ میں محبوب ،کی دلربائی کا ذکر کرتے دکھائی دیتے ہیں
*سو سو امیدیں بندھتی ہیں اک اک نگاہ پر
مجھکو نہ ایسے پیار سے دیکھا کرے کوئی*
عملی زندگی میں قدم رکھو تو بے اختیار کہتے ہیں
*عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری *
اور جب روزگار کی تلاش میں نکلو تو کیا خوبصورت درس دیتے ہیں رزق حلال و حرام کے فرق کو واضح کرتے ہوئے
*جس رزق سے دہقاں کو میسر نہ ہو روزی
اس رزق کے ہر خوشہُ گندم کو جلا دو*
ناداں شخص کے اوپر روشنی ڈالتے ہوئے فرماتے ہیں
*پھول کی پتی سے کٹ سکتا ہے ہیرے کا جگر
مرد ناداں پر کلام نرم و نازک بے اثر*
مسلم نوجواں کو یقیں محکم کا سبق کیا خوب دیتے ہیں
*نگاہ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں
جو ہو ذوق یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں*
من حیث القوم مسلمانوں سے انکے اسلاف کا ذکر کرتے ہوئے شکوہ کناں ہیں کہ
*وہ معزز تھے زمانے میں مسلماں ہو کر
اور تم خوار ہوئے تارک قرآں ہوکر *
ملک وملت کے ہر شخص کو ایک اہم فرد گنواتے ہوئے فرماتے ہیں
*افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ*
عورت کو کیا خوبصورت انداز میں خراج تحسین پیش کرتے ہیں ۔
*وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
اسی کے ساز سے زندگی کا سوز دروں *
استاد کو کیا بہترین انداز میں ہدیہُ عقیدت سے نوازتے ہیں کہ
*کرسکتے تھے جو اپنے زمانے کی امامت
وہ کہنہ دماغ اپنے زمانے کے ہیں پیرو *
طالبعلم کو نصیحت کرتے ہوئے کہتے ہیں
*خدا تجھے کسی طوفاں سے آشنا کر دے
کہ تیرے بحر کی موجوں میں اضطراب نہیں
تجھے کتاب سے ممکن نہیں فراغ کہ تو
کتاب خواں ہے مگر صاحب کتاب نہیں*
آخرت کا تزکرہ اس انداز میں کرتے ہیں
*کھو نہ جااس سحر وشام میں اے صاحب دوش
اک جہاں اور بھی ہے جسمیں نہ فردا ہےنہ دوش*
اقبال ہم میں موجود نہیں لیکن ہمارے دلوں میں موجود ہیں۔ اپنے اشعار کی صورت ہمارے ساتھ ساتھ رہتے ہیں ۔ ہمیں چاہئیے کہ انکے اشعار ہم اپنی گفتگو میں شامل کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے اعمال میں بھی ڈھالیں۔
اللہ تعالیٰ انکے درجات بلند فرمائے آمین ۔
آمنہ سردار
اقبال نا صرف ایک عظیم شاعرومفکر تھے بلکہ ایک عظیم انسان بھی تھے۔ وہ شاعر قرآن تھے جنہوں نے نہایت عمدگی سے قرآن کریم کے پیغام کو اپنی شاعری میں ڈھالا اور اس پیغام کو گھر گھر پہنچا دیا۔ اقبال کی شاعری سے کون واقف نہیں۔ جیسے ہی ہم لکھنے پڑھنے لائق ہوتے ہیں تو پہلا شعر ہمیں انہی کا یاد کرایا جاتا ہے۔
*کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا ، لوح و قلم تیرے ہیں *
اسکے بعد جوں جوں ہم اپنی عمر کی منازل طے کرتے جاتے ہیں اقبال کی شاعری بھی ہمیں ساتھ لئے چلتی ہے۔ لڑکپن میں پہنچتے ہیں تو یہ درس ملتا ہے
*ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں*
اور جوانی کی منازل طے کرتے ہوئے ہمیں اس شاعری سے گرمایا جاتا ہے
*نہیں تیرا نشیمن قصر سلطانی کے گنبد پر
تو شاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں پر*
خودی کی بات کریں تو اقبال یہ سبق خاص طور پر جوانوں کو دیتے نظرآتے ہیں۔
*خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے*
مرد مجاہد کے بارے میں فرماتے ہیں
*پلٹ کے جھپٹنا کے ، جھپٹ کے پلٹنا
لہو گرم رکھنے کا ہےایک بہانہ *
ایک مومن کی صفت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔
*ہر لحظہ ہے مومن کی نئی شان ، نئی آن
گفتار میں کردار میں اللہ کی برہان *
عشق کی وادی میں گر قدم رکھو تو کیا خوبصورت الفاظ میں محبوب ،کی دلربائی کا ذکر کرتے دکھائی دیتے ہیں
*سو سو امیدیں بندھتی ہیں اک اک نگاہ پر
مجھکو نہ ایسے پیار سے دیکھا کرے کوئی*
عملی زندگی میں قدم رکھو تو بے اختیار کہتے ہیں
*عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری *
اور جب روزگار کی تلاش میں نکلو تو کیا خوبصورت درس دیتے ہیں رزق حلال و حرام کے فرق کو واضح کرتے ہوئے
*جس رزق سے دہقاں کو میسر نہ ہو روزی
اس رزق کے ہر خوشہُ گندم کو جلا دو*
ناداں شخص کے اوپر روشنی ڈالتے ہوئے فرماتے ہیں
*پھول کی پتی سے کٹ سکتا ہے ہیرے کا جگر
مرد ناداں پر کلام نرم و نازک بے اثر*
مسلم نوجواں کو یقیں محکم کا سبق کیا خوب دیتے ہیں
*نگاہ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں
جو ہو ذوق یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں*
من حیث القوم مسلمانوں سے انکے اسلاف کا ذکر کرتے ہوئے شکوہ کناں ہیں کہ
*وہ معزز تھے زمانے میں مسلماں ہو کر
اور تم خوار ہوئے تارک قرآں ہوکر *
ملک وملت کے ہر شخص کو ایک اہم فرد گنواتے ہوئے فرماتے ہیں
*افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ*
عورت کو کیا خوبصورت انداز میں خراج تحسین پیش کرتے ہیں ۔
*وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
اسی کے ساز سے زندگی کا سوز دروں *
استاد کو کیا بہترین انداز میں ہدیہُ عقیدت سے نوازتے ہیں کہ
*کرسکتے تھے جو اپنے زمانے کی امامت
وہ کہنہ دماغ اپنے زمانے کے ہیں پیرو *
طالبعلم کو نصیحت کرتے ہوئے کہتے ہیں
*خدا تجھے کسی طوفاں سے آشنا کر دے
کہ تیرے بحر کی موجوں میں اضطراب نہیں
تجھے کتاب سے ممکن نہیں فراغ کہ تو
کتاب خواں ہے مگر صاحب کتاب نہیں*
آخرت کا تزکرہ اس انداز میں کرتے ہیں
*کھو نہ جااس سحر وشام میں اے صاحب دوش
اک جہاں اور بھی ہے جسمیں نہ فردا ہےنہ دوش*
اقبال ہم میں موجود نہیں لیکن ہمارے دلوں میں موجود ہیں۔ اپنے اشعار کی صورت ہمارے ساتھ ساتھ رہتے ہیں ۔ ہمیں چاہئیے کہ انکے اشعار ہم اپنی گفتگو میں شامل کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے اعمال میں بھی ڈھالیں۔
اللہ تعالیٰ انکے درجات بلند فرمائے آمین ۔
آمنہ سردار
Wednesday, April 10, 2019
کیا ہم درندوں کی بستی میں بستے ہیں ؟ Are we living in the world of barbarians?
؟
بچے عطیہُ خداوندی ہوتے ہیں۔ ہماری ساری زندگی بچوں کے لئے ہی کمانے کی فکر میں گزرجاتی ہے۔ لیکن کیا ہم اپنے بچوں کو وہ چیز مہیا کر رہے ہیں جو اسکی اس وقت انکی اہم ترین ضرورت ہے۔ اور وہ ہے والدین کی مکمل توجہ اور وقت۔
آجکل کےوالدین بچوں کو توجہ نہیں دیتے۔ انکا خیال نہیں رکھتے انکی ضروریات زندگی تو پوری کرتےہیں ، انکو ہر قسم کی سہولیات مہیا کرتے ہیں، دنیا جہاں کی آسائشیں انکے قدموں میں ڈھیر کرتے ہیں، لیکن اپنا وقت انکو نہیں دیتے۔آج کا بچہ آپکے وقت کا محتاج ہے۔ پہلے زمانے میں لوگ اپنے بچوں کوبظاہر توجہ نہیں دیتے تھےلیکن انکی بچوں کے ہر فعل پر گہری نظر ہوتی تھی۔ انہیں اپنے بچوں سےمتعلق تمام معاملات کے بارے میں علم ہوتا تھا۔ وہ کہاں ہیں، کیا کر رہے ہیں وغیرہ ۔ دوسرا اسوقت جوائنٹ فیملی سسٹم ہوتا تھا جسمیں اگر والدین کی توجہ بچے سے بٹتی بھی تھی تو دادا دادی، چچا تایا، پھپھو وغیرہ بچوں کا خیال رکھتے تھے۔ یوں بچے کو بھی یہ خوف رہتا تھا کہ اسکے اوپر اتنی نظریں گڑی ہیں۔ وہ محتاط زندگی گزارتا تھا ۔انکی اجازت کے بغیر کہیں آگح پیچھے نہءں ہوتا تھا ۔ کوئی ایسی بات جو گھر والوں کی ناراضگی کا باعث بنتی تھی، اس سے گریز کرتا تھا۔ لہذا اسوقت کے بچے میں ایک احساسِ ذمہ داری ہوتا تھا ۔جو آجکل کے بچوں میں عموماً مفقود ہے۔
یہ ساری تمہید باندھنے کا مقصد یہ ہے کہ آجکل آئے دن سننے میں آتا ہے کہ ننھے پھول زیادتی کے بعد قتل کر دئیے گئے۔ایسی خبر سنکر سنگدل سے سنگدل شخص بھی تڑپ جاتا ہے۔ یہ سب اب اتنے تواتر سے ہو رہا ہے کہ لگتا ہے شاید ہم درندوں کی بستی میں بستے ہیں. ہمارے اندر انسانیت ختم ہو گئی ہے۔ ہم صرف جنسی درندے بنکر رہ گئے ہیں۔ نفسیاتی و ذہنی طور پر لوگ اتنے مفلوج ہو گئے ہیں کہ وہ اچھے برے کی تمیز ہی بھلا بیٹھے ہیں۔ محرم نا محرم کا فرق ہی نہیں جان پا رہے۔ ذہنی پستی اپنی انتہاوُں کو چھو رہی ہے۔ اس سارے میں معصوم بچوں کا کیا قصور ۔ وہ کیسے ان درندوں سے محفوظ رہ سکتے ہیں جبکہ قدم قدم پہ جنسی بھیڑیئے اپنے ناپاک ارادے لئے کھڑے ہیں۔ سمجھ نہیں آتی کس طریقے سے ان سے اپنی شدید نفرت کا اظہار کریں اور کس طریقے سے ان معصوموں کو ان وحشیوں سے بچا کے رکھیں۔
پہلے تو میں بات کرونگی ان درندوں کی کہ کیسے وہ اس درندگی پر آمادہ ہوتے ہیں اور کیا محرکات ہیں اس سب کے پیچھے؟
یہ عام طور پر وہ لوگ ہوتے ہیں جو اپنی ناآسودہ خواہشات کا بدلہ یہ قبیح فعل کرکے ، لیتے ہیں۔کچھ ایڈونچر کے طور پر ایسی حرکت کرتے ہیں ۔ کچھ ذہنی پستی اور گراوٹ کی انتہا پر پہنچ کر اپنی چند لمحوں کی بھوک مٹانے کے لئے اس بہیمانہ فعل کو انجام دیتے ہیں۔ کچھ نفسیاتی طور پر ، کچھ انتقام کے طور پر۔ دراصل جتنے لوگوں کا اور جن محرکات کا میں نے ذکر کیا یہ دراصل غیر انسانی رویے ہیں۔ ان لوگوں میں جانوروں کی خصلت ہے لیکن جانور بھی اتنا غلیظ نہیں ہوتا جتنے کہ یہ لوگ۔ جبتک ان گرے ہوئے لوگوں کو عبرتناک اور شرعی سزا نہیں ہو گی یہ گندا کھیل جاری رہے گا۔شرعی سزا کی جو تاویلات ہمیں حدیث و فقہ میں ملتی ہیں ان پر ظاہر ہے عمل اتنا آسان نہیں ۔ایک سخت ترین مرحلہ ہے گواہوں کا لانا اور سچی گواہی دینا لیکن میڈیکل سائنس نےاب اتنی ترقی کر لی ہے کہ وہ ہر بات کا ثبوت پیش کر سکتی ہے۔
میں حیران ہوتی ہوں کہ لوگ جانتے بوجھتے ایسے لوگوں سے کیسے تعلق کو نبھا سکتے ہیں۔ مجھے تو سنکر گھن آتی ہے اور انکو ان سے بات کرنے پر بھی کراہت نہیں آتی۔ ایسے لوگ سر عام پھانسی کے مستحق ہیں۔اور اب اسپر اسلامی نظریاتی کونسل اور قانون سازوں کو مل بیٹھکر کوئی سزا تجویز کرنی ہوگی۔
اب میں دوسری بات کی طرف آتی ہوں کہ ان واقعات میں تواتر کیوں آرہا ہے اور کس طبقے میں زیادہ ہے۔ زیادہ تر یہ واقعات لوئر مڈل کلاس میں ہوتے ہیں جہاں باپ فکر معاش میں مبتلا ہوتا ہے اور مائیں چولہا چوکی کی فکر میں سر گرداں ہوتی ہیں۔ بچوں کو وہ توجہ نہیں مل پاتی جو انکا حق ہے۔ اسطرح کے واقعات زیادہ گلی محلے میں کھیلنے والے بچوں کیساتھ پیش آتے ہیں جنہیں کوئ بھی بہلا پھسلا کر اپنے ساتھ جانے پہ آمادہ کر سکتا ہے۔ اس طرح کے واقعات میں زیادہ تر جاننے والے ہی ملوث ہوتے ہیں۔ بعض اوقات محرم رشتے بھی ہوتے ہیں جو ذہنی پستی کی انتہا ہے۔
اپر کلاس میں ایسے واقعات میں زیادہ تر نوکر، ڈرائیور، خانساماں، مالی وغیرہ ملوث ہوتے ہیں کیونکہ وہاں بھی صاب لوگ پیسہ بنانے میں لگے ہوتے ہیں اور بیگمات سماجی رابطے بنانے میں ۔ لہذا انکے بچے نوکروں کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں اور وہی انکے ساتھ یہ غیر انسانی سلوک کرتے ہیں۔ وہاں پہ عام طور پر قتل نہیں کیا جاتا لیکن بچوں کو ڈرایا دھمکایا جاتا ہے ۔انہیں اور انکے والدین کومارنے کی دھمکی دی جاتی ہے۔
دونوں طبقوں میں دیکھیں تو بے توجہی اور لاپرواہی ہی سبب بنتی ہے۔لہذا والدین اور رشتہ داروں کو بہت زیادہ چوکس ہونے کی ضرورت ہوتی ہے۔
والدین سے یہی گزارش کرونگی کہ. خدارا اپنے بچے کوچاہے وہ لڑکا ہے یا لڑکی نوکروں کیساتھ ، رشتہ داروں کیساتھ ، حتیٰ کہ ٹیوٹرز اور قاری کیساتھ بھی تنہا نہ چھوڑیں۔اکیلے باہر نہ بھیجیں۔ آپکی تھوڑی دیر کی غفلت آپکے بچے کی جان لے سکتی ہے ۔
اپنے بچوں کو سمجھائیں کہ وہ کسی سے کوئی چیز نہ لیں، لالچ میں نہ آئیں، ہر ایک کے ساتھ چل نہ پڑیں۔ ہر بات والدین سے یا بڑے بہن بھائیوں سے شیئر کریں۔ ڈریں نہیں جھجکیں نہیں ۔چار سال سے چھوٹی عمر کے بچے کو سمجھایا نہیں جا سکتا لیکن ان پہ نظر رکھی جاسکتی ہے۔ زیادہ واقعات اسی عمر کے بچوں کیساتھ ہوتے ہیں۔اور والدین کی لاپرواہی کیوجہ سے ہوتے ہیں جتنے بھی واقعات اٹھائیں جیسے زینب کا واقعہ۔ تو اسمیں والدین خود موجود ہی نہیں تھے ملک میں اور بچوں کو رشتے داروں کے آسرے پر چھوڑ کر گئے تھے۔ اسی طرح فریال کے واقعے میں بھی لاپرواہی سامنے آتی ہے کہ والدہ کو خبر ہی نہ ہوئی اور بچی دادا کے پیچھے باہر نکلی۔ نہ ماں کو پتہ لگا نہ دادا کو۔ اسی طرح اور بھی بہت سے واقعات ہورہے ہیں ۔ روزانہ ہی کچھ سننے کو ملتا ہے۔ ہری پور کا واقعہ، گلیات کا واقعہ، نوشہرہ کا واقعہ، مردان کا واقعہ۔ کس کس واقعے کا ذکر کروں دل خون کے آنسو روتاہے۔ ایسے لوگوں کے راضی نامے کرانے والے ان سے بھی بڑے گنہگار ہیں جو اس گناہ پر پردہ ڈالتے ہیں۔ وہ بھی انکے گناہ مءں برابر کے شریک ہوئے پھر تو۔شاید میں کچھ زیادہ تلخ ہو گئی ہوں۔ لیکن روزانہ کی بنیادوں پر جب ایسی خبریں سننے کو ملیں تو بندہ تلخ بھی ہو حاتا ہے اور زمیں میں گڑ جانے کو بھی جی چاہتا ہے کہ وہ کیونکر ان درندوں کو ، وحشیوں کو روک سکے۔ اگر ان لوگوں کو قانونی طور پر سزا نہءں ملتی تو الگ بات ہے لیکن اللہ ایسے لوگوں کو نیست و نابود کرے اور کرتا بھی ہے۔
اللہ کریم ہمارے سب بچوں کی حفاظت فرمائے اور ان
شیطانوں سے محفوظ رکھے۔ آمین۔
کب اشک بہانے سے کٹی ہے شب ہجراں
کب کوئی بلا صرف دعاوُں سے ٹلی ہے۔
بچے عطیہُ خداوندی ہوتے ہیں۔ ہماری ساری زندگی بچوں کے لئے ہی کمانے کی فکر میں گزرجاتی ہے۔ لیکن کیا ہم اپنے بچوں کو وہ چیز مہیا کر رہے ہیں جو اسکی اس وقت انکی اہم ترین ضرورت ہے۔ اور وہ ہے والدین کی مکمل توجہ اور وقت۔
آجکل کےوالدین بچوں کو توجہ نہیں دیتے۔ انکا خیال نہیں رکھتے انکی ضروریات زندگی تو پوری کرتےہیں ، انکو ہر قسم کی سہولیات مہیا کرتے ہیں، دنیا جہاں کی آسائشیں انکے قدموں میں ڈھیر کرتے ہیں، لیکن اپنا وقت انکو نہیں دیتے۔آج کا بچہ آپکے وقت کا محتاج ہے۔ پہلے زمانے میں لوگ اپنے بچوں کوبظاہر توجہ نہیں دیتے تھےلیکن انکی بچوں کے ہر فعل پر گہری نظر ہوتی تھی۔ انہیں اپنے بچوں سےمتعلق تمام معاملات کے بارے میں علم ہوتا تھا۔ وہ کہاں ہیں، کیا کر رہے ہیں وغیرہ ۔ دوسرا اسوقت جوائنٹ فیملی سسٹم ہوتا تھا جسمیں اگر والدین کی توجہ بچے سے بٹتی بھی تھی تو دادا دادی، چچا تایا، پھپھو وغیرہ بچوں کا خیال رکھتے تھے۔ یوں بچے کو بھی یہ خوف رہتا تھا کہ اسکے اوپر اتنی نظریں گڑی ہیں۔ وہ محتاط زندگی گزارتا تھا ۔انکی اجازت کے بغیر کہیں آگح پیچھے نہءں ہوتا تھا ۔ کوئی ایسی بات جو گھر والوں کی ناراضگی کا باعث بنتی تھی، اس سے گریز کرتا تھا۔ لہذا اسوقت کے بچے میں ایک احساسِ ذمہ داری ہوتا تھا ۔جو آجکل کے بچوں میں عموماً مفقود ہے۔
یہ ساری تمہید باندھنے کا مقصد یہ ہے کہ آجکل آئے دن سننے میں آتا ہے کہ ننھے پھول زیادتی کے بعد قتل کر دئیے گئے۔ایسی خبر سنکر سنگدل سے سنگدل شخص بھی تڑپ جاتا ہے۔ یہ سب اب اتنے تواتر سے ہو رہا ہے کہ لگتا ہے شاید ہم درندوں کی بستی میں بستے ہیں. ہمارے اندر انسانیت ختم ہو گئی ہے۔ ہم صرف جنسی درندے بنکر رہ گئے ہیں۔ نفسیاتی و ذہنی طور پر لوگ اتنے مفلوج ہو گئے ہیں کہ وہ اچھے برے کی تمیز ہی بھلا بیٹھے ہیں۔ محرم نا محرم کا فرق ہی نہیں جان پا رہے۔ ذہنی پستی اپنی انتہاوُں کو چھو رہی ہے۔ اس سارے میں معصوم بچوں کا کیا قصور ۔ وہ کیسے ان درندوں سے محفوظ رہ سکتے ہیں جبکہ قدم قدم پہ جنسی بھیڑیئے اپنے ناپاک ارادے لئے کھڑے ہیں۔ سمجھ نہیں آتی کس طریقے سے ان سے اپنی شدید نفرت کا اظہار کریں اور کس طریقے سے ان معصوموں کو ان وحشیوں سے بچا کے رکھیں۔
پہلے تو میں بات کرونگی ان درندوں کی کہ کیسے وہ اس درندگی پر آمادہ ہوتے ہیں اور کیا محرکات ہیں اس سب کے پیچھے؟
یہ عام طور پر وہ لوگ ہوتے ہیں جو اپنی ناآسودہ خواہشات کا بدلہ یہ قبیح فعل کرکے ، لیتے ہیں۔کچھ ایڈونچر کے طور پر ایسی حرکت کرتے ہیں ۔ کچھ ذہنی پستی اور گراوٹ کی انتہا پر پہنچ کر اپنی چند لمحوں کی بھوک مٹانے کے لئے اس بہیمانہ فعل کو انجام دیتے ہیں۔ کچھ نفسیاتی طور پر ، کچھ انتقام کے طور پر۔ دراصل جتنے لوگوں کا اور جن محرکات کا میں نے ذکر کیا یہ دراصل غیر انسانی رویے ہیں۔ ان لوگوں میں جانوروں کی خصلت ہے لیکن جانور بھی اتنا غلیظ نہیں ہوتا جتنے کہ یہ لوگ۔ جبتک ان گرے ہوئے لوگوں کو عبرتناک اور شرعی سزا نہیں ہو گی یہ گندا کھیل جاری رہے گا۔شرعی سزا کی جو تاویلات ہمیں حدیث و فقہ میں ملتی ہیں ان پر ظاہر ہے عمل اتنا آسان نہیں ۔ایک سخت ترین مرحلہ ہے گواہوں کا لانا اور سچی گواہی دینا لیکن میڈیکل سائنس نےاب اتنی ترقی کر لی ہے کہ وہ ہر بات کا ثبوت پیش کر سکتی ہے۔
میں حیران ہوتی ہوں کہ لوگ جانتے بوجھتے ایسے لوگوں سے کیسے تعلق کو نبھا سکتے ہیں۔ مجھے تو سنکر گھن آتی ہے اور انکو ان سے بات کرنے پر بھی کراہت نہیں آتی۔ ایسے لوگ سر عام پھانسی کے مستحق ہیں۔اور اب اسپر اسلامی نظریاتی کونسل اور قانون سازوں کو مل بیٹھکر کوئی سزا تجویز کرنی ہوگی۔
اب میں دوسری بات کی طرف آتی ہوں کہ ان واقعات میں تواتر کیوں آرہا ہے اور کس طبقے میں زیادہ ہے۔ زیادہ تر یہ واقعات لوئر مڈل کلاس میں ہوتے ہیں جہاں باپ فکر معاش میں مبتلا ہوتا ہے اور مائیں چولہا چوکی کی فکر میں سر گرداں ہوتی ہیں۔ بچوں کو وہ توجہ نہیں مل پاتی جو انکا حق ہے۔ اسطرح کے واقعات زیادہ گلی محلے میں کھیلنے والے بچوں کیساتھ پیش آتے ہیں جنہیں کوئ بھی بہلا پھسلا کر اپنے ساتھ جانے پہ آمادہ کر سکتا ہے۔ اس طرح کے واقعات میں زیادہ تر جاننے والے ہی ملوث ہوتے ہیں۔ بعض اوقات محرم رشتے بھی ہوتے ہیں جو ذہنی پستی کی انتہا ہے۔
اپر کلاس میں ایسے واقعات میں زیادہ تر نوکر، ڈرائیور، خانساماں، مالی وغیرہ ملوث ہوتے ہیں کیونکہ وہاں بھی صاب لوگ پیسہ بنانے میں لگے ہوتے ہیں اور بیگمات سماجی رابطے بنانے میں ۔ لہذا انکے بچے نوکروں کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں اور وہی انکے ساتھ یہ غیر انسانی سلوک کرتے ہیں۔ وہاں پہ عام طور پر قتل نہیں کیا جاتا لیکن بچوں کو ڈرایا دھمکایا جاتا ہے ۔انہیں اور انکے والدین کومارنے کی دھمکی دی جاتی ہے۔
دونوں طبقوں میں دیکھیں تو بے توجہی اور لاپرواہی ہی سبب بنتی ہے۔لہذا والدین اور رشتہ داروں کو بہت زیادہ چوکس ہونے کی ضرورت ہوتی ہے۔
والدین سے یہی گزارش کرونگی کہ. خدارا اپنے بچے کوچاہے وہ لڑکا ہے یا لڑکی نوکروں کیساتھ ، رشتہ داروں کیساتھ ، حتیٰ کہ ٹیوٹرز اور قاری کیساتھ بھی تنہا نہ چھوڑیں۔اکیلے باہر نہ بھیجیں۔ آپکی تھوڑی دیر کی غفلت آپکے بچے کی جان لے سکتی ہے ۔
اپنے بچوں کو سمجھائیں کہ وہ کسی سے کوئی چیز نہ لیں، لالچ میں نہ آئیں، ہر ایک کے ساتھ چل نہ پڑیں۔ ہر بات والدین سے یا بڑے بہن بھائیوں سے شیئر کریں۔ ڈریں نہیں جھجکیں نہیں ۔چار سال سے چھوٹی عمر کے بچے کو سمجھایا نہیں جا سکتا لیکن ان پہ نظر رکھی جاسکتی ہے۔ زیادہ واقعات اسی عمر کے بچوں کیساتھ ہوتے ہیں۔اور والدین کی لاپرواہی کیوجہ سے ہوتے ہیں جتنے بھی واقعات اٹھائیں جیسے زینب کا واقعہ۔ تو اسمیں والدین خود موجود ہی نہیں تھے ملک میں اور بچوں کو رشتے داروں کے آسرے پر چھوڑ کر گئے تھے۔ اسی طرح فریال کے واقعے میں بھی لاپرواہی سامنے آتی ہے کہ والدہ کو خبر ہی نہ ہوئی اور بچی دادا کے پیچھے باہر نکلی۔ نہ ماں کو پتہ لگا نہ دادا کو۔ اسی طرح اور بھی بہت سے واقعات ہورہے ہیں ۔ روزانہ ہی کچھ سننے کو ملتا ہے۔ ہری پور کا واقعہ، گلیات کا واقعہ، نوشہرہ کا واقعہ، مردان کا واقعہ۔ کس کس واقعے کا ذکر کروں دل خون کے آنسو روتاہے۔ ایسے لوگوں کے راضی نامے کرانے والے ان سے بھی بڑے گنہگار ہیں جو اس گناہ پر پردہ ڈالتے ہیں۔ وہ بھی انکے گناہ مءں برابر کے شریک ہوئے پھر تو۔شاید میں کچھ زیادہ تلخ ہو گئی ہوں۔ لیکن روزانہ کی بنیادوں پر جب ایسی خبریں سننے کو ملیں تو بندہ تلخ بھی ہو حاتا ہے اور زمیں میں گڑ جانے کو بھی جی چاہتا ہے کہ وہ کیونکر ان درندوں کو ، وحشیوں کو روک سکے۔ اگر ان لوگوں کو قانونی طور پر سزا نہءں ملتی تو الگ بات ہے لیکن اللہ ایسے لوگوں کو نیست و نابود کرے اور کرتا بھی ہے۔
اللہ کریم ہمارے سب بچوں کی حفاظت فرمائے اور ان
شیطانوں سے محفوظ رکھے۔ آمین۔
کب اشک بہانے سے کٹی ہے شب ہجراں
کب کوئی بلا صرف دعاوُں سے ٹلی ہے۔
Sunday, March 31, 2019
یوم حساب ۔۔ The Day of Judgement
آج31 مارچ ہے یہ دن ہماری سٹوڈنٹ لائف کا اہم ترین دن ہوتا تھا ۔اسدن بڑے ملے جلے سے احساسات ہوتے تھے۔ کیونکہ رزلٹ اناوُنس ہوتا تھا۔ پاس ہونیوالوں کو عزت اور فیل ہونیوالوں کو شرمندگی کا سامنا ہوتا تھا۔ اسدن کیفیات بڑی مختلف سی ہوتی تھی۔ خوف و خوشی کے ملے جلے احساسات ہوتے تھے۔ رزلٹ کا خوف ،اگلی کلاس میں جانے کی شدید چاہ، نئے علوم و کتب کو جلد از جلد پڑھنے کی کی جستجو، اپنے پچھلے اساتذہ سے بچھڑنے کی اداسی ، چند اک دوستوں سے بچھڑنے کا غم۔۔۔ والدین اور رشتے داروں کی طرف سے تحفے آور پیسے ملنے کی پیشگی خوشی۔ ۔۔۔۔۔ہمارے خاندان میں بچوں کو بہت encourage کیا جاتا رھا انکے اچھے رزلٹ پر۔ تمام قریبی رشتہ داروں سے قیمتی تحائف اور پیسے ملا کرتے تھے۔ غرض اک خوبصورت دن ہوتا تھا۔۔۔۔ سنہرے دن۔
میں اسدن کے احساسات کو آج بھی اسی شدت سے محسوس کر سکتی ہوں۔ الحمداللہ وہ ہمارے لِے ہمیشہ خوشی کا دن ہوتا تھا کیونکہ ہمیشہ پوزیشن لی اور عزت کمائی ۔
لیکن میں کبھی جب غور کرنے بیٹھوں تو ان لوگوں کا سوچ کر دکھ ہوتا ہے جنکو اسدن ناکامی کا منہ دیکھنا پڑتا تھا۔ وہ اتنے مایوس و نامراد لوٹتے تھے کہ انکا دکھ دیکھکر اپنی خوشی پھیکی لگتی تھی۔ لیکن ظاہر ہے محنت آپکو ضرور کچھ دیتی ہے اور سستی یا لاپرواہی نقصان کا ہی باعث بنتی ہے۔
دکھ ان لوگوں کو دیکھکر زیادہ ہوتا تھا جو محنت کرنے کے باوجود نمبر نہیں لے سکتے تھےاور غصہ ان لوگوں کو دیکھکر آتا تھا جو سارا سال نالائقی اور سستی کا مرقع ہوتے تھے اور آخر ی دن پڑھ کے نمبر لے لیتے تھے یا نقلیں مار کے ہم جیسے ایماندار سٹوڈنٹس کا حق مارتے تھے۔ ۔
بہرحال یہ ہماری زندگی کا ایک خوبصورت دن ہوتا تھا۔ میں ابھی بھی اگر اسدن کو سوچوں تو بڑی پیاری یادیں وابستہ ہیں۔ جیسے عید کے دن کی تیاری ہوتی ویسی ہی اسدن کی بھی۔ کیونکہ یونیفارم پہن کے نہیں جانا ہوتا تھا تو نئے کپڑے امی جان سے سلوائے جاتے تھے۔ میچنگ جوتے وغیرہ ساتھ ہوتے ۔ اک عجیب سماں ہوتا تھا۔آج کے بچوں کے شاید وہ جذبات نہ ہوں یا ہم ہی بہت سادہ مزاج کے بچے ہوتے تھے۔ تھوڑے میں خوش رہنے والے۔ قناعت پسند۔
اس دن کو اگر میں یوم حساب کے دن سے تعبیر کروں تو بےجا نہیں ہوگا۔ اسدن جنکا نامہ اعمال بھاری ہو گا ، جنہوں نے اللہ کی راہ کے لئے محنت کی ہوگی، اللہ کی بتائی ہوئی حدود و قیود کا خیال رکھا ہو گا ۔۔ اسکے رستے پہ چلے ہونگے۔۔۔اسدن وہ خوشحال ہونگے اور انکا نامہُ اعمال انکے دائیں ہاتھ میں ہوگا اور وہ کلاس میں فرسٹ آنیوالے بچوں کیطرح بے اندازہ خوش ہونگے۔ جبکہ وہ لوگ جنہوں نے اپنی سستی، کوتاہی اور کاہلی کی وجہ سے کم نمبر حاصل کئے ہونگے یا اپنی نااہلی کی وجہ سے فیل ہوئے ہونگے تو اسدن انکو نامہُ اعمال انکے بائیں ہاتھ میں ملے گا اور وہ افسوس کر رہے ہونگے۔ ہاتھ مل رہے ہونگے۔ لیکن اب تو کچھ نہیں ہو سکتا۔شرمندگی کے مارے وہ چہرے چھپا رہے ہونگے۔ لیکن کوئی حل نہیں اب۔ کوئی شرمندگی، کوئی معافی کام نہیں آئیگی۔
يَآ اَيُّـهَا الْاِنْسَانُ اِنَّكَ كَادِحٌ اِلٰى رَبِّكَ كَدْحًا فَمُلَاقِيْهِ (6)
اے انسان! تو اپنے رب کے پاس پہنچنے تک کام میں کوشش کر رہا ہے پھر اس سے جا ملے گا۔
فَاَمَّا مَنْ اُوْتِىَ كِتَابَهٝ بِيَمِيْنِهٖ (7)
پھر جس کا اعمال نامہ اس کے دائیں ہاتھ میں دیا گیا۔
فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَّسِيْـرًا (8)
تو اس سے آسانی کے ساتھ حساب لیا جائے گا۔
وَيَنْقَلِبُ اِلٰٓى اَهْلِهٖ مَسْرُوْرًا (9)
اور وہ اپنے اہل و عیال میں خوش واپس آئے گا۔
وَاَمَّا مَنْ اُوْتِـىَ كِتَابَهٝ وَرَآءَ ظَهْـرِهٖ (10)
اور لیکن جس کو نامہٴ اعمال پیٹھ پیچھے سے دیا گیا۔
فَسَوْفَ يَدْعُوْا ثُبُوْرًا (11)
تو وہ موت کو پکارے گا۔
وَيَصْلٰى سَعِيْـرًا (12)
اور دوزخ میں داخل ہوگا۔
اِنَّهٝ كَانَ فِىْ اَهْلِهٖ مَسْرُوْرًا (13)
بے شک وہ اپنے اہل و عیال میں بڑا خوش و خرم تھا۔
اِنَّهٝ ظَنَّ اَنْ لَّنْ يَّحُوْرَ (14)
بے شک اس نے سمجھ لیا تھا کہ ہرگز نہ لوٹ کر جائے گا۔
بَلٰٓى ۚ اِنَّ رَبَّهٝ كَانَ بِهٖ بَصِيْـرًا (15)
کیوں نہیں، بے شک اس کا رب تو اس کو دیکھ رہا تھا۔
((سورہ انشقاق ۔۔پارہ 30))
دنیا کے رزلٹ میں تو موقع ہوتا ہے پلٹنے کا رجوع کرنے کا لیکن اسدن کوئی موقع کوئی ندامت ، کوئی رجوع نہیں ہوگا۔ لہذا ہم سب کے لئے لمحہُ فکریہ ہے کہ آج اگر اللہ کریم نے ہمیں دنیا میں، دنیاوی معاملات میں سرخرو کیا ہے تو ہمیں آخرت کے دن بھی ایسی ہی کامیابی اور خوشی مرحمت فرمائے آمین۔
آپ لوگ سوچیں گے کہ ایک ہلکی پھلکی تحریر میں سنجیدگی کا عنصر شامل کر دیا تو عرض یہی ہے کہ دنیا کی زندگی تو عارضی ہے جسمیں ہم اسکے پیچھے بھاگتے چلے جاتے ہیں۔ ابدی ٹھکانے کا بھی کچھ سوچیں کہ کل کو ہمیں جہاں رہنا ہے اور وہی ابدیت ہوگی۔ اللہ کے پیاروں میں ہوئے تو اللہ اپنے پیاروں کی طرح خاطر داری کریگا خوبصورت باغ عطا کریگا ، جہاں نہریں بہہ رہی ہوں گی اور چشمے پھوٹ رہے ہونگے کوئی غم نہیں ، کوئی درد نہیں، کوئ فکر نہیں، کوئی حزن نہیں ، کوئی ملال نہیں، بس اک سکون، اطمینان اور خوشی ہی ہر سو ہو گی۔ایسی زندگی کی تمنا کون نہیں کرتا۔
دنیا کے امتحان میں کامیاب ہونیوالے بعض اوقات بہت کامیابیاں حاصل نہیں کرپاتے لیکن اللہ کے رستے پر چلنے والوں سے انکے رب کا وعدہ ہے جو ضرور پورا ہوگا کیونکہ وہ کبھی اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔ لہذا اس امر پر ضرور سوچئے اور دنیا کے ساتھ آخرت کا امتحان پاس کرنے کی بھی کوشش کیجئے۔
اللہ ہمیں دنیا و آخرت کی بھلائیاں عطا فرمائے آمین۔
Tuesday, February 19, 2019
Role of Women in Environment / Agriculture ماحولیات /زراعت میں عورت کا کردار
ہمارے ہاں عورتوں کو صرف چار دیواری تک محدود سمجھا جا تا رہا ہے۔ لیکن اللہ کا شکر ہے کہ اب خواتین زندگی کے ہر شعبے میں اپنا ہنر، اپنی تعلیم اور اپنا فن سکھاتی نظر آتی ہیں۔ تدریس کا شعبہ ہو یا طب کا ، نرسنگ ہو یا ہوسٹنگ،ٹی وی سکرین ہویا براڈ کاسٹنگ، پولیس ہو یا آرمی ، بنک ہو یا عدالت ، صحافت ہو یا میزبانی، سرکاری دفاتر ہوں یا غیر سرکاری ادارے، قانون سازی ہو یا بیوروکریسی ہر جگہ خواتین اپنی ذہانت، فطانت اور فکر و تدبر کیساتھ کام کرتی نظر آتی ہیں۔
ان شعبوں کے علاوہ بھی بہت سے ایسے شعبے ہیں جہاں خواتین کام تو کر رہی ہیں لیکن انہیں وہاں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ شہروں میں کام کرنے والی خواتین تو کافی حد تک خودکفیل ہوتی ہیں لیکن دیہاتوں میں کھیتوں میں کام کرنیوالی خواتین مکمل طور پر اپنے مردوں پر انحصار کرتی ہیں۔
پاکستان ایک زرعی ملک ہےجسکا 70 فیصد انحصار زراعت پر ہوتا ہے۔ ہمارے ملک میں مردوں کیساتھ ساتھ دیہات میں عورتیں بھی زراعت و گلہ بانی اور مویشیوں کی دیکھ بھال کرنے کا کا م کرتی ہیں ۔ یہ عورتیں نا صرف اپنے مردوں کا زراعت میں ہاتھ بٹاتی ہیں بلکہ جنگل سے لکڑی کاٹنے،ایندھن لانےاور دور دراز سے پانی لانے کا کام بھی یہی عورتیں کرتی ہیں۔ کام میں ہاتھ تو وہ پورا بٹاتی ہیں لیکن انکو نہ اجرت مردوں کے مقابلےمیں ملتی ہے اور نہ ہی باقی سہولتیں و آسانیاں ۔ہمارے ہاں تومزارعے کو چاہے وہ مرد ہی کیوں نہ ہو کوئی خاص اجرت اور سہولت نہیں ملتی تو عورتوں کو تو بہت ہی مشکل ہے۔
ہمارے ملک میں پدرسری معاشرہ رائج ہے جو عورتوں کو اتنی آسانی سے سہولتیں فراہم نہیں کرتا۔ بہت ہی کم عورتیں ایسی ہونگی جنکی اپنی زمین ہو اور وہ اس پر کھیتی باڑی یا زمینداری کرتی ہوں۔ سو میں سے کوئی ایک آدھ ایسی مثال ملے گی۔ ہمارے ملک میں پنجاب اور سندھ کے علاقوں میں خواتین کھیتوں میں کام کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں خواتین زیادہ تر گھر میں مویشیوں کی دیکھ بھال تو کرتی ہیں لیکن کھیتوں میں یا زمینداری میں انکا زیادہ عمل دخل نہیں ہوتا۔
جو خواتین کھیتوں میں اپنے مردوں کے شانہ بشانہ کام کرتی ہیں تو انکو سہولیات بھی ویسی ہی ملنی چاہئیں۔
ان خواتین کو معاشی استحکام فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ تاکہ انکو اپنے اخراجات کے لئے دوسروں کے ہاتھوں کیطرف نہ دیکھنا پڑے۔
کچھ خواتین کی ذاتی زمین ہوتی ہے جو انکو وراثت میں ملتی ہے۔ لیکن وراثتی زمین انکے شوہروں ، بھائیوں یا بیٹوں کے حصے میں چلی جاتی ہے۔ جبکہ اگر وہ کام کر رہی ہیں تو انکو انکاحصہ ملنا چاہئیے نا کہ وہ کسی کی محتاج بن کے رہیں۔ یا اگر وہ زمین خریدنے کا قصد کرتی بھی ہیں تو اس مقصد کے لئےبھی انکو اپنے ساتھ کسی مرد کو رکھنا ضروری ہوتا ہے ورنہ انکو زمین کی ملکیت ملنی ناممکن تو نہیں لیکن مشکل ضرور بنا دی جاتی ہے۔ ایسی خواتین کےلئے زمین خریدنے کا حصول آسان بنایا جائے۔
خواتین زمینداروں کو آسان اقساط پر قرضے ملنے چاہئیں۔
ایسی خواتین جو فصلوں، بیجوں اور کھتی باڑی کی سمجھ رکھتی ہیں لیکن وسائل اور آمدن کی کمی کی وجہ سے اپنے کام کو جاری نہیں رکھ سکتیں ۔ حکومت کو چاہئیے کہ وہ انہیں چھوٹے قرضے فراہم کرے۔ انہیں اچھے بیج اور کھاد مہیا کرے۔
زمینداریا کسان خواتین کو حکومت کی طرف سے تربیتی پروگراموں کا انعقاد کرنا چاہئیے۔ انہیں اچھی نسل کے بیج ، اسکی درست بوائی کے طریقے اور اچھی فصل کی کاشت سے روشناس کرایا جائے۔
اسی طرح وہ خواتین جنکا کوئی سہارایا ذریعہ آمدن نہیں ہوتا نہیں ہوتا ان کے لئے حکومت کو چاہئیے کہ کچن گارڈننگ کے پروگرامز کو فروغ دیں۔ یعنی انکو چھوٹی چھوٹی جگہوں پر پھل، سبزیاں اور جڑی بوٹیاں لگانے کے طریقے سکھائیں تاکہ وہ اپنا روز گار کما سکیں ۔
اسی طرح وہ علاقے جہاں پٙھلوں کے باغات زیادہ ہوتے ہیں حکومت محکمہ زراعت کے ذریعے وہاں کی خواتین کو فاضل اور زیادہ پکا ہوا پھل محفوظ کرنے کے طریقے سکھائے۔ ان پھلوں کو سُکھانے، انکو محفوظ کرنے، ان کے مربے ، جیم، جیلی اور چٹنیاں بنانے کے طریقے سکھائے جائیں۔
اسکے علاوہ خواتین چونکہ ماحولیات سے، فطری طور پر زیادہ لگاوُ رکھتی ہیں تو انکو موسمی پُھول جو کہ آجکل مختلف مواقع پر بڑی مانگ میں ہیں۔ حکومت انکے لگانے اور انکی حفاظت کرنے کے طریقے سکھائے۔اور کس طرح انہیں چند دنوں تک محفوظ کیا جا سکتا ہے۔ یہ سب وہ گھر بیٹھے کرنے سے اپنا روزگار کما سکتی ہیں۔
اسی طرح ان ڈور پلانٹس بھی بہت مانگ میں ہیں ۔انکو صرف اچھی دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہے وہ خواتین اپنی فطری صلاحیت سے کر سکتی ہیں اور ان پودوں سے ایک منافع بخش کاروبار کر سکتی ہیں۔
اسکے علاوہ خواتین گلہ بانی اور مویشیوں کی افزائش میں بھی اپنے مردوں کا ہاتھ بٹاتی ہیں۔توحکومت کو چاہئیے کہ انکو مویشی آسان اقساط پر فراہم کئے جائیں اور ساتھ ہی انکو پولٹری اور ڈیری فارمنگ سے متعلق معلومات بھی فراہم کی جائیں ۔
یہ ناصرف حکومت کی زمہ داری ہے بلکہ سول سوسائٹی کے لوگوں کا بھی فرض بنتا ہے کہ وہ خواتین کو مالی طور پر مستحکم کرنے میں ان تمام کاموں میں حصہ لیں۔
اس طرح انکو گھرسے دور بھی نہیں جانا پڑے گا اور گھر کے قریب اپنی زمینوں پر وہ ان پودوں اور فصلوں کو اگا کر اپنا روزگار کما سکتی ہیں۔ویسے بھی آجکل بہت سے لوگ دوبارہ سے organic food (دیسی خوراک ) کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔ وہ ان خواتین سے ڈائریکٹ آکر اپنی ضرورت کی چیزیں دیسی انڈے، دیسی مرغیاں اور خالص دودھ اور اس سے بنی مصنوعات خرید سکتے ہیں۔یہ دیسی خوراک یا organic food کے فروغ کیطرف بھی ایک مثبت قدم ہو گا۔
پانی اسوقت وقت کی اہم ترین ضرورت ہے جسکو ضائع ہونے سے بچانے کے لئے بھی ان خواتین کی تربیت کی جانی چاہئیے ۔ خواتین فطری طور پر کفایت شعار ہوتی ہیں۔دور دراز سے پانی لانے کا کام بھی انہی کے ذمے ہوتا ہے۔ لہذا انکو آگاہی پروگراموں کے ذریعے پانی کی قدرو قیمت کے بارے میں بتانے کی ضرورت ہے۔
حکومت اگر ان تمام خطوط پر سنجیدگی سے عملی کام کرے اور ان خواتین کو صرف گھروں تک محدود نہ رہنے دے اور انکو یہ تمام سہولتیں فراہم کرے جنکا ذکر کیا گیا ہے تو وہ یقیناً ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کرینگی۔ اپنے گھروں میں وہ یہ سارے کام تو کرتی ہیں لیکن انکا صلہ انہیں کچھ نہیں ملتا۔ لہذا آج کی دیہاتی عورت کو بھی معاشی طور پر مستحکم کرنے کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے۔
Women and Environment
Environmental hazards have become a major global issue this century. Pakistan is one of the highly vulnerable countries to climate change.Major environmental issues currently confronting Pakistan include climate change, water, energy, pollution and waste management, salinity and water logging, irrigated agriculture, biodiversity and more that are too numerous to count. These hazards are not only impacting the national, social and economic landscape but the human being living here especially Women.Man-made interferences in this natural systems are the chief reasons behind this problem.
The developing world's 1.3 billion rural poor make up the world's largest group of natural sources managers. Understanding their roles and responsibilities including the gender discrimination of natural resource management . It is a starting point for reserving environmental degradation. Women have a major role in this regard. Women manage natural resources daily in their roles as farmers and household providers . Typically they are responsible for growing subsistence crops and often have unique knowledge of local crop species.To meet family needs, rural women and girls walk long distances to get fuel, wood and water. Women have less access to and control over Natural Resources than men. Being the resident of mountainous area I'm eye witness to this. Usually it is men who put land water ,plants and animals to commercial use which is unfortunately more valued than women for domestic uses .
Gender inequality is most evident in access to land . Our custom prohibits women for owing land . Landless rural women often depend on common property resources for fuel wood, fodder and food. Without secure land rights ,farmers especially women farmers have limited access to credit and little incentives to invest in improved management. Women are more likely to make environmentally sound land, management decisions when they have secure ownership and know they can benefit.
Improved water management, especially irrigation is critical to higher agricultural productivity. Women farmers have limited access to irrigation networks . Women's limited water entitlements force them to use subsistence agricultural practices that may lead to soil erosion , a major source of instability in watersheds .To protect the natural resources rural women and men must be empowered to participate in decisions that affect their needs and vulnerabilities .
In a survey, balancing work life with family life is the number of career concern for both men n women with about half of both genders saying it is a major concern. Yet on a variety of indicators women seem more concerned about achieving it. Women can manage home better as well as job as compared to men .Even these women can play their role in kitchen gardening. It is an efficient and productive way of earning for women who are usually illiterate and have farming skills.
The survey also reports that women are more stressed out on finances than men, the more ability to pay of credit card, debt or student loans as a big concern. They are also more concerned about getting a raise and given a gender wage gap, this is not surprising . In another survey 31% of women said they thought they would be paid more if they were a man .The imbalance ends up affecting women more than men who are still thought of as the default caretakers . While more than 20% women are out of workplace and 0.8% men are taking care of children. Working mothers spend double the time than fathers do on raising children and they end up putting in half the hours that men do in paid employment .
If these women are given equal opportunities to men they can excel in this field.
Modern Technology should be introduced .They should be given modern trainings and skills.
They should be provided with small scale loans and other such incentives so that they can work independently .
If these women are given equal opportunities to those of men they will bring revolutionary changes in the field of Agriculture as well as maintaining favourable Environment .
Women are the best human being who can save environment. Women should be encouraged and empowered to utilize their skills in productive works especially undertake the pro-environmental activities that are beneficial not to their surroundings only but bring an overall positive impact.
The developing world's 1.3 billion rural poor make up the world's largest group of natural sources managers. Understanding their roles and responsibilities including the gender discrimination of natural resource management . It is a starting point for reserving environmental degradation. Women have a major role in this regard. Women manage natural resources daily in their roles as farmers and household providers . Typically they are responsible for growing subsistence crops and often have unique knowledge of local crop species.To meet family needs, rural women and girls walk long distances to get fuel, wood and water. Women have less access to and control over Natural Resources than men. Being the resident of mountainous area I'm eye witness to this. Usually it is men who put land water ,plants and animals to commercial use which is unfortunately more valued than women for domestic uses .
Gender inequality is most evident in access to land . Our custom prohibits women for owing land . Landless rural women often depend on common property resources for fuel wood, fodder and food. Without secure land rights ,farmers especially women farmers have limited access to credit and little incentives to invest in improved management. Women are more likely to make environmentally sound land, management decisions when they have secure ownership and know they can benefit.
Improved water management, especially irrigation is critical to higher agricultural productivity. Women farmers have limited access to irrigation networks . Women's limited water entitlements force them to use subsistence agricultural practices that may lead to soil erosion , a major source of instability in watersheds .To protect the natural resources rural women and men must be empowered to participate in decisions that affect their needs and vulnerabilities .
In a survey, balancing work life with family life is the number of career concern for both men n women with about half of both genders saying it is a major concern. Yet on a variety of indicators women seem more concerned about achieving it. Women can manage home better as well as job as compared to men .Even these women can play their role in kitchen gardening. It is an efficient and productive way of earning for women who are usually illiterate and have farming skills.
The survey also reports that women are more stressed out on finances than men, the more ability to pay of credit card, debt or student loans as a big concern. They are also more concerned about getting a raise and given a gender wage gap, this is not surprising . In another survey 31% of women said they thought they would be paid more if they were a man .The imbalance ends up affecting women more than men who are still thought of as the default caretakers . While more than 20% women are out of workplace and 0.8% men are taking care of children. Working mothers spend double the time than fathers do on raising children and they end up putting in half the hours that men do in paid employment .
If these women are given equal opportunities to men they can excel in this field.
Modern Technology should be introduced .They should be given modern trainings and skills.
They should be provided with small scale loans and other such incentives so that they can work independently .
If these women are given equal opportunities to those of men they will bring revolutionary changes in the field of Agriculture as well as maintaining favourable Environment .
Women are the best human being who can save environment. Women should be encouraged and empowered to utilize their skills in productive works especially undertake the pro-environmental activities that are beneficial not to their surroundings only but bring an overall positive impact.
Monday, February 18, 2019
بچے ہمارے عہد کے۔۔۔۔۔۔۔۔Children of our Era
آج میرا موضوع سخن ہے بچے۔ میں ایک ماں ہوں اور ماں کی ممتا بلا تمیز و امتیاز سب بچوں کے لئے یکساں ہوتی ہے۔ میرے لئے 25 سال کا جوان بھی بچہ ہے۔ لہذا میرا موضوع سخن چھوٹے بچوں سے لیکر نوجوانوں تک رہے گا۔ آج کے بچے میں اور ہمارے دور کے بچے میں بہت نمایاں فرق ہے۔ ہم ہوتے تھے معصوم، بھولے بلکہ بدھو اور آج کا بچہ ہوشیار، موقع پرست،حاضر جواب ، انتہائی ذہین۔ ہمارے دور میں ذہانت ناپنے کاپیمانہ کلاس میں پوزیشن لینا ہوتی تھی۔ جبکہ آج کے بچے کی ذہانت تعلیمی قابلیت سے نہیں اسکی حاضر جوابی اور مفاد پرستی سے ظاہر ہوتی ہے۔ وہ کیسے موقع محل کے مطابق بات کرکے اپنے بڑوں کو بھی لاجواب کر دیتا ہے ۔ اور اسے پتہ ہے کہاں اسے موقعے سے فائدہ اٹھا کر اپنی بات منوانی ہے۔ آج کا بچہ بلا کاپُر اعتماد ہے۔ یہ اعتماد یقیناً جدید دور کے والدین کا دیا ہوا ہے۔ اگر یہ اعتماد تہذیب کے دائرے میں ہو تو کوئی قباحت نہیں۔ لیکن اگر حد سے بڑھ جائے تو مسئلہ بن جاتاہے ناصرف والدین کے لئے بلکہ پورے معاشرے کے لئے۔
ہمارے والدین کی سوچ ہوتی تھی کھلاوُ سونے کا نوالہ اور دیکھو شیر کی نظر سے۔ اسی لئے ہم تمام آسائشوں اور سہولیات کے باوجود والدین کی ایک نگاہ سے بھی ڈر جاتے تھے۔ وہ صرف خوف یا ڈر نہیں تھا بلکہ محبت بھرااحترام ہو اکرتا تھا ۔ دراصل ہم جس سے محبت کرتے ہیں اسکی محبت کی وجہ سے ایسا کوئی کام نہیں کرتے کہ وہ ناراض ہو جائے، دراصل وہ انکی ناراضگی کا خوف ہوتا تھا۔ یہ اس وقت کے تمام بچوں کی تربیت کا حصہ تھا۔ بڑے بڑے طُرم خان اپنے والدین خاص طور پر والد کے سامنے بات کرتے ہوئے گھگھیاتے تھے۔ یہ بظاہر کمیونیکیشن گیپ ضرور تھا لیکن یہ دور ایک رکھ رکھاوُ ایک تہذیب کا آئینہ دار تھا۔
آج کا بچہ ذہین ، حاضر جواب اور پراعتماد تو ضرور ہے لیکن اس میں وہ رکھ رکھاوُ ، وہ تہذیب نہیں جسکے تحت ہماری تربیت ہوئی۔آج کے والدین نے کمیونیکیشن گیپ کے نام پر بچوں کو کچھ زیادہ ہی فرینک اور نڈر بنا دیا۔ وہ بلاجھجک اپنی بات کرتا ہے۔ آج کے بچے میں برداشت کامادہ انتہائی کم ہے۔وہ رو کے ، چِلاکر ،سانس روک کے ، اپنی بات منوالیتا ہے۔ اسکی یہی بات ماننی اسے ضدی بناتی ہے۔وہ سمجھتا ہے کہ ہر چیز اسکے تابع ہے۔ اور وہ ہر چیز حاصل کر سکتا ہے۔ اسکو میں کسی حد تک والدین کی کمزوری بھی کہوں گی۔ کیونکہ وہ بچے کی جا بے جا ہر بات مانتے چلے جاتے ہیں۔ بچے کی بات ضرور مانیں لیکن اعتدال میں رہتے ہوئے جیسے اگر وہ کسی چیز کی فرمائش کرتا ہے اسکے لئے مچلتا ہے تو اسکو وہی چیز نہ لیکر دی جائے بلکہ اسی سے ملتی جلتی کوئ اور چیز دلائی جائے اور رسان سے اسے سمجھایا جائے کہ کیا درست ہے اسکے لیئے اور کیا نہیں. آج کا بچہ دلیل سے قائل ہونیوالا بچہ ہے۔ لہذا والدین کو اپنے بچوں کی نفسیات سے واقفیت ہونی بہت ضروری ہے۔ اور یہ کوئی اتنی مشکل بات نہیں۔ بچے سے دوستانہ ماحول میں اسکی پسند ناپسند ، اسکے مشاغل ، اسکے شوق کے متعلق بات کرنی چاہئں تاکہ آپ اسکی نفسیات سے واقف ہوں۔ بہت سے بچے مشکل بچے ثابت ہوتے ہیں۔دوسروں پر کُھلتے نہیں۔ لیکن پیار اور دوستانہ ماحول انکو اپنے والدین کے قریب لے جاتا ہے۔
ہمارا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ ہمارے آج کے والدین میں بھی توازن نہیں ۔ اگر والد سخت ہیں تو والدہ انتہائی نرم اور اگر والد نرم مزاج ہیں تو والدہ انتہائی اصولی اور سخت گیر۔ یوں بچے بھی شدت پسندی کا شکار ہو جاتے ہیں بعض اوقات وہ اپنے ساتھ اس مسئلے کی وجہ سے دبی شخصیت کا شکار ہو جاتے ہیں یا ضرورت سے زیادہ خوداعتماد ہو جاتے ہیں ۔ اور یہ دونوں شدتیں ہی بچوں کی شخصیت پر منفی اثرات ڈالتی ہیں۔
اگر میں کچھ پہلے دور کی بات کروں تو وہ یہ کہ والدین گو کہ سختی کرتے تھے لیکن انہوں نے بچوں کو اخلاقیات کا ethics کا درس دیا تھا۔ والدہ اگر نرم مزاج ہوتی بھی تھی تو وہ والد کی سرزنش کے دوران کبھی بچے کی حمایت نہیں کرتی تھی۔ ان والدین نے بچے کی تربیت میں اپنا وقت دیا جبکہ آج کے والدین وقت کی کمی کا شکار ہیں ۔وہ اپنے بچوں کو جدید کھلونے اور gadgets تو پکڑا دیتے ہیں لیکن تربیت نہیں کرتے ، اچھے برے کی تمیز نہیں سکھاتے اور سب سے بڑھ کر وقت نہیں دیتے۔ جسکی وجہ سے آج کا بچہ رشتوں سے دور اور مشینوں سے قریب ہے۔ اور یہی مشینیں اسکی تربیت کر رہی ہیں۔ بہت سے والدین کو قطعی علم نہیں کہ انکے بچے کیاچیز استعمال کرتے ہیں اور کیسے۔ بہت سے والدین نئی ٹیکنالوجی سے نابلد ہیں۔ لیکن وہ بھی فخریہ اپنے بچوں کو یہ تمام جدید آلات خرید کر تو دیتے ہیں۔انہیں جیب خرچ کے نام پر بھاری رقوم دیتے ہیں۔ لیکن نظر نہیں رکھتے کہ وہ کیسے استعمال کر رہا ہے اور اسپر یہ چیزیں مثبت اثرات ڈال رہی ہیں یا منفی۔
آجکل جو چند واقعات میری نظر سے گزرے اسکا ذمہ دار میں کسے ٹھراوُں ۔آج کے بچوں میں خودکشی کابڑھتا ہوا رجحان ۔۔عدم برداشت پرمار پیٹ یا قتل کا اقدام۔والدین ، اساتذہ اور پڑھائی کےدباوُ و تناوُ کی وجہ سے نو عمر بچوں کا ہارٹ فیل ہوجانا ۔لوئر مڈل کلاس میں بچوں کا گھر سے بھاگ جانا۔۔۔ شاگرد کا استاد کو قتل کر دینا ۔۔۔۔ نوعمر بچوں کا منشیات کااستعمال ۔۔۔۔۔ یہ سب کیا ہے؟؟؟_
اگر میں تمام عوامل کو اکٹھا کروں کہ آج کا بچہ کس نہج پر چل رہا ہے اور کیا وہ مثبت ہے ؟ تو اسکی مختلف وجوہات ہونگی۔ کچھ پر میں بات کر چکی ہوں اور کچھ پر کرنا باقی ہے لہذا نمبر وار اگر اسکو لیں تو
1) والدین کا حد سے زیادہ لاڈ پیار
2) والدین کا بچوں کی جائز ناجائز خواہشات پوری کرنا
3) بچوں کی درست خطوط پر تربیت نہ کرنا( اسمیں دینی اور دنیاوی تربیت شامل ہے یعنی اخلاقیات )
4) انگریزی تعلیم کے نام پر بچوں کو ایسے سکولوں میں بھیجنا جو اصل ثقافت سے دور کر رہے ہیں اور مغربی معاشرے کی ترویج کر رہے ہیں )
5) بچوں کو بزرگوں کی صحبت سے دور رکھنا( پہلے وقتوں میں دادیوں نانیوں کا اہم کردار ہوتا تھا تربیت میں)
6) اساتذہ کا بچوں کو تعلیم تو دینا لیکن تربیت نہ کرنا۔ اخلاقیات نہ سکھانا۔ صرف کتابی علم سے مستفید کرنا۔
7) آج کے بچوں کو اپنے اسلاف کے کارناموں سے کوئی واقفیت نہیں۔ بلکہ مغربی طرز کے اداروں میں انپر تنقید کی جاتی ہے۔
8)پہلے وقتوں میں محلے ، کالونی کے بچے آپس میں اکٹھے کھیلتے تھے اور یوں ایکدوسرے سے بہت کچھ سیکھتے تھے۔ آج کا بچہ اگر کھیلے توآپس کی لڑائی کی والدین کی لڑائی بن جاتی ہے۔ جو خونخوار نتائج کا پیش خیمہ بنتی ہے۔
9) تحمل و برداشت جسکی پہلے بچوں کو تربیت دی جاتی تھی۔ وہ اب مفقود ہو گئی ہے۔ انہیں اینٹ کا جواب پتھر سے دینا سکھایا جاتا ہے۔
10) پہلے وقتوں میں استاد کی عزت والد کی عزت پر مقدم ہوتی تھی۔ والدین استاد کی شکایت لگانے پر الٹا بچے کی سرزنش کرتے تھے جبکہ آج کے والدین فوراً لٹھ لیکر استاد کے پیچھے پڑ جاتے ہیں۔ اورانکے لئے بغض و عناد دل میں رکھتے ہیں ایسے میں بچہ کیسے استاد کی عزت کر سکتا ہے ۔
11) آج کا استاد بھی مشینی انداز میں کام کرنے کا عادی ہو گیا ہے۔ یعنی اسے بچے کی پوزیشن سے غرض ہے اسکے کردار سے نہیں ۔ پہلے کے استاد سارا زور کردار سازی پہ دیا کرتے تھے۔
12) کتاب کی جگہ اب ٹیبلٹ نے لے لی ہے۔ پہلے بچہ اچھی کتب پڑھتا تھا ۔ جس سے اسکی ذہنی نشو و نما ہوتی تھی۔ جو کہ اب اسطرح سے ممکن نہیں ۔
13) پہلے بچہ آوُٹ ڈور کھیلوں میں مگن ہوتا تھا۔ اسطرح وہ ذہنی اور جسمانی طور پر فٹ رہتا تھا۔ آجکا بچہ ن ڈور گیمز میں زیادہ وقت گزارتا ہے ۔اسکی آوُٹ ڈور ایکٹیویٹیز انتہائی کم ہوگئی ہیں۔ جس سے اسکی ذہنی وجسمانی نشو و نما متاثر ہوئی ہے۔
یہ تو چند ایک وجوہات ہیں جو میں یہاں بیان کر سکی ہوں۔ بہت سی ایسی باتیں ہیں جنکا ذکر یہاں نہیں ہو سکا۔
آج اور کل کے بچے کے درمیان موازنہ کرنے کی ایک وجہ یہ تھی آج کا بچہ پراعتماد اور ذہین تو ہے ہی لیکن اسکے ساتھ منہ پھٹ بھی۔ برداشت کی کمی کی وجہ سے وہ بڑے چھوٹے کا لحاظ کرنے سے قاصر ہے۔ اسمیں ضد اور انا کوٹ کوٹ کے بھری ہے۔ انا کی بجائے اگر اسے خودداری کا درس دیا جاتا تو حالات مختلف ہوتے۔
بہرحال مقصد تنقید کرنا نہیں ہے بلکہ اپنے بچوں کی تربیت اخلاقیات اور دینی تعلیمات کے دائرے میں کرنے کی ضرورت ہے۔ انہیں صحتمندانہ سرگرمیوں کی طرف راغب کرنے کے اشد ضرورت ہے۔ ہم نے بچوں پر کتابوں کا بوجھ تو لاد دیا ہے لیکن انکی تربیت سے لاپروا ہو گئے ہیں.ہمیں اپنے بچے کو ایک بہترین انسان بنانے کے لئے اسکے ساتھ وقت بتانا ہوگا۔ اسکی ذہانت کو مثبت انداز میں ڈھالنا ہو گا اور اسکی خوداعتمادی کو اخلاقی اقدارکے ذریعے اجاگر کرنا ہوگا ۔ یہی آج کے والدین کی اور اساتذہ کی سب سے بڑی ذمہ داری ہے ۔ استاد کی توجہ دلانے کی بھی کوشش کی ہے کہ صرف تعلیم نہ دیں، کتابی علم سے مستفید نہ کریں بلکہ تربیت اور کردار سازی پہ توجہ دیں جو کہ اساتذہ کا وصف تھا یہیں سے اچھی قوم بنے گی۔ جو ملک وملت کا نام روشن کریگی۔
اللہ کریم ہمیں اور ہمارے بچوں کو حکمت عطا کرے آمین
Subscribe to:
Posts (Atom)